Showing posts with label افریقہ. Show all posts
Showing posts with label افریقہ. Show all posts

Wednesday, August 21, 2013

مصری فوج کی صدر مُرسی کو دورانِ حراست شہید کرنے کی سازش

   مصر میں فوج کی جانب سے قائم کی گئی حکومت نے انسانیت سوز مظالم کے باوجود اخوان المسلمون کی مزاحمت کو کمزور کرنے میں ناکامی کے بعد منتخب صدر محمد مُرسی کو دوران حراست شہید کرنے کی سازش کی ہے۔

مصر کی سرکاری خبر ایجنسی نے فوجی حکام کے ریفرنس سے دعوایٰ کیا ہے کہ ملک کے پہلے منتخب اور اسلام پسند صدر محمد مرسی نے پیر کی رات جیل میں چاقو سے خود کشی کی کوشش کی ہے۔ نیوز ایجنسی نے مزید دعویٰ کیا کہ موقع پر موجود فوجیوں نے انہیں اس اقدام سے روک کر بچا لیا ہے۔

 اخوان کے ترجمان نے سرکاری بیان کے سامنے آنے کے بعد کہا ہے کہ فوج عوامی مزاحمت اور استقامت سے بوکھلا کر منتخب صدر کو قتل کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ اخوان المسلمون نے کہا ہے کہ فوج اور اس کی قائم کردہ حکومت ان اطلاعات کو پھیلا کر سابق صدر کو جیل میں قتل کرنے کی سازش کر رہی ہے۔

اخوان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ منتخب صدر مُرسی حافظ قران اور اللہ کی توحید پر یقین کامل رکھنے والے سچے مسلمان ہیں۔ ایک سچا مسلمان کسی بھی حالت میں خود کشی کرنے کا سوچ بھی نہیں کرسکتا۔

دوسری جانب مصری حکام نے اخوان کے دو مزید رہنماوں کی گرفتاری کا بھی دعوایٰ کیا ہے۔ مصری حکام کے مطابق  اخوان المسلمون کے رہنما صفوت حجازی اور مراد علی کو حراست میں لے لیا ہے۔

ادھر ترک وزیراعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ منتخب صدر محمد مرسی حکومت کا تختہ الٹنے اور اس کے لئے راہ ہموار کرنے کے لئے ہونے والے ہنگاموں میں اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک مصر میں اسلام پسندوں کی فتح کا اعلان کرنے والے انتخابی نتائج انہیں روز اول سے تسلیم نہیں تھے۔

طیب اردگان نے مزید کہا کہ مصری انتخابات سے قبل فرانسیسی وزیرانصاف نے کھلے عام کہا تھا کہ اگر اخوان المسلمون جیت گئی تو اسے انتخابی نتائج  کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

Friday, August 16, 2013

مصر یوم الغضب : لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ فوج کی فائرنگ سے سینکڑوں شہید

مصر کے دالحکومت قاہرہ سمیت ملک کے تمام بڑے شیروں میں اخوان المسلمون کے یوم الغزب کے عنوان سے مظاہرے جاری ہیں۔ پولیس کی نہتے اور پرامن احتجاج کرنےوالوں پر فائرنگ کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں مظاہرین شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ تحریر سکوائر کو فوج نے ٹینکوں سے بھر دیا ہے۔


جمعہ کے روز اخوان المسلمون کی جانب سے مظاہروں کی کال پر لبیک کہتے ہوئے لاکھوں مصری غیر قانونی حکومت کے احکامات کو قدموں تلے روندتے ہوتے سڑکوں پر نکل آ ئے ہیں۔ دالحکومت قاہرہ سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں جمعے کی نماز کے بعد سے اخوان المسلمون کے لاکھوں کارکنوں نے احتجاجی ریلیوں کا آغاز کر دیا۔

قاہرہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق عوام کی بہت بڑی اکثریت نمازِ جمعہ سے پہلے ہی شہر کے مختلف مقامات پر جمع ہونے ہونے شروع ہو گئے تھے جنہوں نے نمازِ جمعہ کے فوراً بعد کی سڑکوں پر احتجاجی مارچ شروع کر دیا۔ بی بی سی کی نامہ نگار ’’بیتھنی بیل‘‘ کے مطابق اخوان کے کارکنان ’عوام فوجی بغاوت کا خاتمہ چاہتے ہیں‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔

مصر کی فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے اپنی خون آشامی کی تاریخ دوراتے ہوئے بکتر بند گاڑیوں سے نہتے اور پر امن مظاہرین پر حملہ کر دہا جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 28 سے زیادہ مسلمانوں کے شہید ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ فائرنگ میں سیکنڑوں زخمی بھی ہو گئے ہیں۔ آخری اطلاعات تک مطاہرے جارے ہیں۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نہرسوئز کے مغربی کنارے پر واقع شہراسماعیلیہ میں 14 سے زیادہ مظاہریں کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ بحیرہ روم کے کنارے پر آباد بندرگاہی شہر دمیاط میں 18 مظاہرین کی شہادت کی ابتدائی طور پر تصدیق ہوئی ہے۔ مختلف مقامات پر فائرنگ کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی گئی ہے۔

مصر کے دوسرے شہروں سے بھی مظاہرین کی جانب سے بڑی بڑی ریلیوں اور جلوسوں کے انعقاد کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس اور فوج کی جانب سے پورے ملک میں پر امن مظاہرین پر تشدد کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

یاد رہے کہ مصر کی غیر قانونی حکومت نے ان مظاہروں کو طاقت کے زریعے روکنے کے لئے موجودہ گورنروں کو تبدیل کر کے حسنی مبارک کے تاریک دور میں عوام پر ظلم کی شہرت رکھنے والے افراد کو تعنات کیا تھا۔ جبکہ گزشتہ روز پولیس کو مظاہرین پر گولی چانے کی خصوصی اجازت بھی دی گئی تھی۔

آخری اطلاعات تک شہید ہونے والوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ تمام بڑے شہروں میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے تاہم مظاہرے مغرب کے وقت بھی جاری ہیں۔

Wednesday, August 14, 2013

مصر: اخوان کے دھرنوں پر مصری سکیورٹی فرسز کا حملہ 140 سے زیادہ شہید ہزاروں زخمی


مصری فوج اور پولیس نے قاہرہ میں اخوان المسلمون کے دھرنوں پر شدید حملہ کر دیا ہے، طاقت کے وحشیانہ استعمال  کے نتیجے آخری اطلاعات موصول ہونے تک 140 سے زیادہ مظاہرین شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

 قاہرہ کے مشرق میں واقع مسجد رابعہ العدویہ اور مغرب میں نہدہ چوک میں جاری مظاہروں پر حملہ سے پہلے آج صبح سکیورٹی فورسسز نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ۔ تمام آمد و رفت کے راستوں کو بند کرنے کے بعد فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے بلڈوزروں اور بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے مظاہرین کو کُچلنا شروع کر دیا۔ اس موقع پر آنس گیس اس بڑے پیمانے پر استمعال کی جارہی ہے کہ قاہرہ کی فضاوں پر اس کے بادل چھا گئے ہیں۔ آنسو گیس کے اثرات دھرنوں کے مقامات سے میلوں دور تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

 سکیورٹی فورسسز نے تمام میڈیا کے نمائیندوں کو اس حملے سے پہلے علاقہ چھوڑ دینے کی وارننگ دی تھی۔ قاہرہ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق علاقے میں ہر قسم کی فریکونسی کو جام کی جاچکی ہے۔ اور میڈیا کے نمائندوں کو علاقے میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ دھرنوں کی جگہ جانے کی کوشش کرنے والے میڈیا کے نمائیندوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے اطلاعات تک رسائی میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک عرب ٹی وی چینل کے نمائیندے نے قاہرہ سے اطلاع دی ہے کہ دھرنے کے مقامات کے آس پاس موجود عمارتوں کی چھتوں پر موجود فوجی نشانہ بازوں کی جانب سے شرکاء پر براہ راست گولیاں برسانے کا منظر دور سے واضع طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ علاقے سے اس قدر شدید فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں کہ کسی بڑی جنگ کا گمان ہوتا ہے۔ فائرنگ کے علاوہ خواتین کے رونے کی آوازیں بھی بہت دور تک سنائی دے رہی ہیں۔ یاد رہے کہ ان دھرنوں میں عورتوں اور بچوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد شریک ہے۔

 اسی نمائیندے کے مطابق تقریباً پورے قاہرہ کی ٹریفک بند ہو چکی ہے جبکہ پولیس کی گاڑیاں لاوڈ سپیکروں پر اعلان کیا جا رہا ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں بصورت دیگر ان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

 الجزیرہ ٹی وی کے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس حملے میں اُس کہیں زیادہ تباہی ہو رہی ہے جس کا ہم تصور کر سکتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ انسانیت کے ساتھ ایسا بدترین سلوک شاہد ہی کبھی گیا گیا ہو، جس کا مظاہرہ آج مصر کے سکیورٹی ادارے آج قاہرہ میں کر رہے ہیں۔ یہ اتنی دلخراش صوتحال ہے کہ الفاظ اسے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

 عرب ٹی وی چینل العربیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات مصر کے ایک عہدے دار نے اسے بتایا تھا کہ غیرقانونی حکومت اور فوج کے عہدے داروں کے درمیان ہونے والی جس اعلیٰ سطع کی میٹنگ میں حملوں کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس میں سکیورٹی فورسز کو اختیار دیا تھا گیا تھا کہ دھرنوں کے مقام کو ہر صوت میں خالی کرنا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں اگر پانچ ہزار تک مظاہریں مارے جاتے ہیں تو یہ قابل قبول ہوگا۔

 اخوان المسلمون کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اب تک ان کے 140 سے زیادہ کارکنان ان حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جن میں سے کئی آنس گیس کے بادلوں میں میں دم گھٹنے اور بلڈوزروں کے نیچے کچلے جانے سے بھی شہید ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہون نے بتایا کہ سکیورٹی فورسسز شدید زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں اس لئے ان کی دیکھ بھال فیلڈ ہسپتال میں ہی کی جا رہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن نہیں بلکہ قتل عام ہے جس میں لوگوں کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا جا ریا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون کے کارکنان اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور جب تک دم میں دم ہے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہونگے۔ مصر کے اسلام پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں سے نکل آئین اور مصر کے ہر گلی کوچے کو بلاک کر دیں۔ اس قتل عام کو روکنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

 مصر کی غیر قانونی حکومت کے وزیر داخلہ نے سرکاری ٹی وی پر بتایا ہے کہ دھرنے اکھاڑ پھکنے کے لئے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جو اپنی کامیابی تک جاری رہے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران کچھ افراد مارے گئے ہیں تاہم ہماری کوشش کے خونریزی کم سے کم ہو۔ اس نے کہا کہ آپریشن میں مارے جانے والوں کی زمہ دار اخوان المسلمون ہے کیوں کہ اس نے ہمارے حکم کے باوجود دھرنوں کو جاری رکھا تھا۔ ہمیں لوگوں کی مشکلات کے پیش نظر یہ آپریشن کرنا پڑا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اب تک سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

 آخری اطلاعات تک دھرنے جاری ہیں تاہم بہت زیادہ جانی نقصان ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, August 13, 2013

نائجیریا میں خون مسلم کی ہولی: مسجد پر فوج کے حملے میں 44 نمازی شہید ہو گئے

نائیجریا میں مسلمانوں کے خلاف آپریشن کرنے والی عیسائی فوج نے دورانِ نمازمسجد پر حملہ کر کے کم از کم 44 مسلمانوں کو شہید جبکہ 26 سے زیادہ کو شدید زخمی کر دیا ہے۔

یہ واقعہ ملک کے شمال میں واقع ریاست بورنو کے کونگڈوگا نامی علاقے میں پیش آیا جو ریاستی دارالحکومت میدوگوری سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق فوجی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے کُنڈوگا میں واقع ایک مسجد کا اس وقت محاصرہ کیا جب وہاں مسلمان باجماعت نماز میں مصروف تھے۔ مسجد کو مکمل طور پر گھیرے میں لینے کے بعد اس پر چاروں طرف سے فائر کھول دیا۔

مقامی ابلاغ عامہ میں چھپنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ مسجد میں موجود نمازیوں کی تعداد کم تھی، تاہم نمازیوں پر ہونے والی فائرنگ کے بعد جب مقامی مسلمان ان کی مدد کو لپکے تو فوجیوں نے انہیں بھی بے دریغ گولیوں کا نشانہ بنایا، جس کی وجہ سےشہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 

فوج کی جانب سے محاصرے کے باعث زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال نہیں پہچایا جا سکا۔ اور بہت سارے زخمیوں نے سسک سسک کر جان دے دی۔  

نائجیریا کی حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے جانے والوں میں نائجیریا میں نفاذ شرعیت کی جدوجہد کرنے والے گروپ "بوکو حرام" کے چار ارکان بھی شامل ہیں۔ 

یاد رہے کہ نائجیریا کے عیسائی صدر گُڈلَک جوناتھن نے بورنو اور دیگر دو مسلمان اکثریتی ریاستوں میں شرعیت کا مطالبہ کرنے والوں کا صفایہ کرنے کے لئے ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔ ان ریاستوں میں نائجیریا کے علاوہ پڑوس کی دو عیسائی حکومتوں کی فوجیں بھی مسلمانوں کے خلاف جاری آپریشن میں شریک ہیں۔ 

انسانی حقوق کے بین القوامی گروپ بھی ان عیسائی افواج کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر تنقید کرچکے ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ یہ افواج مسلم اکثریت کے علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔ جن میں ہزاروں بے گناہ مسلمان مارے جا چکے ہیں۔

Sunday, August 11, 2013

مصری فورسسز نے اخوان المسلمون کے احتجاج کو منتشر کرنے کی کاروائی کا آغاز کر دیا



مصر میں فوج کی جانب سے قائم کی گئی غیر قانونی قابض حکومت نے منتخب صدر محمد مُرسی کی بحالی کے لئے ہونے والے پر امن احتجاج کو ختم کرنے اور دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے مظاہریں کو منتشر کرنے کی کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

 مصری فوج اور پولیس کی جانب سے مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں 250 سے زیادہ پرامن مظاہرین کو شہید جبکہ 5 ہزار سے زیادہ کو زخمی کرنے کے باوجود مظاہرین کو منتشر کرنے میں ہونے والی ناکامی کے بعد اب ان مظاہرین کے دھرنوں کو ختم کرانے کے لئے ایک مختلف طریقہ کار اختیار کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔

 پُر امن مظاہرین کو خوفزدہ کرنے کے لئے سکیورٹی فورسسز کی جانب سے تیار کیے جانے والے اس نئے طریقہ کار کی اخبارات اور سیکولر میڈیا میں بڑے پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہے۔ مصری اخبارات میں قاہرہ کے رابعہ العدویہ اور النہضہ سکوائر میں جاری دھرنوں کو منشتر کرنے کے منصوبوں کے خدوخال شائع ہو رہے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت دھرنا منتشر پلان کو بتدریج عمل میں لانا چاہتی ہے۔

پہلے حربے کے طور پر دھرنوں کے مقامات کی بجلی بند کی جائے گی، جس کے بعد یہاں پانی کی فراہمی بھی معطل کر دی جائے گی۔ پھر ان مقامات پر آمد و رفت کے راستوں کو سیل کر کے مظاہرین کو خوراک کی فراہمی مکمل طور پر روک دی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے پلان کے مطابق فوج اور پولیس کے دستے دھرنوں کے مقامات کے اردگرد مسلسل متحرک رہیں گے اور مظاہرین کے خلاف کم شدت کی کاروائیاں جاری رکھیں گے جن میں آنسو گیس کے گولے پھینکے جائیں گے اور واٹر کینن کا استعمال یا جائے گا۔ ان کاروائیوں کا مقصد بھوک اور پیاس سے نڈھال مظاہرین کے حوصلوں کو پست کرنا اور انہیں نقسیاتی طور پر مفلوج کرنا ہو گا۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دھرنا ختم کرنے کا پلان کئی دنوں، ہفتوں بلکہ تین ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ جس کے آخری مرحلے میں دھرنوں کے مقامات پر موجود مظاہرین کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جائیں گی۔

 مصری حکومت نے اس تدریجی پلان کے پہلے مرحلے پر عمل کرتے ہوئے آج سب سے بڑے دھرنے کے مقام رابعہ العدویہ میں بجلی کی فراہمی بند کر دی ہے۔ عرب زرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین نے اس حکومتی حربے پر زرا بھی پریشانی اور سراسیمگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ مکمل نظم و ضبط کا قائم رکھا۔ دھرنے کے منتظمین نے فوری طور پر علاقے کو جنریٹرز کے ذریعے بجلی فراہمی کا انتظام کر لیا ہے۔

 مختلف زرائع ابلاغ کے نمائیندوں کی جانب سے دی گئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے دھرنے کے شرکاء کو دی جانے والی دھمکیوں کو مظاہرین نے کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔ وہ منظم اور پُرعزم ہیں۔ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہر قربانی دینے کے جزبے کا اظہار کر رہے ہیں۔

Friday, August 9, 2013

مصر: لاکھوں عورتوں اور بچوں کی شرکت نے احتجاجی دھرنے کو عید میلے میں بدل دیا

مصر میں اخوان المسلمون نے عید کے روز نہ صرف احتجاج جاری رکھا بلکہ دیگر قصبات اور شہروں سے مصری عوام لاکھوں کی تعداد میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید منانے کے لیے قاہرہ کی مسجد رابعہ العدویہ پہنچ گئے۔ شیر خوار بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت نے احتجاجی دھرنے میں ''عید میلے'' کا سا سماں پیدا کر دیا۔

عرب میڈیا کی اطلاعات کے مطابق مصر میں عیدالفطر کے موقع پر قاہرہ کے شمال مغرب میں موجود مسجد رابعہ عدویہ کے علاقے میں جاری دھرنا عملا ایک بڑے میلے کا روپ دھار چکا تھا ۔ قاہرہ کے باہر سے بھی اسلام پسندوں کی ایک بڑی تعداد اپنے اہل خانہ سمیت دھرنے کی جگہ پہنچ گئے۔

 ایک 35 سالہ خاتون غادا ادریس اپنے شوہر، دو ننھے بچوں اور دوماہ کی ایک بچی کے ساتھ اپنی موٹر کار میں سوارہو کر دھرنے کی جگہ پہنچی تو اس نے ایک عرب ٹی وی چینل کے نمائیندے کو بتایا کہ '' وہ اس لیے دور افتادہ صوبے منایا سے قاہرہ آئی ہے کہ دھرنے میں عید کے روز ہماری پر امن شرکت سے فوج اور سیکولر جان لیں کہ لوگ حسنی مبارک کا دور واپس لانے کے حق میں نہیں ہیں۔''

 یاد رہے کہ اس سے ایک دن قبل ہی مصر کے قابض وزیر اعظم حاذم الببلاوی نے اعلان کیا تھا کہ مسجد رابعہ اور النہضہ میں جاری اخوان کے احتجاجی کیمپوں اور دھرنوں کو اکھاڑ دیا جائے گا۔ اس کے لئے طاقت کا بھرپور استعمال ہوگا اور کسی سے رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اس اعلان کے فوری بعد حاذم الببلاوی نے غیرقانونی وزیر داخلہ کے ہمرا سکیورٹی فورسز کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تاکہ اس سے دھرنے کے شرکا کو خوفزدہ کیا جا سکے۔''

امریکا اور یورپی یونین کے نمائیندوں کی جانب سے مصر کی فوجی قیادت اور قابض غیرقانونی حکومتی اہلکاروں سے ہونے والے رابطوں کے بعد مصر کے بارے میں جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مصر میں خونریزی کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔

 دوسری جانب سیکولر زرائع ابلاغ مظاہرین کی جانب سے سکیورٹی فورسسز کی جانب سے متوقع خونزیز کاروائی سے تحفظ کے لئے جمع کی جانے والی اینٹوں اور پتھروں کو میزائل اور راکٹ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ایک سعودی میڈیا اوٹ لیٹ نے خبر لگائی ہۓ '' مظاہرین نے پولیس پر بھاری پتھر پھینکنے کے لئے منجنیقیں نصب کر دی ہیں۔''

Tuesday, August 6, 2013

مصر: دھرنے جاری ، صدر مُرسی کی رہائی اور اخوان کو حکومت میں شمولیت کی پیشکش

مصر اسلام پسند حکومت پر شبخون مارنے والی فوج اور اس کے مغربی سرپرستوں نے خونریزی اور دھمکیوں کی ناکامی کے بعد اب صدر مُرسی کی رہائی اور اخوان المسلمون کو حکومت میں شمولت کی پیشکش کر دی۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار "سنڈے ٹائمز" کی اطلاع کے مطابق ایک پیش کش یہ کی گئی ہے کہ فوجی حکومت منتخب صدر محمد مرسی کو رہا کرنے پر تیار ہے بشرطیکہ وہ ملک چھوڑنے کا وعدہ کریں۔  اخبار کے مطابق فوج اور سیکولر سیاسی قوتوں نے یہ منصوبہ امریکہ اور یورپی یونین کی مدد سے تیار کیا ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس منصوبے پر عمل درآمد کے ضامن ہوں کے۔

رائٹرز اینجسی نے مصر کے فوجی ذرائع اور سیکولر سیاسی حلقوں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ فوج اور عبوری حکومت اخوان المسلمین کے اسیر اراکین کو رہا کرنے اور اس تحریک کے نمائندوں کو نئی کابینہ میں شامل کرنے کو تیار ہے تجویز کے مطابق اخوان المسلمین کے منجمد کردہ کھاتوں کو بحال کرنے کی تجویز بھی پیش کی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع  اور پنٹاگون کے سربراہ چک ہیگل نے مصری فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان جارج لٹل نے کہا ہے کہ مصر میں سیاسی بحران کے حل کے لئے امریکی مصری فوج سے قریبی رابطے میں ہے۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ولیم برنس اور بحیرہ روم کے جنوبی سالح سے ملحقہ علاقے کے لیے یورپی یونین کے خصوصی ایلچی برنارڈینو لیون ثالثوں کے طور پر مصر کا دورہ کر چگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عبدالفتاح السیسی نےاپنی بھرپور حمایت کرنے پر امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔

ادھر امریکی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ قاہرہ میں تعنات اخوان کی ناپسندیدہ اپنی سفیر کو تبدیل کرنے کے لئے تیار ہے۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی عہدیدار نے ترکی کی اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ خاتون امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن امریکی سفیر کے عہدے سے جلد ہی کنارہ کشی اختیار کر لیں گی۔ ممکنا طور پراس عہدے کے لیے متحدہ عرب امارات اور اردن میں موجودہ امریکی سفیروں میں سے کسی کو تعنات کیا جاسکتا ہے۔ 

تمام تر سفارتی اور سیاسی حمکت عملی ایک جانب جبکہ دوسری جانب اخوان المسلمون کے کارکنان قاہرہ میں جارے اپنے دھرنوں کے مقام پر جمے ہوئے ہوئے ہیں۔ ان کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اور وہ منتخب صدد محمد مرسی کی اپنے عہدے پر بحالی سے کم کسی پیش کش کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

Saturday, August 3, 2013

اخوان المسلمون نے سی این این کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا


مصر کی سیاسی صورتحال کی متعصبانہ کوریج پر اسلام پسندوں نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کے خلاف بڑی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی حکومت کی ایما پر مصر کی سیکولر فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد فوج کے اس غیر قانونی اقدام پر آواز اٹھانے کے بجائے مغربی ممالک کا میڈیا بڑی ہوشیاری سے اس کو جواز عطا کررہا ہے۔

مصر کے اسلام پسندوں نے نام نہاد لبرل اور غیرجانبدار میڈیا کی کُھلی جانبداری کو آڑے ہاتھوں لینے کا فیصلہ کیا اور پہلے مرحلے میں امریکی چینل سی این این کے خلاف آن لائن احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ انٹر نیٹ پر موجود ایپلیکیشن مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے حوالے سے سی این این کی کوریج کی مذمت کرتی ہے۔

اس پٹیشن کے مطابق سی این این اور امریکی حکومت اخوان المسلمون سے تعصب کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس پٹیشن پر جس کا ایڈریس http://www.causes.com/actions/1756045-cnn-shame-on-you?ctm=home  ہے پر اب تک 50 ہزار افراد دستخط کرچکے ہیں دستخط کرنے والوں میں 60 فی صد سے زیادہ کا تعلق مصر سے ہے۔

سی این این کے تعصب اور جانب داری کو اجاگر کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم کا پیج اس نشریاتی ادارے کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے،’’تمھیں خود پر شرم آنی چاہیے۔ انقلاب (مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کا قیام) کے حوالے سے تمھاری کوریج مکمل طور پر تعصب پر مبنی ہے۔‘‘

مصر میں اخوان المسلمون اور دیگر اسلام پسند اپنا موقف بیان کرنے اور اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی چینل کے خلاف جاری یہ مہم مین سٹریم میڈیا کو راہ راست پر لانے کا ایک زبردست اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Thursday, August 1, 2013

مصری کابینہ کی طاقت کے استعمال کی سنگین دھمکی، اخوان کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان



اخوان المسلمون نے مصر کی فوج کی جانب سے قائم کی گئی غیرقانونی کابینہ کی جانب سے طاقت کے استعمال کی سنگین دھمکی کو مسترد کر کے مرسی حکومت کی بحالی تک ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
رابعہ العداویہ مسجد کے باہر جاری دھرنے کا ایک منظر اور اہم مقامات کی نشاندہی

فوج کی نامزد عبوری کابینہ نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ قاہرہ میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے دھرنوں کو بزور طاقت ختم کرایا جائے۔ غیر قانونی قابینہ کے وزیر اطلاعات دوریا شرف الدن نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا جس کے مطابق ’کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ قاہرہ کے شمال مشرقی علاقے میں رابعہ العداویہ مسجد اور ناہدا چوک پر جاری دھرنے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ ان ھرنوں کے نتیجے میں ہونے والی دہشت گردی اور سڑکوں کی ناکہ بندی اب ناقابل برداشت ہے‘

غیر قانونی کابینہ کی دھمکی نما بیان کو اخوان المسلمون کے دھرنا کیمپوں میں شریک افراد نے کلی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد کا کہنا ہے کہ ہم اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم ایسے حکمرانوں اور ان کے بنائے ہوئے قوانین کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ نہ ہی انکی دھکیوں سے مرغوب ہو نگے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی دھرنے ختم کا فیصلہ ایک ایسے گروہ نے کیا جس نے ریاست پر قبضہ کر رکھا ہے اور لوگوں کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کابینہ کی جانب سے دی گئی دھمکی کے بعد فوج کی جانب سے مظاہرین پر متوقع حملے کے بارے میں ایک سوال کئ جواب میں جہاد الحداد نے کہا کہ غیر قانونی حکمران پہلے بھی دو مرتبہ حملے کر چکے ہیں جس میں انہیں بری طرح ناکامی ہوئی۔ سو مظاہرین کی شہادت اور ہزاروں کے زخمی ہونے کے باوجود ہم جمے ہوئے ہیں اور جمے رہیں گے۔

Sunday, July 28, 2013

مصر میں مظاہرین تمام تر تشدد اور دھمکیوں کے باوجود دھرنا دیے ہوئے ہیں



Saturday, July 27, 2013

یوم الفرقان، مصر کی سڑکیں مظاہرین سے بھر گئیں، حملوں میں 135 جانبحق 5000 سے زاہد زخمی


اخوان المسلیمون کی جانب سے جمعہ کو یوم الفرقان کے اعلان پر مصر کے مرد وزن گھروں سے نکل آئے۔ شہروں اور قصبوں کی گلیاں انسانوں سے بھر گئیں۔ بڑے شہروں میں کئی کئی لاکھ افراد نے ریلیاں نکالیں اور مطاہرے کیے۔ جس دوران مصر فوج اور لبرل غنڈوں کے حملوں میں 130 سے زاہد افراد جانبحق جبکہ 5000 سے زیادہ شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ آخری اطلاعات تک پر امن مظاہرین تمام تر تشدد کے باوجود استقامت سے اپنے دھرنے کے مقام پرجمے ہوئے ہیں اور فوج لبرل غنڈے مظاہرین کو منتشر کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دالحکومت قاہرہ میں جمعہ الفرقان کے موقع پر جمعہ کی نماز میں کئی لاکھ لوگ شریک ہوئے ہیں۔ جن میں سے بڑے اجتماعات میدان التحریر، رابعہ عدویہ اور نصر سٹی میں منعقد ہوئے۔ اس موقع پر نہایت رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے بوڑھے، بچے، جوان اور خواتین پرنم آنکھوں سے دعائیں کر رہے تھے۔ پرامن مظاہرین کی اکثریت نے ہاتھوں میں قران اتھائے ہوئے تھے۔ جبکہ بچوں نے منتخب صدر محمد مُرسی کی تصاویر کے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔

قاہرہ کے علاوہ بڑے مظاہرے اسکندریہ، السویط، منصوریہ اور اسماعلیہ کے شہروں میں کئے گئے جن میں ہر مظاہرے  میں عوتوں اور بچوں سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ بڑے شہروں کے علاوہ مصر کے تقریباً تمام ہی شہروں اور قصبوں میں منتخب صدر محمد مُرسی کے حق میں مظاہرے کیے جن میں منتخب صدر کی بحالی اور غیرقانونی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جمعہ الفرقان کے موقع پر فوجی سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی کے پہلے سے اعلان کردہ منصوبے کے تحت فوجی اہلکاروں اور لبرل غنڈوں نے پر امن مظاہرین پر آتشیں اسلحے سے حملے کیے ہیں جن میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 130افراد جانبحق اور 5 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد شدید زخمیوں کی ہے۔ مظاہرین کی اکثریت گولیاں لگنے اور شدید ضربات کے نتیجے میں بانبحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

فوج اور لبرل غنڈوں کے حملے کا آغاز فوج کی جانب سے نامزد غیر قانونی وزیر داخلہ محمد ابراہیم کے سرکاری ٹی وی چینل الاہرام پر اس اعلان کے بعد ہوا جس میں اس نے کہا کہ ’’ایک ماہ سے جاری مرسی کے حامیوں کے دھرنے کو جلد از جلد ختم کیا جائے گا۔‘‘

اس اعلان کے فوری بعد فوجیوں نے لبرل غنڈوں کی معیت میں شمالی قاہرہ میں رابعہ عدویہ کے مقام پر اخوان المسلمین کے حامیوں کے ایک ماہ سے جاری دھرنے کو توڑنے کے لئے پر امن مظاہرین پر حملہ کر دیا۔ جس میں پر امن مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں، آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے جبکہ ڈنڈوں اور آئینی راڈوں سے مسلح غنڈوں نے مظاہریں کو تششد کا نشانہ نبانا شروع کر دیا۔

حملے کی شدت اس قدر زیادی تھی کہ اخوان المسیلمون کے حوالے سے متعصب خبریں دینے والے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی  کی مصر میں جائے وقوع پر موجود خاتون نامہ نگار کوئنٹین سمرویلے نے اپنے ابتدائی مراسلے میں کہنے پر مجبور ہو گئی کہ  قاہرہ میں ربعہ الاداویہ مسجد کے قریب جنگ جاری ہے اور سڑکیں مظاہرین کے خون سے رنگین ہو گئیں ہیں۔

اخوان المسلیمون کی سیاسی جماعت  انصاف اینڈ جسٹس پارٹی کے سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ممبر اور رابعہ العدویہ فیلڈ ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر محمد البلتاجی نے میڈیا کو دیے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم گزشتہ شب سے خون اور باردو میں کھڑے ہیں اور اخوان المسلمون کے پرامن مظاہرین کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ جامعۃ الازہر پر چاروں طرف سے گولیوں کی بوچھار کی جا رہی ہے جو نسل کشی کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہیں۔ صرف چھ سات گھنٹوں میں 100 سے زائد شھید کر دئیے گئے ہیں اور 5000 کے قریب زخمی ہیں-

انہوں نے مصر کے تمام اسلام پسند اور انسانیت کا درد رکھنے والے ڈاکٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو میدان رابعہ فیلڈ ہسپتال میں پہنچ جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں سرجری، اینستھیزیا اور نیولوجیکل ایکسپرٹ کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ یہاں زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں سے کئی ہزار شدید خطرے کی حالت میں ہیں اور انہوں نے خون کے عطیات دینے کی بھی اپیل کی ہے کیوں کہ بقول انکے زخمیوں کی بڑی تعدار کی وجہ سے خون کی اشد کمی واقع ہو چکی ہے۔

دوسری جانب مصر کے دوسرے بڑے شہر

ت میں بھی مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں سرکاری زرائع کے مطابق کم از کم سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

آخری اطلاعات تک مظاہرین اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں۔ فوج اور لبرل غنڈوں کی جانب سے تمام تر تشدد کے باوجود دھرنے کو ختم نہیں کرایا جا سکا ہے۔ 

Wednesday, July 24, 2013

مصر کے آرمی چیف نے اخوان سے نمٹنے کے لئے لبرلز کو میدان میں آنے کی ہدایت دے دی

مصرمیں منتخب صدرمحمد مرسی کی حکومت کا تختہ غیر قانونی طور پر الٹنے والے الفتاح السیسی نے اخوان المسلمون کی پُر امن احتجاجی تحریک میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اور مظاہرین کی استقامت سے گھبرا کر لبرل اور سیکولرز کو میدان میں آنے کی ہدایت کر دی۔

ملٹری گریجویشن کی تقریب سےخطاب میں جنرل السیسی نےمصر کے لبرلز سے کہا ہے کہ وہ اسلام پسندوں کے مقابلے میں فوجی بغاوت کے حق میں ریلیاں نکالیں ۔

انہوں نے مصر کے مذہب بیزار لوگوں سے اپیل کی ہے آنے والے جمعہ کو وہ فوج کی حمایت میں ریلیاں نکال کر ہمارے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ اغوان المسمون سے نمٹنا ہمارے لئے آسان ہو جائے۔ اور ہم ان کے احتجاج کو ختم کروا سکیں۔

اخوان المسلمون نے جنرل السیسی کے اس بیان کو احتجاج کو بندوق کے زور پر روکنے کی دھمکی قراردیاہے۔

پارٹی کے سینئر رہنما عصام ال ایریان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم جنرل السیسی کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اور نہ وہ لاکھوں کی ریلیوں کو طاقت کے بل پر روک سکتے ہیں، مرسی کی بحالی تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ تین جولائی کو مغربی طاقتوں کی ایما پر ہونے والی فوجی بغاوت کے نتیجے میں محمد مرسی کی منتخب حکومت برطرف کردی گئی جس کے بعد سے اب تک اخوان المسلمون کی بڑے پیمانے پر پر امن احتجاجی تحریک جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے ہورہے ہیں۔

جمعہ کے روز احتجاج میں لاکھوں لوگ شرکت کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے مرسی کی حمایت میں نکلنے والی ریلیوں پر لبرل غنڈوں اور سادہ لباس اہلکاروں سے حملے بھی کرائےگئے جس میں درجن سے زیادہ پر امن مظاہرین جانبحق ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل ریپلکن گارڈ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنے پر نماز فجر کے دوران فوج کی براہ راست فائرنگ سے 50 سے زیادہ افراد جانبحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

Wednesday, July 17, 2013

مصر میں غیر قانونی عبوری کابینہ کا حلف، فوجی نے 7 پرامن مطاہرین کی لاشوں کی سلامی پیش کر دی

مصری صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد بننے والی عبوری کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے جب کہ  مصری سکیورٹی ادارو کی فائرنگ سے مُرسی حکومت کی غیرقانونی برطرفی کے خلاف پر امن مطاہرہ کرنے والے 7 مظاہرین  جاںبحق ہوگئے ہیں۔

35 وزراء پر مشتمل عبوری کابینہ سے قابض صدر عدلی منصور حلف لیا، کابینہ میں 3 خواتین بھی شامل ہیں جنہیں صحت، اطلاعات اور ماحولیات کی وزارتیں دی گئی ہیں۔
عبوری کابینہ میں ملک کی اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کسی وزیر کو شامل نہیں کیا گیا، سلفی جماعت حزب النور کو بھی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا حالانکہ اس نے فوجی بغاوت کی حمایت کی تھی۔

غیر قانونی قابض عبوری حکومت میں غیر ملکی طاقتوں کے ایماء پر مُرسی حکومت کو برطرف کرنے والے مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کو نائب وزیراعظم اور وزیردفاع مقرر کیا گیا ہے۔ جب کہ محمد ابراہیم کو وزیر داخلہ اور امریکا میں مصر کے سابق سفیر نبیل فہمی کو وزیرخارجہ بنایا گیا ہے۔

 جماعت اخوان المسلون نے ملک کی نئی کابینہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ قریباً دو ہفتے قبل مصری فوج نے برسراقتدار پارٹی اخوان المسلون کی منتخب حکومت کو غیر قانونی طور پر برطرف کر کے اس کے بہت سے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا تھا۔
صدر مرسی کی حکومت کی بحالی کے لئے ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں، جن میں لاکھوں افرد شرکت کر رہے ہیں

Tuesday, March 5, 2013

مالی کے شمالی علاقے میں فرانسیسی فوجی سمیت متعدد حملہ آور مارے گئے ہیں

 مالی کے شمالی علاقے میں قائم ہونے والی  اسلامی ریاست پر حملہ آور غیر ملکی فوجیوں کے خلاف جاری عسکری کاروائی کے دوران ایک فرانسیسی فوجی سمیت متعدد حملہ آور مارے گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی  اطلاعات کے مطابق گاؤ شہر کے قریب فرانسیسی فوجیوں اور مسلمان حریت پسندوں  کے درمیان جھڑپوں میں شدت آگئی ہے اور گزشتہ تین روز میں فرانسیسی فوجیوں سمیت بہت سے حملہ آور مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔

اے ایف پی نے دعوایٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں یہ شدت القاعدہ کے دو اہم لیڈروں مختار البل مختار اور عبدالحمید ابوزید کے حملہ آوروں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں مارے جانے کے بعد آئی ہے۔ 

دوسری جانب  امریکہ کیلئے مانیٹرنگ سروس فراہم کرنے والے ادارہ نے القاعدہ کمانڈر مختار بل بختار کے مارے جانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور لڑائی کی قیادت کررہے ہیں۔ یہ دعویٰ چاڈین افواج کی طرف سے القاعدہ رہنماء مختار کو ہلاک کئے جانے کی خبروں کے بعد کیا گیا ہے۔

مختار بل بختار کو جنوری میں الجیریا کے گیس پلانٹ میں حراست میں لینے کے واقعہ کا ماسٹر مائنڈ  سمجھا جاتا ہے۔

Tuesday, February 12, 2013

مالی مین مسلمانوں کا قتل عام جاری، ایک بڑی اجتماعی قبر کا انکشاف

افریقی ملک مالی کے شمال میں مسلمانوں کی ایک بڑی اجتماعی قبر کا انکشاف ہوا ہے جس میں درجنوں نعشوں کو دفنایا گیا ہے جن میں سے صرف تین کی  شناخت ہو سکی ہے۔ ٗ

 افریقی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق قبر سے دریافت ہونے والی کئی درجن نعشوں میں سے صرف تین قابل شناخت ہیں۔ اس اجتماعی قبر سے بامد ہونے والی قابل شناخت نعشیں مالی کے مسلمان عرب دکانداروں کی ہیں جنہیں مالی کی فوج نے گرفتار کیا تھا۔
 
مقامی میڈیا کے مطابق  ٹمبکٹو شہر میں عرب اور تواریگ نسل کے مسلمانوں پر مالی کی فوج اور سیاہ فام عسائیوں کی جانب سے بار بار منظم انداز میں حملے کیے جارہے ہیں۔ جن میں مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے۔ لیکن جارح یورپی اور افریقی افواج مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کی قسم کی دلچسبی نہیں لے رہی ہیں۔

یاد رہے کہ 28 جنوری کو جارح افواج کے اس شہر پر قبضے کے بعد مالی کے سیاہ فام عیسائی باشندوں نے عربوں کی ملکیتی دکانوں اور گھروں کو لوٹ لیا تھا۔ 

انسانی حقوق کے بین لاقوامی گروپوں نے الزام عاید کیا ہے کہ مالی کی فوج ملک کے شمالی حصے میں اسلامی شرعیت کے نفاذ کے حامی ہونے الزام میں پکڑے جانے والے عرب اور تواریگ مسلمانوں کو سرسری سماعت کے بعد پھانسی دے رہی ہے۔

Monday, February 11, 2013

مالی میں جارح افواج اسلام پسندوں کے اچانک حملے سے بوکھلا گئیں

مالی کے شمالی شہر گاؤ میں فرانس کی قیادت میں پر حملہ آور افواج پر اسلام پسندوں نے اچانک حملہ کر کے انہیں شدید حیرت میں مبتلاء کر ڈالا۔
 برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اسلام پسندوں گاؤ کے مرکزی پولیس کے دفتر پر حملہ کردیا جس کے بعد پورے شہر میں جھڑپیںشروع ہو گئیں۔  بی بی سی کے نامہ نگار نے عینی شاہدیں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان جھڑپوں کے دوران اسلام پسندوں کو کھلے عام شہر کی سڑکوں پر گھومتے دیکھا گیا ہے۔

مالی کی سرکاری افواج کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام پسند کالے لباس میں ملبوس تھے اور وہ مسلح ہو کر موٹر سائیکلوں پر شہر کی گلیوں اور سڑکوں میں پھر رہے ہیں۔

افریقی زرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ پہلے ایک خودکش بمبار نے شہر میں داخل ہونے والے راستے پر واقع  فوج کی چوکی پر حملہ کیا۔ جس کے بعد مسلع اسلام پسندوں کے گروہ شہر میں داخل ہو گئے جنہوں نے کئی گھنٹوں تک افریقی اور یورپی افواج سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

اسلام پسندوں کے اس اچانک حملے سے جارح افواج میں کھلبلی مچھ گئی، انہوں نے خوف زدہ ہو کر بھاری توپ خانے سے فائر کرنے شروع کردے اور فرانس کے گن شپ  ہیلی کاپٹر اور جیٹ لڑاکا جہازوں نے پروازیں شروع کر دیں۔

فرانس کے ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار نے میڈیا کے نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مالی کے دیگر شہروں کے قریب واقع صحرا میں بھی اسلام پسند موجود ہیں جو کسی بھی وقت حملہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اب وہ ایک گوریلا جنگ لڑنے کی تیاری کر چکے ہیں۔

جارح افواج پر کیے گئے حملے کی ذمہ داری ’مغربی افریقہ میں تحریک وحدت اور جہاد‘ نے قبول کرتے ہوئے اس تنظیم کے ترجمان ولید صحراوی نے کہا کہ ’ہم فرانس اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مزید حملے کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

Sunday, February 10, 2013

مالی میں القاعدہ فرانس سے حاصل کے گئے وسائل سے لڑ رہی ہے

ایک سابق امریکی سفیر نے انکشاف کیا ہے کہ مالی میں فرانس جن اسلام پسندوں کے خلاف لڑ رہا ہے انہوں نے لڑائی کے لئے وسائل فرانس سے ہی ہتھیائے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق امریکی سفیر وکی ہڈلسٹن نے بتایا ہے کہ فرانس نے 2010 میں نائجر میں یورینیئم کی ایک کان سے پکڑے گئے یرغمالوں کو رہا کروانے کے لیے ایک کروڑ 17 لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی سمیت دوسرے یورپی ممالک نے بھی تاوان کی رقوم ادا کی ہیں، جن کی مالیت نو کروڑ ڈالر تک پہنچتی ہے۔

مالی کے اسلام پسندوں نے ہتھیاروں کے حصول کے لئے اس رقم کو استعمال کیا اور اس قدر قوت حاصل کر لی کہ مالی کے ایک حصے پر قبضہ کر کے وہاں اسلامی شرعیت نافذ کر دی تھی۔ جن کے خلاف اب اقوام متحدہ کی اجازت سے فرانس کی زیر قیادت کثیر الملکی افواج کاوائی میں مصروف ہیں۔


 سابق امریکی سفیر ہڈلسٹن نے کہا کہ 2010 میں نائجر کی کان میں یرغمالوں کی رہائی صرف تاوان کی ادائیگی کی وجہ سےممکن ہو سکی تھی۔ انھوں نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام میں بتایا، کہ یہ رقوم بالواسطہ طور پر مالی حکومت کے ذریعے دی گئی تھیں۔‘ انھوں نے مزید بتایا کہ  مالی کے صوبے گاؤ کے سابق گورنر نے القاعدہ فی بلاد المغرب الاسلامی کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔

یاد رہے کہ فرانس سمیت تمام یورپی ممالک جنھوں نے تاوان کی رقوم ادا کیں انھوں نے ہمیشہ یرغمالوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا کرنے سے انکار کیا ہے۔

Thursday, February 7, 2013

فرانس نے مالی میں اسلام پسندوں کا قتل عام کرنے تصدیق کر دی

فرانس نے مالی میں جارحیت کے دوران اسلامی شرعیت نافذ کرنے والے سینکڑوں اسلام پسندوں کا قتل عام کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی  سے گفتگو کرتے ہوئے فرانس کے وزیر دفاع ژاں ایوز لا ڈرائین کا کہنا ہے کہ ان اسلام پسندوں کو فضائی حملوں اور فرانسیسی افواج کی براہ راست کاروائیوں میں قتل کیا گیا ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مالی میں موجود فرانسیسی افواج کا انخلا مارچ سے شروع کیا جا سکتا ہے۔ فرانسیسی اخبار کو ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر تمام معملات منصوبے کے مطابق جاری رہے تو مالی میں موجود فرانسیسی افواج کی تعداد کم کر دینی چاہیے۔

 اس سے پہلے فرانس کے وزیر دفاع ژاں ایوز لا ڈرائین نے کہا تھا کہ مالی کے شمال میں کدال کا علاقہ اب فرانسیسی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ چاڈ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افریقی فوجیوں کی مدد سے ایسا ممکن ہوا۔ 

 واضح رہے کہ اس وقت مالی میں 3500 کے قریب فرانسیسی فوجی تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ چاڈ اور نائجر کے 2000 فوجی بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔

Sunday, February 3, 2013

مالی میں جارح افواج مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کر رہی ہیں

مالی میں جارح یورپی اور افریقی افواج مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیوں اور دیگر جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر نے انسانی حقوق کی بین لاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کے حوالے سے بتایا ہے کہ مالی کی فوج نے اسلام پسندوں کے خلاف جاری لڑائی کے دوران بہت سے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

ایمنسٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق مالی کے فوجیوں نے 10 جنوری کی شام شمالی شہر سیور میں درجنوں زیرحراست عام مسلمان شہریوں کو گولی مار کر قتل کردیا۔ اور مرنے والوں کی لاشوں کو ایک کنویں میں پھینک دیا تھا۔

سیوار میں ہی ایسے ایک واقعے سے متعلق امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ مالی کے فوجیوں نے اسلام پسندوں کی معاونت کے شک میں کئی افراد کو گولی مار کر قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کوایک گڑھے میں پھینک کر جلا دیا تھا۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے بھی افریقی اور یورپی افواج کی جانب سے مسلمان طوارگ قبائیلیوں اور عربوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ 

اقوامِ متحدہ کے امتناعِ نسل کشی کے خصوصی مشیر نے کہا کہ مالی کی فوج کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات  عام ہیں جن میں مسلمانوں کو قتل کرنا اور جبری طور پر غائب کرنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ عیسائیوں کے ہجوم کی جانب سے طوارگ اور عرب آبادیوں میں قتل عام اور جائیدادوں کے لوٹے جانے کی رپورٹیں بھی ہی ہیں۔

مالی میں 3 ہفتوں بعد یہ سمجھنا کہ جنگ ختم ہوگئی ہے غلطی ہے

فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ مالی میں اسلامی پسندوں کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے 3 ہفتے بعد یہ سوچنا غلط ہے کہ مالی میں لڑائی ختم ہو چکی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے ان خیالات کا اظہار فرانس کے وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور وزیر ترقیات کے ساتھ مالی پہنچے پر کیا۔جہاں مالی کے عبوری صدر ڈیونگ کونڈا ترارے نے ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ 

 فرانسیسی صدر نےاس موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کی فوج ملک کے شمال میں اسلامی شرعیت نافذ کرنے والوں کے خلاف جاری کارروائی میں مشن کی کامیابی تک شامل رہیں گی۔ 

اولاند  نے فرانسیسی افواج سے ٹمبکٹو کے ہوائی اڈے پر خطاب کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا کہ مالی اسلام پسندوں کو ختم کرنے کا یہ مشن اب بھی خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا اور اس کو ختم سمجھنا ایک غلطی ہو گا کیونکہ ہم نے اپنے مالی کے دوستوں کے ساتھ مل کر ٹمبکٹو اور گاؤ جیسے شہروں میں امن تو قائم کر دیا ہے لیکن اس کو برقرار رکھنے کے لئے یہاں کئی سال تک رکنا پڑے گا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اسلام پسندوں نے مالی کے شہروں کو حکمت عملی کے تحت خالی کیا ہے جس کے باعث جارح افواج آسانی سے ان پر قابض ہو گئی ہیں۔ تاہم صحرا کے اندر انہیں اسلام پسندون کی جانب سے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔