Showing posts with label کالمز اور تبصرہ جات. Show all posts
Showing posts with label کالمز اور تبصرہ جات. Show all posts

Wednesday, September 25, 2013

جہاد النکاح ! افسانہ یا حقیقت

شام میں جاری جنگ کئی محاذوں پر لڑی جا ری ہے، جن میں عسکری محاذ کے علاوہ سفارتی اور ابلاغی محاذ بہت نمایاں ہیں۔ شام کی 82 فیصد سے زاہد آبادی سنی العقیدہ ہے جبکہ حکومت شعیوں کے پاس ہے جن کے مختلف فرقوں کا تناسب کچھ یوں ہے، 12 فیصدعلوی یا نصیری، 2 فیصد اسماعلیی اور 3 فیصد دروزی۔ اس لئے خالصتاً سیاسی بنیادوں پر شروع ہونے والی عوامی مزاحمت اب مذہبی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جس کا رنگ ایران اور لبنانی شعیہ تنظیم حزب اللہ کی شمولیت کی وجہ سے مزید گہرا ہو گیا ہے۔ شام کے حوالے سے آج کل ایک موضوع جہاد النکاح بہت مشہور ہوا ہے۔ یہ ہے کیا اور اس کی شہرت کیسے ہوئی ہے آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

29 دسمبر 2012 کو لبنان کے ٹی وی سٹیشن "الجدید" سے سعودیہ کے مشہور عالم شیخ محمد العریفی کے حوالے سے ایک خبر سامنے آئی ۔ جس کے مطابق انہوں نے شام میں مجاہدین کی جنسی تسکین کے لیے "جہاد النکاح" کو درست قرار دیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ اس چینل نے اپنی خبر میں اس فتویٰ کا کوئی دستویزی ثبوت پیش نہیں کیا تھا۔ ٹوئٹرپر مبینہ طور پر شامی مزاحمت کے مخالف ایک شعیہ یوزر نے اس خبر کا لنک بمعہ انگلش ترجمہ شائع کیا اور یوں یہ مغربی میڈیا کے ہاتھ لگا۔ مغربی میڈیا جو اس جنگ میں القاعدہ اور دیگر جہادی گروپوں کی شمولیت سے سخت خائف ہے کے ساتھ ساتھ شعیہ حکومتوں اور تنظیموں کے زیر اثر چلنے والے میڈیا نے اس خبر کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ دروسری جانب  لبرلز و سیکولرز عناصر کو بھی اس خبر سے اسلام کو بدنام کرنے کا ایک موقع ہاتھ لگ گیا۔

 شیخ محمد العریفی بشاری اقتدار کے خلاف سب سے زیادہ سرگرم عالم دین ہیں جو خلیج وسطی کے عرب مسلمانوں کو شامی جہاد کی مدد کے لیےابھارتے رہتے ہیں۔ وہ سماجی رابطے کی ویب سائیڈز پر بھی بہت مقبول فرد ہیں، صرف ٹویٹر پر ان کو فالو کرنے والوں کی تعداد 35 لاکھ سے زائد ہے اور ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ لوگ ان کو فیس بک پر فالو کرتے ہیں۔جنوری 2012 میں ان کی شامی جہاد کے بارے میں ایک ویڈیو کو 11 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا تھا۔
ایسے مشہور عالم دین کی جانب سے ایسے کسی فتوے کی آمد گویا مغربی و شعیہ میڈیا کے لیے  بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کہ مترادف تھا۔ بغیر کسی ثبوت کہ نشر کی گئی اس خبر کو بغیر کسی تصویق کے ہر طرف پھیلا دیا گیا ۔ خود کو "روشن خیال  قرار دینے والوں اور تہذیب اور شائستگی کے چمپئین بننے والوں  کی ایک بڑی آرگنائزیشن پروگریسو کے میڈیا مرکز "الرٹ نیٹ" نے اس کو اپنی ویب سائیڈ پر بغیر تصدیق کے شائع کردیا (الرٹ نیٹ اب یہ رپورٹ ڈیلیٹ کرچکا ہے)۔ جہاں یہ پوری دنیا میں بجلی کی تیزی کے ساتھ پھیل گئی۔

مغربی و شعیوں کے زیر اثر میڈیا جو کہ عام حالات میں بھی  اسلام و مسلمانوں کے خلاف سامنے آنے والے کسی مواد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ہے اس کے لئے تو یہ گویا سونے کی کان تھی۔ ایرانی حکومت کے زیر اہتمام کئی زبانوں میں نشریات پیش کرنے والے پریس ٹی وی ، لبنان و عراق سے چلنے والے شعیوں کے میڈیا مراکز اس خبر کو پھیلانے میں جت گئے۔ ایرانی پریس ٹی وی نے اپنی ویب سائٹ پر اس فتوی سے متعلق ایک انگریزی میں رپورٹ شائع کی جسے’ریڈیکل اسلام ڈاٹ او آر جی‘ نامی ادارے نے ٹویٹر اکاونٹ کے لنک کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر جگہ دی (یہ سائٹ پاکستان میں بین ہے دیکھنے کے لیے پراکسی استعمال کریں)۔ یہ ویب سائٹ مبینہ طور پر مسلم مخالف ادارے کلرین کی مدد سے کام کرتی ہے جو کہ یہودی ہے اور کچھ عرصہ قبل ایک مسلم مخالف فلم کی تقسیم میں بھی ملوث رہی ہے۔

یہ اپنی نوعیت کی کوئی پہلی خبر نہ تھی اور نہ ہی اس میں یہودی و مغربی ذرائع ابلاغ کی بے پناہ دلچسپی کوئی پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے جولائی 2012 میں بھی ایک مغربی میگزین "دی ایڈوکیٹ" کی طرف سے یہ الزام سامنے آچکا تھا کہ بعض جہادی علماء نے جہاد کے دوران "ہم جنس پرستی " جیسے قبیح فعل کی اجازت دی ہے۔ یہ فتاوی اور ان سے متعلقہ خبریں ایسی قبیح تھیں کہ کوئی ذی شعور مسلمان جو کہ اسلام  کی زرا سی بھی شدبد رکھتا ہو ان کو  تسلیم کر سکتا تھا۔

 شیخ محمد العریفی تک جب ان سے منسوب اس فتوے کے بارے میں خبریں پہنچیں تو انہوں نے پر زور الفاظ میں اس کی تردید کی۔ ٹویٹر اور فیس بک پر موجود ان کے تردیدی بیانات کے مطابق ان سے منسوب یہ فتوی ایک گھڑا گھڑایا جھوٹ ہے جس کا ان سے ہرگزکوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یوٹیوب پر موجود انکے کئی خطبات میں اس فتوی کی پرزور تردید موجود ہے۔

 ہونا تو یہ چاہیے تھا کہشیخ محمد العریفی کی جانب سے واضع تردید کے بعد یہ تمام ویب سائٹز اور میڈیا مراکز اپنی اس خبر کے غلط ہونے کی تصدیق کرتے اور بغیر تحقیق کے شائع ہونے والی اس خبر کے حوالے سے اپنے قارئین سے معذرت کرتے۔ لیکن الرٹ نیٹ کے علاوہ کسی کو بھی اتنی توفیق نہ ہوسکی۔ صرف الرٹ نیٹ نے واضح طور پر اس جھوٹی سٹوری کو بغیر تصدیق کے شائع کرنے پرمعافی مانگی۔ جبکہ ایک دوسرے میڈیا مراکز مثلا سیلون ڈاٹ نیٹ نے تین جنوری 2013 کو بغیر معافی مانگے یہ رپورٹ اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دی۔ 3 جنوری کو ہی "ایم ایس این ڈاٹ کام" نے اپنی سٹوری کے ساتھ شیخ العریفی کا فتوے سے لاتعلقی کا بیان بھی شامل کیا۔ مغربی میڈیا مراکز کے اور بہت سے ادارے جو کہ اس سٹوری کو چھاپنے میں ملوث رہے ہیں معذرت یا تردیدی بیان شائع کررہے ہیں۔ لیکن اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ابلاغی ادارے آج بھی اس جھوٹ کو پھیلانے میں مصروف ہیں اور اس کو پورے دھڑلے سے بیان کر رہے ہیں۔

 لیکن معاملہ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوگیا کچھ دن پہلے ہی تیونس کے وزیر داخلہ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ انہیں یہ شواہد ملے ہیں کہ تیونس سے کچھ لڑکیاں شام میں مجاہدین کی جنسی تسکین کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ اور ان کو اجتماعی طور پر جنسی تسکین کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس خبر کو پھیلانے میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ساتھ سعودیہ اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ ملکیت کے ادارے ’العربیہ نیوز‘ کا بھی ہاتھ ہے۔  لیکن حقیقت بہت واضع ہے کہ شامی سرزمین پر موجود مغرب کے لئے قابل قبول فری سیرین آرمی کے جنگجوں کے علاوہ  مختلف الخیال بین القوامی انسانی حقوق کی تنظیمیوں اور رضاکاروں نے ایسی کسی بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ یہ تیونسی حکومت کی جانب سے چھوڑی گئی پھلجڑی ہے جس کا واحد مقصد ملک کے شمال میں الجزائر کی سرحد کے ساتھ جہادیوں کے خلاف جاری فوجی کاروائی کو عوامی حمایت مہیا کرنا ہے۔

مزید تفصیلات کے لئے درج ذیل لنک دیکھے جا سکتے ہیں۔
جھوٹ کی کہانی
تیونسی وزیر داخلہ کے بیان کی حقیقت

Friday, December 21, 2012

اکستانی پولیس، خفیہ ایجنسیوں کے نئے اختیارات پر تحفظات کا اظہار

پاکستان میں قومی اسمبلی نے پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کو مشتبہ افراد کی ٹیلی فون کالز، ای میلز اور ایس ایم ایس پیغامات کی نگرانی کا اختیار  دینے کے لیے جو مسودہء قانون منظور کیا ہے، اس پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
'فیئر ٹرائل 2012‘ نامی یہ بل جمعرات کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم اور حزب اختلاف کی پارٹی مسلم لیگ ن نے بھی اس بل میں خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔ اس نئے مسودہ قانون کے تحت الیکٹرونک آلات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل کیے گئے شواہد کو عدالتوں میں قابل قبول شہادتوں کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔ اس سے قبل مواصلاتی نوعیت کے شواہد کو عدالتوں میں قانونی حیثیت حاصل نہیں تھی۔
’ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے‘
 
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی سربراہ زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ اس قانون سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’خفیہ ایجنسیاں معلومات ویسے بھی اکٹھی کرتی ہیں۔ مگر جب انہیں شہریوں کی ای میلز اور ٹیلی فون کالز تک رسائی ملے گی، تو اس کے غلط استعمال کا بہت اندیشہ ہے اور یہ بھی کہ یہ شہادتیں عدالت میں پیش ہو سکتی ہے، تو ظاہر ہے اس سے شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔ انہوں (حکومت) نے اس قانون کو انسانی حقوق کے پس منظر میں نہیں دیکھا‘۔
حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ’پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے، جو پہلے ہی بھاری قانون سازی کے لیے جانے جاتے ہیں، جہاں پہلے ہی بہت سارے قانون موجود ہیں اور قانون بنا کر ہم کتابوں اور قوانین کا ڈھیر لگاتے جائیں اور اس کے نفاذ کا نظام نہ ہو، تو قانون نہیں چلے گا‘۔
حزب اختلاف کی پارٹی مسلم لیگ ن نے بھی اس بل میں خامیوں کی نشاندہی کی تھی
 
ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کا کہنا ہےکہ اس نئے قانون کے سیاسی انتقام اور مفادات کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی نصیر بھٹہ نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ قانونی مسودہ آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے۔
نصیر بھٹہ نے کہا، ’بنیادی حقوق تو کسی شخص کی زندگی، آزادی اور پرائیویسی کا تحفظ کرتے ہیں۔ لیکن اس بل کے اندر تحفظ نہیں بلکہ خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں میں آلہ دے دیا گیا ہے کہ وہ جس کی اور جیسے چاہیں، جاسوسی کریں۔ تو میرے خیال میں اس کی حساسیت بہت زیادہ ہے، دیکھنا ہو گا کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اس معیار پر کس حد تک پورا اترتی ہیں‘۔
ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کئی عام شہریوں کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت ایجنسیوں کو بے پناہ اختیارات مل جائیں گے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان خدشات کے برعکس وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ قانون سے دہشت گردوں کو شکست دینے میں مدد ملے گی.

بشکریہ : وایس آف جرمنی (ڈی ڈبلیو)

امریکی بچوں کا قتل عام ایک حادثہ ، اور پاکستانی بچوں کا قتل کیڑے مکوڑوں کا مارے جانا!!!

صرف الفاظ آپ کا دکھ بیان نہیں کرسکتے اور نہ ہی یہ آپ کے زخمی دلوں کو پر مرھم رکھ سکتے ھیں۔ ان حادثات کو ختم ھونا چاہیے  اور ان کو ختم کرنے کے لیے ضروی ھے کہ ہم اپنے آپ کو بدلیں"

 صدر اوبامہ کے نیو ٹاون میں 20 بچوں کے مارے جانے پر کہے جانے والے ان الفاظ کو دنیا بھر کے والدین اپنی دل کی گہرایئوں سے محسوس کرسکتے ھیں ،وہاں بشمول میڈیا کوئی ایک بھی بندہ ایسا نہ تھا جس نے اس قصبے کے لوگوں کا درد محسوس نہ کیا ھو
لیکن یہ اصول ،جیسے کہ ان بچوں کے ضمن میں درست ھے جن کو ایک جنونی نوجوان نے مار ڈالا ویسے ہی یہ ان بچوں کے ضمن میں بھی درست ھے جو کہ پاکستان میں ایک "رنجیدہ امریکن صدر" کے ہاتھوں مارے گئے ۔یہ بچے بھی دنیا کی توجہ کے لیے اہم ،حقیقی اور مستحق ھیں،مگر اس کے باوجود ان کے لیے نہ کوئی صدارتی تقریر، نہ ہی دنیا کے اخبارات کے پہلے صحفوں پر ان کی تصاویر، نہ ہی ان کے بلکتے ھوئے رشتے داروں کاکوئی انٹرویو اور نہ ہی اس کا کوئی تجزیہ کہ کیا ھوا اور کیوں ھوا!!

اور اگر صدر اوبامہ کے ڈرون حملوں کا شکار لوگوں کا کبھی تذکرہ بھی کیا گیا تو ایسے پیرائے میں جیسے وہ انسان نہ ھوں!! رولنگ سٹون میگزین کہتا ھے کہ وہ لوگ جو ڈرون چلاتے ھیں ان کے مارے جانے کو فصلی کیڑوں کے مارے جانے سے تشبیہ دیتے ھیں، جن کو ڈرون کے کیمرون کے زریعے حاصل ھونے والے سبز مائل تصویروں میں دیکھ کر یوں لگتا ھو، جیسے ایک کیڑا مسلا جارھا ھو یا اسے مٹی میں ملایا جارھا ھو۔

ڈرون حملوں کی وکالت کرتے ھوئے اوبامہ کا انسداد دھشت گردی کا ماہر بروس ریڈل کہتا ھے "تمھیں گھاس کو ہروقت کاٹنا ھوتا ھے جیسے ہی تم اسے کاٹنا بند کرتے ھو یہ دوبارہ اگ آتی ھے "

بش انتظامیہ کی طرح ہی اوبامہ کی حکومت نے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں ڈرون حملوں سے ھونے والی عوامی ہلاکتوں کا نہ کبھی ریکارڈ مرتب کیا ھے اور نہ ہی انہیں تسلیم کیا ھے ،مگر سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی میں لا سکولز کے تحت کی جانے والی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ھے کہ صدر اوبامہ اپنے  اقتدار کے صرف ابتدائی تین سالوں میں، 259 ڈرون حملوں کے زریعے 297 سے لے کر  569 کے لگ بھگ لوگوں کو مارنے کا زمہ دار ھے جن میں سے 64 بچے تھے !! یہ وہ اعداد و شمار ھیں جو کہ مصدقہ زرائع سے حاصل کیے گئے ھیں ان میں وہ تعداد شامل نہیں جو کہ کبھی ریکارڈ پر ہی نہیں لائے گئے !
اس علاقے کے بچوں پر ان حملوں کے مرتب کردہ اثرات بہت بھیانک ھیں ،لاتعداد بچوں کو ان کے والدین نے اس لیے سکولوں سے اٹھا لیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ کسی بھی طرح کے اجتماع کو ڈرون سے نشانہ بنایا جاتا ھے۔ بش نے ڈرون حملوں کا جو پروگرام شروع کیا تھا اور جس کو اوبامہ نے وسعت دی اسمیں کئی سکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔۔ بش کی ایک بدمعاشی نے 69 بچوں کو مارڈالا تھا
یہ تحقیقی رپورٹ دکھاتی ھے کہ بچے ڈرون کی آواز سنتے ہی خوف سے چیخنا شروع کردیتے ھیں ایک مقامی نفسیات دان کا کہنا ھے کہ یہ خوف اور دھشت ان کے لیے مستقل زھنی ازیت کا سبب بن رھا ھے ،ڈرون حملوں میں زخمی ھونے والے بچوں نے تحقیق کاروں کو بتایا کہ وہ سکول واپس جانے سے بہت زیادہ خوفزدہ ھیں اور اپنے مستقبل کی ہرامید چھوڑ بیٹھے ھیں، ان کے خواب بھی ان کے اجسام کی طرح ٹوٹ چکے ھیں!!
اوبامہ بچوں کو جان بوجھ کر نہیں مارتا مگر ان کی موت ان ڈرون حملوں کا ہی شناخسانہ ھے ھمیں علم نہیں ھے کہ صدر اوبامہ پر ان حملوں کا کیا جزباتی ردعمل ھوتا ھے کیونکہ نہ ہی کبھی وہ اور نہ اس کا کوئی اہلکار کبھی ان حملوں کو زیر بحث لاتا ھے پاکستان میں ھونے والی سی آئی اےکی قوانین سے برتر ایسی تمام کاروایئاں خفیہ رکھی جاتی ھیں مگر یہ آسانی سے جانا جاسکتا ھے کہ امریکی حکومت میں سے کسی کو اس کی پرواہ نہیں ھے          
نیو ٹاون امریکہ میں ھونے والے بچوں کے قتل سے صرف دو دن پہلے صدر اوبامہ کی پریس سیکرٹری سے یمن اور پاکستان میں ھونے والے ڈرون حملوں کے دوران مارے گئے عورتوں اور بچوں کے بارے میں جب پوچھا گیا تو اس نے یہ کہہ کر جواب دینے سے انکار کردیا کہ یہ معاملات "خاص" ھیں، اس کےبجائے اس نے صحافیوں کو اوبامہ حکومت کے انسداد دھشت گردی کے نائب جون برنین کی تقریر سے رجوع کرنے کا کہا۔۔ برنین کا اصرار ھے کہ القاعدہ کا معصوم عورتوں اور بچوں کو مارنا مسلمانوں کے اندر اس کے پیغام کو بدنام اور کمزور کرنے کا سبب بنا ھے
مگر جس حقیقت کو سمجھنے سے برنین قاصر دکھائی دیتا ھے وہ یہ ھے کہ ڈرون کی جنگ نے بعنیہ یہی کردار امریکہ کے لیے بھی ادا کیا ھے ۔برنین کے نزدیک پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں رھنے والے لوگ نہ ہی گھاس ھیں اور نہ ہی کوئی کیڑے مکوڑے۔۔اسں کے مطابق ڈرون کے ٹارگٹ معاشرے کے لیے ایک رستا ناسور ھے اور اس سے نکلتے ھوئے بیماری کے ریشے۔
ہر اس بندے سے خبردار رھو جو کہ ایک انسان کو انسانیت کے علاوہ کسی اور طرح سے بیان کرتا ھو
برنین "چھوٹے پیمانے" پر ھونے والے کولیڑول نقصان کا اعتراف کرتا ھے مگر اس کا دعوی یہ ھے کہ امریکہ معصوم زندگیوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ھے۔ ڈرون حملہ اسی وقت ھوتا ھے جب کہ امریکی زندگیوں کو کوئی خطرہ لاحق ھو
منظور شدہ حملوں کا نطریہ اوبامہ کے زیر تحت پیدا ھوا، جس کا کوئی قانونی سراغ نہیں ملتا، ان کی منظوری چند پیش کردہ خاکوں کی بنیاد پر دی جاتی ھے ، ایک خاکہ چند نامعلوم بندوں کا ھوسکتا ھے جو کہ بندوقیں اٹھائے کہیں جارھے ھوں مگر یہ ان کو ان علاقوں کی بقیہ آبادی سے متمیز کرنے کے لیے کافی نہیں اسی طرح یہ کچھ ایسے بندوں کا ھوسکتا ھے جو کہ زمین میں کچھ دبا رھے ھوں ۔ اسی لیے کئی شادی اور جنازے کی تقریبات نشانہ بنائی گئیں اسی طرح پچھلے مارچ میں اس اجتماع کو نشانہ بنایا گیا جہاں پر چالیس سردار ایک کرومایئٹ سرنگ سے نکلنے والی آمدن کا حساب کرنے کے لیے جمع ھوئے تھےیہ ان بہت سی وجوہات میں سے ایک ھے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بچے مارے جارھے ھیں.
اوبامہ نے شائد کبھی ہی ڈرون پروگرام کا یا ان بچوں کا زکر کیا ھوجو کہ ان حملوں میں مارے گئے۔ جنوری میں ھونے والی ایک ویڈیو کانفرنس میں اس کا ایک مختصر اور مبہم سا بیان موجود ھے،جس سے کچھ بھی اخذ کرنا کارے دارد ھے۔ اسمیں ان اموات کے جواز کا فیصلہ دوسروں پر چھوڑ دیا گیا ھے ۔ اکتوبر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کے رھنما جو کلین نے ایک ٹی وی چینل پر دعوی کیا تھا کہ "نیجہ ان سب باتوں کا یہ ھے کہ کس کا چارسالہ بچہ مارا جاتا ھے ؟ ہم صرف یہ کررھے ھیں کہ کہ ان ممکنات کو کم کیا جاسکے جس کی وجہ سے "یہاں امریکہ میں " کوئی چار سالہ بچہ کسی دھشت گردی کے واقعے میں مارا جاسکے ۔ جیسے کہ گلین گرین وارڈز نے بھی اس طرف اشارہ کیا کہ کسی چار سالہ بچے کو ماردینا وہ کام ھے جو کہ دھشت گرد کرتے ھیں یہ جوابی قتل کو نہیں روک سکتا یہ دھشت گردوں کو جوابی کاروائی پر اکساتا ھے اور ان میں غم اور غسے کے جذبات کے پیدا ھونے کا سبب ھے ۔
دنیا بھر کے اس میڈیا نے جس نے بجا طور پر نیو ٹاون میں بچوں کے قتل کی مزمت کی ھے، مگر اس نے  اوبامہ کے ہاتھوں ھونے والے بچوں کے قتل عام کو نظر انداز کردیا ھے یا اسی حکومتی موقف کو قبول کرلیا ھے کہ مارے جانے والے سارے دھشت گرد ھیں ۔ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں مارے جانے والے بچے ہمارے بچوں کی مانند نہیں ھیں ان کا کوئی نام نہیں ،ان کے لیے کوئی تعزیتی گلدستے ،شمعیں یا ٹیڈی بیرز نہیں ۔ ان کا تعلق دوسری طرف کی غیر انسانی ،غیر حقیقی ،گھاس اور کیڑے مکوڑوں کی دنیا سے ھے!!
اوبامہ نے اتوار کو پوچھا تھا کہ کیا ہم یہ قبول کرنے کے لیے تیار ھیں کہ جس تشدد کا سامنا ہمارے بچوں کو سالہا سال سے ھے وہ ہماری آزادی کی قیمت ھے ؟
یہ ایک اہم سوال ھے ،مگر اسے اس کا طلاق اس تشدد پر بھی کرنا چاہیے جو کہ اس نے پاکستانی بچوں پر نازل کررکھا ھے

اصل تحریر کا لنک حسب زیل ھے
http://www.guardian.co.uk/commentisfree/2012/dec/17/us-killings-tragedies-pakistan-bug-splats