Showing posts with label افغانستان. Show all posts
Showing posts with label افغانستان. Show all posts

Saturday, August 3, 2013

ایمن الظواہری نے اپنے آڈیو ہیغام میں مُرسی حکومت کی برطرفی کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا ہے

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ  مصر کے اسلام پسندوں کی منتخب حکومت جو صدر ڈاکٹر مُرسی کی قیادت میں قائم ہوئی تھی پر سیکولر فوج نے شب خون خلیجی ممالک کے سرمائے اور امریکی ہدایت پر مارا ہے۔

القاعدہ سربراہ  نے ان خیالات کا اظہار مصر میں اسلام پسندوں کی حکومت کے خاتمے کے ایک ماہ کے بعد جاری کیے گئے اپنے پہلے آڈیو بیان میں کیا ہے۔  پندرہ منٹ پر محیط ایمن الظواہری کا بیان اسلام پسندوں کے انٹرنیٹ فورم پر پوسٹ کیا گیا ہے۔


ایمن الظواہری نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''صلیبی، سیکولر اور امریکی رنگ میں رنگی جا چکی مصری فوج نے خلیجی ممالک کے سرمائے کی مدد اور امریکی ہدایت اور منصوبےپر عمل کرتے ہوئےاسلام پسندوں کی صدر مُرسی کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت کو برطرف کیا ہے۔''

القاعدہ سربراہ نے کہا ہے کہ  امریکہ اور لادین عناصر نے اس لیے مرسی حکومت کو اس لئے برطرف کیا کیوں کہ یہ الاخوان المسلمون کے ''نعروں جہاد ہماری جنگ اور شہادت ہماری آرزو ہے'' سے آگاہ ہیں۔ اگرچہ اخوان المسلمون نے اب اپنے ان نعروں کی جگہ ''اسلام ہی مسائل کا حل ہے'' کا نعرہ اختیار کر لیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود صلیبی اور سیکولر اخوان کے اصل اور اس کے ماضی کو فراموش نہیں کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا جو کچھ مصر میں ہوا ہے یہ جمہوری طریقوں کی ناکامی کا ثبوت ہے، کہ اس راستے سے اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔ القاعدہ سربراہ نے اپنے آڈیو بیان میں مسلمانوں کو دعوت دی ہے کہ ''اسلامی قانون کی حکمرانی کے لیے متحد ہو جائیں۔''

القاعدہ رہنما نے مرسی حکومت کے خاتمے میں مصر کے قبطی عیسائیوں پرملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ''قبطی عیسائی مصر کے جنوب میں قبطی ریاست بنانےکے لیے کوشاں ہیں۔'' ایمن الظواہری نے اپنے اس پہلے بیان میں عبوری حکومت کے نائب صدر محمد البرادعی کوامریکی سفیر قرار دیتے ہوئے کہا عراق کی تباہی میں اس کا نمایاں کردار ہے۔

ڈاکٹر ایمن الظواہری نے مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر مُرسی کی حکومت پر فوج کے شب خون اور اس کے بعد سیکولرعناصر اور عیسائیوں کو اقتدار میں لانے کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیا ہے۔

Wednesday, May 15, 2013

امریکہ 2014 کے بعد افغانستان میں فوجیوں کو رکھنے کے لئے کوشاں ہے

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر اوباما جلد ہی 2014ء کے بعد وہاں امریکی فوجی دستوں کی مجوزہ تعیناتی کے بارے میں اپنے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
 
صحافیوں سے گفتگو میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ صدر اوباما جلد ہی 2014ء میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں امریکی فوجی دستوں کی مجوزہ تعیناتی کے بارے میں اپنے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
 
امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ جان کیری کا کہنا ہے کہ صدر اوباما 2014ء کےبعد افغان فوج کی مدد جاری رکھنے پر یکسو ہیں۔ تاہم یہ یہ طے نہیں ہو سکا ہے کہ وہاں کتنے فوجیوں نے 2014 کے بعد رہنا ہے۔

یاد رہے کہ 2014ء میں افغانستان سے تمام غیر ملکی قابض افواج کے دستے بد ترین ناکامی  کے بعد واپس اپنے ملکوں کو لوٹ جائیں گے۔ تاہم امریکہ  افغانستان کی کٹ ُپتلی فورسز کی تربیت اور مزاحمت کاروں کے خلاف کاروائیوں میں ان کی اعانت کے نام پر امریکی فوجیوں کی کچھ تعداد افغانستان میں رکھنا چاہتا ہے۔

  امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جیمز میٹس نے اس سال مارچ میں کہا تھا کہ انہوں نے صدر اوباما کو 2013ء کے بعد افغانستان میں 13 ہزار 600 فوجی رکھنے کی سفارش کی ہے۔

Wednesday, April 24, 2013

پاکستان افغانستان جا کر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس راسموسن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ان افراد کے خلاف کاروائی کرے جو اس کی سرزمین سے افغانستان میں نیٹو اور امریکی افراج پر حملے کر رہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق راسموسن نے یہ بات  امریکہ کی سربراہی میں ہونے والی بات چیت کے موقع پر افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ گفتگو کے دوران کی ہے۔
نیٹو کے برسلز ہیڈکوارٹر میں میٹنگ کے دوران راسموسن نے مزید کہا ہے کہ ’ ہم نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں دیر پا قیام امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں پاکستان کے مثبت کردار کی ضرورت ہے۔‘

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس فو راسموسن انہوں نے کہا ’پاکستان اور افغانستان کا باہمی مفاد شدت پسندی، انتہا پسندی اور سرحد پر غیر قانونی نقل وحرکت کے خلاف لڑنا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں اتحادی افواج سکیورٹی کے معاملات افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کر رہی ہے اور ایساف کا کردار اب جنگجو قوت سے امدادی قوت میں بدل رہا ہے۔

اس موقع پرکٹ پتلی افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ وہ نیٹو کی مسلسل حمایت کے منتظر ہیں۔ خیال رہے کہ آج حامد کرزئی، امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری اور پاکستانی فوج کےسپہ سالار جنرل اسفاق پرویز کیانی ملاقات کر رہے ہیں جس میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل جیلانی اور افغانستان کے وزیرِ دفاع بسم اللہ خان محمدی کی شرکت بھی متوقع ہے۔

Thursday, February 28, 2013

کابل میں افغان فورسسز پر حملے میں متعدد ہلاک اور زخمی ہو گئے

افغانستان کے دارالحکومت میں افغان فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی بس پر ہونے والے خُودکش حملے میں متعد افغان فوجی مارے گئے ہیں جبکہ بہت سے زخمی ہوگئے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق  یہ حملہ افغان دارالحکومت کی بھاری سکیورٹی والی ایک مرکزی سڑک پر ہوا ہے۔  افغان پولیس کے ترجمان حشمت اللہ نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 10 منٹ پر کابل کے تیسرے ڈسٹرکٹ میں ایک پیدل خود کُش بم حملہ آور نے ایک ملٹری بس کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

 ایک عینی شاہد نے ٹولو ٹیلی وژن چینل کو بتایا کہ اس خود کُش بم حملہ آور نے برف باری سے بچاؤ کے لیے ہاتھ میں چھتری اٹھا رکھی تھی۔ عینی شاہد کا کہنا تھا کہ میں سڑک کے پار کھڑا تھا جب میں نے ایک شخص کو چھتری اُٹھائے ملٹری بس کی طرف بڑھتے دیکھا۔ وہ پھسلتا ہوا بس کے نیچے چلا گیا، میں نے سمجھا کہ وہ بس ڈرائیور ہے۔ تاہم چند ہی لمحوں میں ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا۔ 

 طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اے ایف پی کوبتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں افغان فوج کے 17 اہلکار مارے گئے جبکہ  اور 17 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

Sunday, February 10, 2013

امریکی افواج افغانستان میں بچوں کو بڑے پیمانے پر قتل کر رہی ہیں

جنیوا میں قائم بچوں کے حقوق کے بارے میں قائم  اقوام متحدہ کی کمیٹی نے افغانستان میں امریکی فوج کےزمینی و فضائی حملوں میں بچوں کی بے تحاشا اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 اقوام متحدہ کی کمیٹی ’کنونشن آن دی رائیٹس آف چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ بچوں کی اموات امریکی فوجیوں کی لاپروہی  اور طاقت کے بے دریغ استعمال‘ کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔

کمیٹی نے اقوام  متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی فوج کو آبادیو پر فضائی حملوں اور طاقت کے بے دریغ استعمال سے روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ اس نوعیت کے حملوں میں کوئی بے گناہ  بچہ یا شہری نہ مارا جائے۔

 امریکی محکمہ ِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ رپورٹ ابھی تک نہیں دیکھی، لیکن وہ جلد اس کا جائزہ لیں گی۔

Wednesday, January 30, 2013

افغان وزارت داخلہ کی 50 سے زائد افغان فوجی طالبان سے مل جانے کی تصدیق

افغان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 50 سے زائد افغانستان کی سرکاری سیکورٹی فورس کے  اہلکار منحرف ہو کر مزاحمت کار طالبان میں شامل ہوگئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان غلام صدیق صدیقی نے بتایا ہے کہ گذشتہ چار مہینوں کے دوران 50 سے زائد سیکوریٹی اہلکار طالبان میں شامل ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تازہ واقعے میں نیمروز صوبے میں افغان پولیس کے چار اہلکار ایک گاڑی اور بڑی مقدار میں اسلحہ بارود سمیت طالبان میں شامل ہوئے ہیں۔

سرکاری فوجیوں کی جانب سے طالبان کی شمولیت کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس سے افغانستان کی سیکورٹی فورسز کی صورتحال میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے 86 فیصد حصے پر افغان سیکورٹی فورسز کا کنٹرول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیکورٹی اہلکاروں کی طالبان میں شمولیت نے افغان فورسز کے حوصلوں کو پست نہیں کرسکا ہے۔

Wednesday, January 23, 2013

افغانسان میں گرفتار بچے افغان اور قابض افواج کے شدید تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں

افغانستان میں مجاہدیں سے تعلق کے الزام میں گرفتار بچوں کو افغان اور قابض افواج کے اہلکار شدید تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان پر تشدد کے لیے مار پیٹ اور بجلی کے جھٹکوں کے علاوہ کئی دیگر ازیت رسانی کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

 افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی طرف سے زیر حراست افراد پر تشدد کے حوالے سے  جاری کی گئی  139 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے مطابق قیدیوں پر تشدد کے لئے انہیں کلائیوں پر زنجیر باندھ کر لٹکائے رکھنا اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکی دینے جیسے بیمانہ طریقوں کا استعمال عام ہے۔

رپورٹ کے مطابق تشدد کے ذریعے جن لوگوں سے جرائم کا اقرار کروایا گیا ان میں سے زیادہ تعداد 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی ہے۔


اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2011ء سے اکتوبر 2012ء کے دوران 635 قیدیوں سے معلومات حاصل کی تھیں، ان میں سے تقریباً نصف سے زائد کو ایسے مراکز پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو افغان پولیس اور نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سکیورٹی کے زیر انتظام ہیں۔ اور باقی نصف کو قابض افواج کے زیر انتظام حراستی مراکز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔


افغانستان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جان کیوبس (Jan Kubis) نے کہا ہے کہ قیدیوں پر غیر انسانی تشدد کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات  نہایت ’سنجیدہ خدشات کا باعث‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی طرف سے زیر حراست افراد پر تشدد کے واقعات روکنے کے سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
 
یاد رہے کہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب افغان حکومت مطالبہ کر رہی ہے کہ ملک میں موجود ایسے تمام حراست مراکز کا مکمل کنٹرول افغان حکام کے حوالے کیا جائے جو اس وقت نیٹو اور دیگر بین الاقوامی قابض افواج کے زیر کنٹرول ہیں۔

Tuesday, January 22, 2013

سی آئی اے کو پاکستان میں بلا روک ٹوک ٹارگٹ کلنگ کا اجازت نامہ مل گیا

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے  کو ایک سال کے پاکستان میں ڈرون حملوں اور دیگر آپریشنز کے ذریعے انسانوں کو پڑے ہیمانے پر قتل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ نے انسدادِ دہشتگردی کا ایک مفصل مینوئل ’’کاؤنٹر ٹیررازم پلے بک‘‘ کے نام سے تیار کیا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں امریکی ٹارگٹ کلنگ آپریشنز کے قواعد و ضوابط طے کرنا ہے۔  لیکن اس میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے پاکستان میں کیے جانے والے حملوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اخبار کے مطابق سی آئی اے کو مزید ایک برس تک پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت امریکی افواج اور خفیہ اداروں کو پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرنے کے لیے امریکی صدر کی پیشگی اجازت درکار ہوگی۔

امریکی حکام کے مطابق اس نئی پالیسی کا مقصد  القاعدہ اور طالبان کو کمزور کرنا ہے تاکہ وہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے دوران اس کے لیے مشکلات پیدا نہ کر سکیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ’پلے بک‘ کی تیاری کی کوششیں گزشتہ برس اس لئے ناکام ہو گئیں تھیں کیونکہ امریکی محکمۂ خارجہ، سی آئی اے اور پینٹاگون کے درمیان پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں اور دیر معاملات پر اتفاقِ رائے نہیں ہو رہا تھا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملے بلا روک ٹوک جاری رکھنے کی  اجازت ملنے کی بدولت ہی اس دستاویز کی تیاری ممکن ہو سکی۔  صدر اوباما آئندہ چند دنوں میں دستاویز کی حتمی منظوری دیں گے۔

Thursday, January 10, 2013

افغان فوجی نے فائرنگ کر کے افغانستان پے قابض نیٹو افواج کا ایک اہلکار قتل کر دیا

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں افغان فوجی اہکار نے فائرنگ کرکے ایک برطانوی فوجی کو قتل کردیا ہے۔ کسی افغان فوجی اہلکار کی جانب سے غیرملکی فوجی کے قتل کا یہ 2013 کا پہلا واقعہ ہے۔ 
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق افغانستان میں موجود مغربی فوجی اتحاد نیٹو کے تحت انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) نے اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے  ہوئے  بتایا ہے کہ اس کو افغان نیشنل آرمی کے اہکار نے  قتل کیا ہے۔ 

ایساف کے ترجمان میجر مارٹن کریگٹن نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعہ شورش زدہ صوبہ ہلمند کے ضلع نہر سراج میں ایک فوجی اڈے پر پیش آیا جہاں حملہ آور نے پہلے افغان فوجیوں پر فائرنگ کی تھی اور ا س کے بعد اس نے انجنیئیرنگ رجمنٹ میں شامل ایک برطانوی فوجی کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔برطانوی فوجیوں نے حملہ آور کو بھی موقع پر ہی گولی مار ہلاک کردیا ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ تاہم فوری طور پر واقعہ کی وجوہ سامنے نہیں آئی ہیں۔ واضح رہےکہ ماضی اس طرح کے حملوں کے باعث ہی غیر ملکی قابض اہلکاروں کو افغانستان کے اند طالبان اور اسلام کے خالف گفتگو کر سے روک دیا گیا تھا۔

Monday, January 7, 2013

امریکہ 2014 کے بعد کے افغانستان کے بار میں فکر مندی کا شکار ہے

 امریکہ کے فوجی کمانڈر جنرل جان ایلن نے امریکی حکومت کو تجویز دی ہے کہ 2014 کے بعد بھی کم ازکم  6 ہزاریا پھر 20 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں تعینات رکھے جائیں۔

ایک امریکی اخبار میں شائع ہونے والی روپوٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے بھی جرنل جان الین کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں 2014 کے بعد بھی موجود امریکی فوجیوں کی محدود تعداد القاعدہ پر توجہ مرکوز رکھے گی تاکہ یہ تنظیم دوبارہ وہاں پر اپنے قدم نہ جما سکے۔

 ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ افغان صدر کرزئی کے 2013 میں ہونے والے امریکہ کے  دورے کے دروان ہم کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ اس اہلکار کے مطابق صدر اوباما افغانیوں کو یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ ان کے اتحادی امریکی ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ باراک اوباما کی صدر کرزئی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں سب سے اہم موضوع 2014 کے بعد امریکی فوجیوں کی افغانستان میں تعینانی ہوگا۔


امریکی اخبار کے مطابق اس وقت افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد تقریبا 68 ہزار ہے۔ جنہوں نے دیگر ممالک کی افواج کے ہمرا 2014 تک افغانستان سے نکل جانا ہے۔ موجودہ منصوبے کے تحت اس کے بعد  تمام فوجی اور سیکورٹی کی ذمہ داریاں افغانوں کے حوالے کر دی جائیں۔

امریکی اخبار کے مطابق اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن کا خیال ہے کہ افغان سیکورٹی فورسزاس قابل  نہیں ہیں کہ امریکیوں کے نکل جانے کے بعد  یہ ذمہ داریاں آدا کر سکیں۔ اس لئے امریکی حکام افغانستان کے مستقبل کے بارے میں سخت مایوسی کا شکار ہیں۔

سابق سفیر کا کہنا ہے کہ 2014 میں امریکی فوجوں کے افغانستان سے نکل آنے کے بعد طالبان ایک بار پھر افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیں گے، اگرچہ امریکہ کے نقطہ نظر سے یہ انتہائی منفی نتیجہ ہو گا۔ لیکن امریکہ کے افغانستان سے نکلنے  کی صورت میں یہ امر یقینی ہے کہ طالبان اور القاعدہ کو اقتدار واپس مل جائے گا، اور اس کی وجہ سے امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک کے لیے جو خطرات پیدا ہوں گے ان کا صرف تصور ہی دل دھلا دینے کے لئے کافی ہے۔

 امریکہ کے سابق وزیرِ دفاع ولیم کوہن کہتے ہیں کہ2014 کے بعد بھی افغانستان میں بین الاقوامی فورس ضرور موجود رہنی چاہیے۔ یہ کام صرف امریکہ پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ دیگر ممالک کو بھی اس کا احساس کرنا چاہیئے۔ یہی چیز دنیا کے مفاد میں ہے، اگر ہم بھی دیگر ممالک کے ہمرا وہاں سے چلے آئے تو بھر اس کے بعد کوئی اچھی صورتِ حال نہیں ہو گی۔

 تجزیہ کاروں کے مطابق بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد وہاں دوبارہ طالبان کا اقتدار قائم ہو سکتا ہے اس لیے افغانستان پر منڈلاتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے وہاں امریکی فوجیوں کی طویل عرصے تک تعیناتی کی بات کی جا رہی ہے۔ 

 افغانستان میں طالبان کے زیر قیادت ہونے والی بغاوت سے نمٹنے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 1لاکھ 50 ہزار سے کم ہو کر 1لاکھ تک رہ گئی ہے۔

Tuesday, January 1, 2013

پاکستان نے امریکا کو زمینی راستے سے افغانستان اسلحہ لے جانے کی اجازت دے دی

پاکستان نے امریکہ کو طورخم اور چمن کے زمینی راستے سے افغانستان میں اسلحہ اور ایمونیشن لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔

پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کہا ہے کہ امریکا کو طورخم اور چمن سے اسلحہ لے جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 ایف بی آر حکام کے مطابق اس سلسلے میں پاکستانی کسٹم جنرل آرڈر میں ترمیم کا نوٹی فکیشن فوری طور پر جاری کردیا گیا جس کے بعد امریکا کوطورخم اور چمن سے اسلحہ اور ایمونیشن افغانستان لے جانے کی راہ داری مل گئی ہے۔

 ایف بی آر کے مطابق امریکا کو فوجی گاڑیوں کے پرزہ جات سمیت ہر قسم کا چھوٹا بڑا اسلحہ اور ایمونیشن لے جاسکے گا تاہم کیمیائی اور ایٹمی مواد یا پرزہ جات پر پابندی ہوگی۔

یاد رہے کہ پاکستان سے دو زمینی راستوں کے زریعے افغانستان میں موجود قابض غیر ملکی افواج کو جنگ جاری رکھنے کے لئے سپلائی کی سہولت مہیا کی جاتی ہے۔  پہلا جنوبی روٹ ہے جس سے کارگو کراچی اور بن قاسم پورٹ سے چمن کے راستے افغانستان اشیا جاتی ہیں، دوسرا شمالی روٹ ہے جس میں کراچی اور بن قاسم پورٹ سے طورخم کے لئے کارگو افغانستان جاتا ہے۔

پاکستان نے 8 افغان طالبان رہمناؤں کو رہا کر دیا ہے

 پاکستان نے ملک میں زیر حراست طالبان دور حکومت میں افغانستان کے اندر اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے 8 افغان طالبان رہمناؤں کو رہا کر دیا ہے۔
 
پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں 8 طالبان رہنماؤں کی رہائی کی تصدیق کی گئی ہے لیکن پاکستان دفتر خارجہ کے بیان میں 5 طالبان رہنماؤں کے نام بتائےگئے ہیں۔

رہا کیے جانے والے طالبان رہنماوں میں سابق گورنر ہلمند عبد الباری، سابق وزیر قانون ملا نور الدین ترابی، سابق وزیر اللہ داد طبیب، کابل کے سابق گورنر مُلا داؤد جان اور سابق گورنر میر احمد گل شامل ہیں۔

 پاکستان کے وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی امن کونسل کے مطالبے پر اب تک پاکستان 26 طالبان رہنماؤں کو رہا کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ افغان طالبان کے اہم رہنماء مُلا عبد الغنی برادر ابھی تک پاکستان میں زیرِ حراست ہیں۔

Monday, December 31, 2012

2012ء میں افغان نیشنل آرمی کے 1056 فوجی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں

  2012ء کےدوران افغانستان میں طالبان کے سینکڑوں مسلح حملوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد افغان فوجی مارے گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان پر2001ء میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے قبضے کے بعد کسی ایک سال کے دوران مرنے والے افغان فوجیوں کی یہ سب سے بڑی سالانہ تعداد ہے۔

 افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاہر عظیمی نے کابل میں صحافیوں کو بتایا کہ اس سال کے آخری نو مہینوں کے دوران طالبان کے حملوں میں بہت زیادی تیزی آئی ہے اور اس دوران افغان فوج کے 906 اہلکار مارے گئے ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر 2012ء کے دوران مارے جانے والے افغان فوج کے اہلکاروں کی تعداد ایک ہزار 56 رہی ہے۔

جنرل ظاہر عظیمی کا کہنا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کا یہ جانی نقصان عسکریت پسندوں کے فورسسز پر براہ راست حملوں یا بھر باغیوں کے ساتھ ہونے والی خونریز جھڑپیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں افغانستان میں ملکی فوج کو پہنچنے والے اس جانی نقصان میں بہت زیادہ  اضافہ ہوا ہے۔

 یاد رہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو 2014ء کے آخر تک افغانستان کا مکمل کنٹرول افغان نیشنل آرمی اور پولیس کے ساڑھے تین لاکھ اہلکاروں کے سپرد کر کے نکلنے کی کوشش میں ہے۔ تاہم اس سلسلے میں انہیں سخت مشکلات درپیش ہیں۔  جن میں افغان سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے قابض افواج کے اہلکاروں پر حملے، افغان سکیورٹی فورسز کے ارکان کا بھگوڑے ہو کر مزاحمت کاروں سے مل جانا، بھرتی کی غیر تسلی بخش شرح اور افغان دستوں کا مسلسل گرتا ہوا مورال زیادہ  بڑے مسائل ہیں۔

مسلمانوں پر جنگیں مسلط کرنے والے یورپی ممالک میں اقتصادی بحران کے باعث خودکشی کی شرح بڑ رہی ہے

افغانستان اور عراق کی جنگوں میں ہونے والے پے پناہ جنگی اخراجات کے باعث شروع ہونے والے یورپ کے اقتصادی بحران کے سبب یورپی ممالک کے شہریوں میں خودکشی کے واقعات اور نفسیاتی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

یورپ کے مقبول ٹی وی چینل، یورو نیوز کی رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک میں اقتصادی بحران کے باعث ہونے والی خودکشی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

خود کشی کی شرع میں سب سے زیادہ اضافہ عراقی جنگ میں امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی ممالک اٹلی اور سپین میں دیکھا گیا ہے۔

اٹلی کے ایک سماجی اور اقتصادی تحقیقی ادارے  نےاعلان کیا ہے کہ اٹلی میں گزشتہ دوسال کے دوران خودکشی کے واقعات میں تیس فی صد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ سپین سے موصولہ اعداد و شمار بھی اسی سے ملتے جلتے ہیں۔

عراق اور افغانستان کی جنگوں میں امریکہ کے اتحاد ی برطانیہ میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق برطانیہ میں اقتصادی بحران کی وجہ سے 2008 سے 2010  کے دوران ایک ہزار افراد خودکشی کرچکے ہیں۔

یورپی ملک یونان میں بھی خودکشی کی شرح میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ یونان میں انجام دی گئیں تحقیقات کے مطابق یونان میں خودکشی کرنے والے بے روزگاروں کی تعداد میں کم سے کم تیس فی صد اضافہ ہوا ہے ۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یورپ میں اقتصادی بحران کے جلد خاتمے کے کوئی آثار نطر نہیں آرہے ہیں۔  اس لئے مستقبل میں اس شرع میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے

Saturday, December 29, 2012

دنیا بھر کے علماء امریکی ایجنڈے پر منعقدہ "علماء کانفرنس" کا بائیکاٹ کریں۔ افغان طالبان

افغان طالبان نے ملک میں 2013 کے آغاز میں بلائی جانے والی علماء کانفرنس کو مسترد کرتے ہوئے عالم اسلام کے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شرکت نہ کریں کیوں کہ یہ کانفرنس سراسر امریکی ایجنڈے کی تکمیل اور جہاد کے ثمرات کو ضائع کر نے کے لئے منعقد کی جا رہی ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ اس کانفرنس میں مذہبی علماء کو افغانستان کی حکومت نے دعوت دی ہے لیکن یہ کانفرنس سراسر امریکی ایماء پر’گیارہ سالہ جہاد کے بعد اس کے ثمرات سے عالم اسلام کو محروم کرنے کے لیے بلائی جا رہی ہے۔

امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک، افغانستان میں سخت دباؤ کا شکار ہیں اور اس لئے افغانستان سے اپنی فوجوں کی محفوظ واپسی کی راہیں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا امریکہ اس وقت ایک عبرت ناک شکست کے دھانے پر موجود ہے اور اسی دباؤ کے باعث اب وہ عالم اسلام کے علماء سے یہ توقع کر رہا ہے کہ وہ اس کے لئے ’نجات دہندہ‘ بن جائیں۔

افغان طالبان کے ترجمان نے اپنے بیان میں دنیا بھر، خصوصاً افغانستان، سعودی عرب، پاکستان ، ہندوستان، دارالعلوم دیوبند اورجامعہ الازہر کے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے علماء کہا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی تو تاریخ میں ان کا نام "دشمن کے اہلکاروں" کی حیثیت سے رقم ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ صلاح الدین ربانی کی قیادت میں افغان "امن کونسل" کے اعلیٰ سطحی وفد کے پاکستان کےدورے کے دوران ایک بین الاقوامی علماء کانفرنس بلانے کی تجویز دی گئی تھی، جس کا مقصد امریکی فوج کے انخلاء کے بعد بھی طالبان حملوں کے خلاف معتبر علماء سے فتوے لینا ہے۔

مبصریں کے مطابق افغانستان میں امریکی حمایت سے قائم ہونے والی کرزئی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ عالم اسلام کے معتبر علماء سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء بعد طالبان اور دیگر مزاحمت کاروں کے حملوں کے حرام ہونے کا فتوایٰ حاصل کر لے۔ تاکہ جس طرح روسی فوجوں کے افغانستان سے انخلاء کے بعد نجیب انتظامیہ اپنا وجود برقراد نہیں رکھ سکی تھی اب وہ اس صورتحال کا شکار نہ ہوں۔

دوسری جانب امریکہ اور نیٹو کی بھی یہی کوشش ہے کہ وہ اپنی فوجوں کو بھی کسی بڑے جانی نقصان کے بغیر افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں اور افغانستان میں ان کی حمایت یافتہ حکومت بھی قائم رہے۔

Wednesday, December 26, 2012

خوست کے امریکی فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں 3 مارے گئے 7 ذخمی

 افغانستان کے مشرق میں واقع صوبہ خوست کے ایک امریکی فوجی اڈے پرہونے والے خودکش کار بم دھماکے میں کم ازکم 3 افراد مارے اور 7 زخمی ہو گئے ہیں۔

 
فرانسیسی خبر رسان ادارے  اے ایف پی نے افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ کار بم حملہ امریکی فوج کی کمانڈ میں کام کرنے والی  (F.O.B Chapman) فارورڈ آپریٹنگ بیس چیپمین کے دروازے پرکیا گیا ہے۔

افغانستان پے قابض نیٹو فوج آئی سیف کے ترجمان میجر مارٹن اوڈونل نے فرانسیسی خبررساں ادارے سے اپنی گفتگومیں اس حملے میں 3 افراد کے مارے جانے جبکہ 7 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ خوست میں افغان  پولیس کے صوبائی سربراہ عبدالقیوم باقی زئی نے مقامی ٹیلی وژن کو بتایا ہے کہ یہ کار حملہ امریکی فوج کے اگلی صفوں میں لڑنے والے سپاہیوں کے اڈے کے مشرقی دروازے کے پاس کیا گیا۔


 اے ایف پی کے افغانستان میں مقیم ایک نمائیندے مطابق فوجی اڈے پر ہونے والا یہ بم دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں 4 کلو میٹر کے فاصلے پر خوست شہر میں کئی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو کی گئی اپنی ای میل اس حملے کی زمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ کرنے والے کا نام عمر اور تعلق خوست سے تھا۔  طالبان ترجمان کے مطابق اس حملے میں فوجی اڈے کے دروازے پر ملٹری بیس میں جانے والوں کی تلاشی لینے والے امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ وہی فوجی ہوائی اڈہ ہے جس پر دسمبر 2009 میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ڈبل ایجنٹ ڈاکٹر ابو دجانہ خراسانی نے ایک خود کش حملہ کیا تھا۔ جس میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے 7 اعلیٰ اہلکاروں کے مارے جانے کی امریکہ نے سرکاری طور پر تصدیق کی تھی۔ اس حملے کو امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے پر سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا گیا تھا۔

Monday, December 24, 2012

کابل میں افغان خاتون پولیس اہلکار نے اعلیٰ امریکی عہدے دار کو قتل کردیا

افغانستان میں ایک خاتون پولیس اہلکار نے وزارت داخلہ کے ہیڈکواٹرکے اندر ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار کو گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔
 
امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق  افغان حکام کا کہنا ہے کہ دالحکومت کابل میں وزارتِ داخلہ کے انتہائی محفوظ ہیڈکوارٹر میں ایک خاتون پولیس اہلکار پولیس کے سربراہ سے ملاقات کے لیے آئیں۔ اس دوران ایک اعلیٰ امریکی عسکری مشیر کینٹین کی جانب جا تے ہوئے اس خاتون کے پاس سے گزرے رہے تھے کہ خاتون پولیس اہلکار نے انہیں اپنے سرکاری پستول سے گولی مار کےقتل کر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے. جس کا نام نرگس بتایا گیا ہے جو 4 بچوں کی ماں ہے۔ ان کا سابق ریکارڈ مکمل طور پر شفاف ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق خاتون اہلکار کی جانب سے اس حملے نے افغان حکام کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ افغان پولیس کی کسی بھی خاتون اہلکار کی جانب سے غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی جانب سے غیر ملکیوں کو مارنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کے بعد کابل پولیس ہیڈ کوارٹر میں یہ خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں کہ مستقبل میں افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت نیٹو افواج کے زریعے ممکن بھی ہوسکے یا نہیں۔ اس سے پہلے ستمبر میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد امریکہ نے مقامی پولیس اہلکاروں کی تربیت معطل کر دی تھی۔

رواں سال کے آغاز سے اب تک افغانستان میں مقامی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں پچاس سے زائد غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

Sunday, December 23, 2012

افغانستان میں کرپشن کا باعث غیرملکی اہلکار ہیں: حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ  افغانستان میں موجود غیر ملکی  اہلکار بڑے پیمانے پر بدعنوانی میں مصروف ہیں.

جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی مطابق  افغان صدر کرزئی نے ٹیلی وژن پر ہفتے کے روز قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ افغان حکومت ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود غیر ملکی اہلکاروں کی بدعنوانیوں کی وجہ سے کرپشن کے خلاف حکومتی کوششیں کامیاب  نہیں ہو رہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں ہونے والی بدعنوانی اس کرپشن کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے، جس میں غیرملکی حکومتوں  کے اہلکار ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے آنے والی امداد یہ اپلکار غیر شفاف منصوبوں میں لگاتے ہیں جس کی بڑی مقدار کرپشن کی نظر ہو کے واپس ملک سے باہر منتقل ہو جاتی ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں حامد کرزئی کی حکومت انہی غیر ملکی افواج کی امداد کے بل بوتے پر قائم ہے۔ ان ممالک کی جانب سے حامد کرزئی حکومت پر بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

Saturday, December 22, 2012

افغانستان میں قابض افواج کی موجودگی میں امن کا قیام ممکن نہیں : پیرس کانفرنس میں طالبان وفد کا موقف

پیرس میں ہونے والی اٖفغان رہنماوں کی کانفرنس میں شامل طالبان وفد نے اپنے اس دو ٹوک موقف کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں حقیقی امن صرف غیر ملکی قابض افواج کے انخلا کے بعد ہی قائم ہوسکے گا۔


فرانسیسی خبر رسان ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرس میں ہونے والی افغان رہنماوں کی تین روزہ کانفرنس میں غیر ملکی افواج کے ملک سے جانے پر تو تمام فریقین کا رہا تاہم اس انخلا کےطریقہ کار اور رفتار پر کئی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کے قطر میں موجود دفتر سے شہاب الدین دلاور اور محمد ندیم وردک نے تنظیم کی نمائندگی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کو اپنا موقف بتانے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آئے ہیں۔

طالبان کے نمائندوں نے کانفرنس کے شرکا کے سامنے پیش کیے گئے موقف میں کہا  کہ ’افغانستان میں حقیقی امن غیر ملکی فوجوں کے قبضے کے اختتام کے بعد ہی قائم ہو سکے گا۔ افغانستان میں اب کوئی بھی کٹ پتلی حکومت  کسی اور طاقت کے زور پر قابض نہیں رہ پائے گی۔ غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی معاہدوں پر دستخط کرنے سے کوئی حل افغان عوام پر مسلط نہیں کیا جانا ممکن نہیں ہے۔  عملی اقدامات کے ذریعہ اس کو یقینی بنانا ہوگا کہ جنگ کی جگہ امن کو ترجیح دی جارہی ہے۔

 جب تک ’مجاہدین جیلوں میں ہیں اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے، حقیقی امن نا ممکن ہے۔ امریکہ اور دیگر فریقین کو افغان عوام کی مرضی کو تسلیم کرتے ہوئے ملک سے فوراً اپنے فوجی واپس بلا لینے چاہیئں اور فرانسس کی مانند دیگر غیر ملکی حکومتوں کو اپنے عوام کے مفادات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘


افغان آئین کے بارے میں وفد کا موقف تھا کہ ایک آزاد ماحول اور افغان ماہرین کی نگرانی میں نیا آئین تیار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ آئین اس لیے قانونی نہیں کیونکہ یہ ’قابض افواج  کے بی باون بمبار طیاروں کے سائے میں تیار کیا گیا ہے۔‘

طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ ’انتخابات افغان مسئلے کا حل نہیں کیونکہ آئندہ انتخابات غیر ملکی قبضے کے دوران ہی کروائے جائیں گے۔ ہم اس بات پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ ہم اقتدار پر قابض نہیں ہونا چاہتے بلکہ ہم افغانستان میں ایک وسیع البنیاد حکومت چاہتے ہیں۔‘


اگرچہ مذاکرات کی حیثیت باضابطہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کانفرنس کے اختتام پر کوئی دستاویز جاری نہیں کی گئی، تاہم کانفرنس کے دوران خیالات کا تبادلہ اور بلاتکلف بحث ہوئی۔ کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

Thursday, December 20, 2012

برطانیہ نے 2014 میں اپنے تمام فوجیوں کو افغانستان سے نکالنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اراکین پارلیمان کو بتایا ہے کہ آئندہ سال 3 ہزار 800 برطانوی فوجیوں کو افغانستان سے نکال لیا جائے گا۔

 ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ اس انخلاء کے بعد 2013 کے اختتام تک افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی تعداد نصف رہ جائے گی۔ جبکہ 2014 تک تمام نیٹو فوجیوں کو افغانستان سے نکال لیا جائے گا۔

افغانستان سے فوجوں کی واپسی کا فیصلہ برطانیہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں ہوا جس میں برطانوی سیاست دان، عسکری قیادت اورسویلین حکام نے فوجوں کے انخلاء کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔

اسی سلسلے میں برطانیہ کے وزیراعظم نے امریکی صدر براک اوباما سے بات چیت کی جس میں دونوں رہنماؤں نے اگلے سال کے اختتام تک افغانستان سے نیٹو کے لڑاکا دستوں کے انخلاء پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2001 سے لے کر 2012 تک افغانستان میں 422 برطانوی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو افواج جن دعواوں اور مقاصد کے حصول کے لئے افغانستان میں آئے تھے ان کے حصول میں انہیں بری طرح ناکامی ہو ئی ہے۔ اور وہ اپنا مشن ادھورا چھوڑ کر افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔