Showing posts with label خاص امہ نیوز. Show all posts
Showing posts with label خاص امہ نیوز. Show all posts

Saturday, November 23, 2013

شام میں جہادی گروپوں کے اتحاد، جبھۃ الاسلامیہ کی تشکیل

شام میں برسرپیکار 6 بڑے و نمایاں مجاہد گروہوں نے بشار سے لڑنے و اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے ایک نئے اتحاد جبھۃ الاسلامیہ کی تشکیل دی ہے جو کہ ساٹھ سے ستر ہزار تک جنگجووں پر مشتمل ہے. اس اتحاد کا اعلان 22 نومبر 2012 بروز جمعہ کو کیا گیا مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حالیہ تاریخ میں کسی بھی ملک میں تشکیل دیئے جانے والا سب سے بڑا اسلامی لشکر ہے، اس میں شامل گروپوں میں چند اہم اور بڑے گروپوں کا تعارف ذیل میں دیا جا رہا ہے۔

لواء التوحید

شام میں لڑنے والے بڑے جہادی گروہوں میں سے ایک۔ اس کے لیڈر عبدالقادر صالح تھے جو کہ چند دن پیشتر ہی شامی فوجوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے ۔جبھۃ الاسلامیہ کی تشکیل کے وقت اس کو ان کے نام سے ہی منسوب کیا گیا۔

حرکہ احرار الشام الاسلامیہ

مقامی شامی سلفی گروہوں میں سے سب سے زیادہ مضبوط ۔ احرارالشام اپنی دلیری و مہارت کے لیے مشہور ہے اور کئی مشہور معرکوں میں حصہ لے چکا ہے۔ احرار الشام کو القاعدہ ہی کی طرح کا گروہ خیال کیا جاتا ہے گو کہ اس نے کبھی القاعدہ سے وابستگی کا اعلان نہیں کیا ۔ اس کے سربراہ عبداللہ الحموی ہیں،

جیش الاسلام

ستمبر 2013 میں کئی مجاہد تنظیموں کو ملا کر اسلام بریگیڈ کے سربراہ ظہران العوش کی قیادت میں ایک لشکر کی تشکیل ہوئی جس کو جیش الاسلام کا نام دیا گیا۔ اس گروہ کے متعلق سعودیہ نواز ہونے کا گمان ہے گو کہ اس کی اعلی قیادت اس کا انکار کرتی ہے اور میدان جنگ میں القاعدہ سے منسلکہ تنظیموں کے ساتھ بھی تعاون کرتی ہے۔ جیش الاسلام اب جبھۃ الاسلامیہ میں ضم ہوچکاہے ۔

صقور شام

شیخ احمد ابو عیسی کی زیرقیادت لڑنے والا یہ گروہ اپنی بہادری و جرآت کی وجہ سے ایک ممتاز حثیت رکھتا ہے ۔سلفی العقیدہ شیخ احمد ابو عیسی اور ان کا خاندان بشاری اقتدار کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ موجودہ صدر بشار اور اس کے باپ حافظ الاسد کے دور میں شیخ احمد ابو عیسی کے کئی قریبی رشتے داروں کو ماردیا گیا ۔ یہ گروہ اب جبھۃ الاسلامیہ کا حصہ ہوگا

لواء الحق

سلفیوں کی زیر قیادت لڑنے والا یہ گروہ حمص و گردونواح میں اپنی جانباز کاروایئوں کی وجہ سے مشہور ہے

انصار الشام

یہ شمالی الاذقیہ اور ادلب میں کاروایئاں کرتا ہے اور اس کا شمار بڑے جنگجو گروہوں میں ہوتا ہے

کرد اسلامک فرنٹ

اس کا شمار بڑے گروہوں میں نہیں ہے لیکن اس کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ یہ اپنے ہی ہم وطن کردوں سے جو کہ بشار کا ساتھ دیتے ہیں مذہب کی وجہ سے برسرپیکار ہے شیخ احمد عیسیٰ کو اس نئے اتحاد کی مجلس شوریٰ کا صدر متعین کیا گیا جو کہ صقور الشام نامی لشکر کے امیر ہیں۔ احمد زیدان امیر لواء التوحید نائب صدر مقرر ہوئے ہیں۔ عسکری شعبہ کے صدر زھران علوش ہیں جو کہ جیش الاسلامی کے سربراہ ہیں۔ سیاسی شعبہ کے سربراہ حسان عبود ہیں جو احرار الشام کے قائد ہیں۔ جبھہ کے عام سربراہ لوائ الحق نامی لشکر سے ابو راتب حمصی ہیں۔ حرکۃ احرار الشام سے ابو العباس جبھہ کے شرعی معاملات کے مسئول ہیں۔ اتحاد کے نو منتخب سربراہ شیخ احمد عیسی نے اس اتحاد کی تشکیل کے بعد اپنے پیحام میں کہا ہے کہ ’’یہ ایک سیاسی عسکری اور معاشرت تشکیل ہے جس کا مقصد شام میں بشار لاسد کے ظالم نظام کاخاتمہ اور اسلامی مملکت کا قیام ہے جس میں کبریائی اللہ اکیلے کو حاصل ہو گی وہی ایک فرد،معاشرہ اور حکومت کے معاملات میں اکیلا مرجع اور حاکم ہو گا۔ اس اتحاد کا قیام شیخ عبدالقادر صالح کے خواب کو پورا کرتا ہے جو کہ شام میں مسلمان جنگجووں کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش میں رہتے تھے اور مزید یہ کہ اس تشکیل کردہ تحریک سے شوریٰ کے نظام کا مکمل نعم البدل حاصل ہو جائے گا ۔شیخ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جبھہ اسلامیہ ان تمام دستوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی جو شام میں انقلاب کے لیے کام کر رہے ہیں وہ کسی سے ٹکراو نہیں کرے گی۔ اس موقعہ پر انہوں نے تمام جہادی اور عسکری قوتوں کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ اتحاد کا یہ عمل لواء التوحید کے قائد عبدالقادر صالح کی شہادت کے ایک ہفتے بعد وجود میں آیا ہے جو 17 نومبر کو شہید ہوئے تھے۔ دوسری جانب مغربی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ امر باعث حیرت ہے کہ القاعدہ سے منسلکہ دو بڑے گروہ جبھۃ النصرہ و دولۃ الاسلامیہ العراق و الشام اس میں شامل نہیں ہیں جس کے باعث مغربی میڈیا اس حوالے سے اس پر مختلف قیاس آریئوں کو جنم دے رہے ہیں۔ لیکن شام میں لڑنے والی تنظیموں پر نظر رکھنے والے اور جاری مزاحمت کی اونچ نیچ سے واقف تضزیہ کاروں کو باخوبی علم ہے کہ ان گروہوں کو اعلانیہ طور پر کسی بھی اتحاد سے باہر رکھنا ایک حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں ان گروہوں کی اپنی رضامندی بھی شامل ہے۔ خصوصی رپورٹ ۔ وردۃ الاسلام

Friday, August 23, 2013

امریکہ کا ناپسندیدہ حکومتوں کو گرانے کا طریقہ کار کیا ہے؟ سی آئی اے کی خفیہ دستاویز سامنے آگئی

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی طرف سے جاری کی گئی دستاویزات میں ایران کے منتخب وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کے خلاف پیسے دے کر ریلیاں منعقد کرنے اور پھر فوج کے ساتھ مل کر سازش کے تحت تختہ الٹنے کا اعتراف کیا گیا ہے۔ اس دستاویز کے مندرجات اس لئے بہت اہم ہیں کیوں کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کی جانب سے کسی اسلامی ملک میں کی جانے والی پہلی بڑی کاروائی تھی۔ اس کے بعد امریکہ نے مسلمان ممالک کے اندر درجنوں ایسی کاروائیاں کی ہیں اور مسلسل کی جارہی ہیں جن میں حکومتوں کی تبدیلی عمل میں لائی گئی۔
ڈاکٹر مصدق کی گرفتاری کا منظر

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی نیشنل سکیورٹی آرکائیوز کی ویب سائیڈ پر شائع کی گئی یہ دستاویز سی آئی اے کی داخلی تاریخ سے متعلق ہیں جن کی تدوین 1970 کے وسط میں کر کے انہیں محفوظ کیا گیا تھا۔ ان دستاویزات کے سامنے آنے سے پہلے تک امریکی خفیہ ادارے اس بغاوت میں امریکی  ایجنسیوں کے کردار کی مکمل نفی کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب پہلی بار ہے کہ امریکی سی آئی اے نے ایرانی عوام کی منتخب حکومت کے خلاف ہونے والی اس سازش میں اپنے اور برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے کردار کا واضح اعتراف کیا ہے۔ اس دستاویز کے مندرجات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کامیاب کاروائی کے بعد کی جانے والی تمام کاروائیاں اس کا چربہ ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 21 جولائی 1952 کو جمہوری طور پر وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ڈاکٹر مصدق نے قومی مفاد کو دیکھتے ہوئے ایران سے تیل نکالنے کی اجاراداری رکھنے والی اینگلو ایرانین آئل کمپنی کے ساتھ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کو ایران کے ساتھ برابر تقسیم کرنے کیا تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت ایران کے تیل والی زمین کے مالکان کو منافع کا بیس فیصد ملا کرتا تھا۔ مصدق کے اس مطالبے کی وجہ سے تیل کی بین القومی مافیا اور اس کی وساطت سے برطانیہ اور امریکہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کیوں کہ برطانیہ اور امریکہ جنگِ عظیم میں ہونے والی تباہی کے اثرات کے سے نکلنے اور تعمیر نو کے لئے مشرق وسطیٰ کے تیل کی فرخت سے ہونے والی امدن پر انحصار کر رہے تھے۔ 

اُس وقت کے وزیر دفاع امینویل شینوویل نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اینگلو ایرانی کمنیوں کا نقصان پورے مشرق وسطٰی میں برطانیہ کے اثر و رسوخ پر برا اثر ڈالے گا۔ اپنے بیاب میں اس نے کہا کہ " اگر فارس ہاتھ سے نکل گیا تو مصر اور مشرق وسطٰی کے دوسرے ملک فیصلہ کریں گے کہ انہیں بھی مصدق کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ اس سلسلے کا دوسرا بڑا قدم مصر کی جانب سے نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینا ہو سکتا ہے" 
سی آئی اے کے پیسے سے منعقدہ مظاہرہ جس میں فوج بھی شامل تھی

اس موقع پر فوری طور پر برطانیہ کے تعاون سے اُس وقت کے امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ ایلن ڈیلس نے ایرانی عوام کی منتخب کردہ مصدق کی حکومت کو گرانے کی سازش کا منصوبہ تیار کیا۔ سازش کے اس منسوبے کو "اجیکس" کا خفیہ نام دیا گیا تھا۔  برطانوی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے تیار کردہ سازشی منصوبے کے تحت شاہ ایران علی رضا شاہ پہلوی نے ایک شاہی فرمان کے زریعے منتخب وزیراعظم ڈاکٹر مصدق کو برطرف کر دینا تھا۔ لیکن قبل از وقت بھانڈا پھوٹ جانے کی وجہ سے یہ سازش ناکام ہوگئی۔
 سازش کی ناکامی کے بعد مصدق حکومت نے اس افسر کو گرفتار کر لیا جس نے سی آئی اے کی معاونت سے مصدق کی برطرفی کے حکم کا مسودہ تیار کیا تھا۔ سازشی منصوبہ سامنے آنے پر ایرانی عوام کا سخت ردعمل سامنے آیا۔ دارلحکومت کی سڑکیں عوام  سے بھر گئیں۔ لوگوں نے تہران کے چوکوں میں نصب شاہ کے باپ کے مجسمے گرا دیے۔ شاہ محمد رضا پہلوی اس صورتحال سے خوفزدہ ہو کر ملک سے فرار ہو گیا۔ یہ امریکہ اور برطانیہ کے لئے بہت بڑا دھچکہ تھا۔ جس سے اندیشہ پیدا ہو گیا کہ شاہد خطے پر استعماری اثرات کا خاتمہ ہو جائے گا۔
امریکہ کے اس وقت کے ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ والٹر بیڈیل سمتھ نے صدر امریکہ آئزن ہاور کو فوری طور پر اطلاع دی کہ مصدق حکومت کے خاتمے کے لئے کیا جانے والا آپریشن اجیکس" ناکام ہو گیا ہے۔ اس نے امریکی صدر کو بتایا کہ  ہمیں ایران کے حالات کو نئے سرے سے دیکھنا ہوگا اور اگر وہاں امریکی اور برطانوی مفادات کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں مصدق کے حامیوں کو "پروں تلے کُچلنا پڑے گا"۔
سی آئی اے کا مہرہ جرنل فضل اللہ زاہدی
امریکی صدر کی  جانب سے طاقت کے استعمال کی منظوری کے بعد نے "آپریشن اجیکس 2" تیار کیا گیا۔  سی آئی اے نے فیصلہ کیا کہ ایرانی فوج کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں نے جان لیا تھا کہ فوج کی خدمات حاصل کیے بغیر حکومتوں کے خلاف ہونے والی کسی سازش کا کامیاب ہونے بہت مشکل ہے۔ یوں ایرانی فوج کے جرنل
فضل اللہ زاہدي کو منتخب حکومت پر شب خون مارنے کی سازش میں شامل کیا گیا۔ جس کے لئے دیگر ترغیبات کے کے علاوہ جرنل زاہدی کو ڈاکٹر مصدق کی جگہ ایران کا وزیر اعظم بنانے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
سی آئی اے نے ایرانی جرنل سے معملات طے پانے اور سازش کی تفصیلات پر اتفاق ہونے کے بعد پہلے مرحلے میں بڑے پیمانے پر  وزیراعظم مصدق کی مخالفت میں خبریں مختلف ایرانی اور امریکی اخبارت اور ریڈیو پر چلانا شروع کر دیں۔ جس کے بعد باقاعدہ معاوضے پر ایران کے جرائم پیشہ افراد کی خدمات حاصل کی گئیں اور ان کی مدد سے ڈاکٹر مصدق کے خلاف اور شاہ کی حمایت میں مظاہرہ کرانے کا اہتمام کیا گیا۔
 
مصدق کے خلاف نکلنے والے جلوس میں ابتدائی طور پر افراد کی شرکت مایوس کن حد تک کم تھی۔  اس موقع پر  طے شدہ منصوبے کے تحت پولیس کے افسروں اور سپائیوں نے اس جلوس کو روکنے اور منتشر کرنے کے بجائے ان کے ساتھ  شمولیت اختیار کرنا شروع کر دی۔ بعد ازاں ایرانی فوج کے اہلکار بھی جلوس کا حصہ بن گئے۔ یوں شاہ کے حق میں نکلنے والا ایک چھوٹا سا جلوس یک لخت انتہائی پرہجوم ہو گیا۔
مصدق کی زندگی کے آخری ایام
  جب وہ گھر پر نظر بند تھے
ایک طرف یہ جلوس تہران کی سڑکوں پر رواں دواں تھا جبکہ دوسری طرف جرنل فضل اللہ زاہدي کي کمان ميں فوج کے دستوں نے  وزير ا‏عظم ہاؤس کا گھیراو کر کے ڈاکٹر محمد مصدق کو گرفتار کر لیا۔ یوں 21 جولائی 1952 کو جمہوری انتخابات کے نتیجے میں وزیر اعظم منتخب ہونے والے مصدق کی حکومت کا تختہ 19 اگست 1953 کو سی آئی اے اور ایم آئی سکس نے فوج کی مدد سے الٹ دیا گیا۔

سی آئی اے کی جانب سے مقرر کردہ اس آپریشن کے سربراہ کیرمیٹ روزویلٹ نے فوری طور پر واشنگٹن پہنچ کر ذاتی طور پر صدر آئزن ہاور کو نتائج سے آگاہ کیا۔ جنہوں نے آپریشن کی کامیابی پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں آئزن ہاور نے اپنی ذاتی ڈائری میں اس بارے میں لکھا تھا کہ " آپریشن اجیکس تاریخی حقیقت کی بجائے کسی سستے ناول کی مانند دکھائی دیتا ہے"۔
 اقتدار کے خاتمے کے بعد ڈاکٹر محمد مصدق کو تین سال تک ایرانی فوج کی قید میں رکھا گیا تھا۔ تاہم رہائی کے بعد بھی وہ تا دمِ مرگ اپنے گھر میں نظر بند رہے۔ زندگی کی آخری سانس تک وہ کسی کو اپنے خلاف ہونے والی سازش سے آگاہ نہیں کر سکے۔ ان کا انتقال پانچ مارچ 1967 کو ہوا تھا۔

سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی سازش کے کردار کی حیثیت سے ایرانی فوج نے عوام کی منتخب کردہ حکومت پر جو شب خون مارا اس  کے شاہ محمد رضا پہلوی کے اقتدار کو تقویت ملی جو عوامی مخالفت کے خوف سے ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ وہ اس کے بعد ایران واپس آئے اور خطے میں امریکہ کے سب سے اہم اور قریبی حلیف بن کر ابھرے۔

Saturday, August 10, 2013

سی آئی اے اور پنٹاگون نے قرار دیا ہے کہ بشار الاسد کا اقتدار برقرار رہنا ہی امریکہ کے مفاد میں ہے

امریکی فوج اور سی آئی اے نے قرار دیا ہے کہ بشار الاسد کا شام میں برسرِ اقتدار رہنا ہی امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔ دونوں اداروں نے امریکی حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ شام میں بشار الاسد کا تختہ الٹے جانے کے نتیجے میں امریکہ کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

 وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے سی آئی اے کے حال ہی میں مستفیٰ ہونے والے نائب سربراہ مائیکل مارل نے کہا  ہے کہ بشار الاسد کا تختہ الٹنے کی صورت میں شام دہشت گردوں کی آماجگاہ بن جائے گا۔ یہ بھی خدشہ ہے کہ شام میں موجود کیمیائی ہتھیار امریکہ کے دشمنوں کے ہاتھ لگیں گے۔ سی آئی اے کے نائب سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ القاعدہ کی فتح کے مترادف ہوگا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ شامی باغیوں کی مدد کرنے کی وجہ سے امریکہ کو مستقبل میں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ باغیوں کو جو ہتھیار فراہم کرے گا وہ جلد یا بدیر امریکہ کے خلاف ہی استعمال کئے جائیں گے، جیسا کہ کئی بار ماضی میں ہوا تھا۔

 سی آئی اے کے اول نائب سربراہ مائیکل مورل نے بتایا کہ انہوں نے  اپنے عہدے سے استعفی دینے سے پہلے امریکہ کی سلامتی کو درپیش خطرات کی فہرست تیار کر لی تھی۔ اس فہرست میں ایران، شمالی کوریا، القاعدہ سے لاحق خطرات اور عالمی سائبر جنگ کا خطرہ بالخصوص شامل ہے۔

مائیکل مورل نے کہا کہ یہ تمام خطرات ایک جانب لیکن شام میں بشار الاسد کی حکومت کا ممکنہ خاتمہ امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مورل نے کہا کہ وہ روس کے مشرقی امور کے ماہر "گومر لیسیو" (Gumer Isaev) اس موقف سے متفق ہیں۔  کہ اگر بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا گیا تو فاتحوں کے درمیان اقتدار کے لیے کشمکش شروع ہوگی جس کے نتیجے میں  شدت پسند اقتدار میں آ سکتے ہیں۔

صرف سی آئی اے ہی نہیں بلکہ امریکی فوج کی ہائی کمان بھی شام میں مداخلت کے امریکی منصوبے کو مشکوک سمجھتی ہے۔  بری افواج کے سربراہ جنرل رے آدئیرنو کا خیال ہے کہ شام میں اگر بشار الاسد کے فوج کے خلاف آپریش کیا گیا تو بھی باغیوں خصوصا القاعدہ سے منسلک گروپوں کی جانب سے بھی امریکی فوج کو جانی و مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر شام میں مختصر فوجی آپریشن بھی کیا گیا تب بھی امریکہ کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی بھی شام میں فوجی مداخلت کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق ایسے آپریشن پر بہت زیادہ رقوم صرف کی جانی پڑیں گی لیکن اس آپریشن کا اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہونا ممکن نہیں نظر آتا۔

 ایک امریکی عسکری پالیسیوں پر اثر انداز ہونے والے ایک تھنک ٹینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ شامی باغیوں کی حمایت کر کے امریکہ وہی غلطی دہرا رہا ہے جو وہ اس سے پہلے بھی کئی بار کر چکا ہے۔ گزشتہ صدی کے اسی کے عشرے میں امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے افغان مجاہدین کی مدد کی تھی۔ اندازہ ہے کہ اسی زمانے میں امریکی مخصوص اداروں کے تعاون سے ان لوگوں نے عسکری تربیت اور مہارت حاصل کی تھی  جنہوں نے بعد میں تنظیم القاعدہ تشکیل دی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ درحقیقت امریکہ کے علاوہ کئی دیگر مغربی ممالک کی پالیسی بھی غیر دوراندیش ہے۔ آج افریقی ملک مالی میں متعین فرانسیسی فوجیوں کو انہی لوگوں کے مقابلے کا سامنا ہے جو لیبیا میں معمر قدافی کی حکومت کے خلاف لڑے تھے اور جنہیں فرانس نے ہتھیار فراہم کئے تھے۔ جنگجوؤں کی بڑی تعداد لیبیا سے شام منتقل ہو چکے ہیں۔ "یوں فرانس مالی میں لیبیا کے بحران کے نتائج کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لیبیا سے شام منتقل ہونے والے شدت پسندوں کی حمایت کرتا ہے جو بالکل غیرمنطقی رویہ ہے"

Monday, July 22, 2013

وزیر رستان میں برطانیہ کی ناکامی کی کہانی ۔۔۔۔۔۔ تصویروں کی زبانی

انیسویں اور بیسوی صدی برطانیہ کے عروج کی صدیاں تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے وقت کی اس سلطنت کی حدیں اتنی وسیع تھیں کہ اس پر کسی بھی وقت سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں اور فوجی طاقتیں اس کے سامنے ریت کی ریوار کی طرح منہدم ہو گئیں تھی۔

لیکن عین اسی وقت ہندوستان کے شمال مغرب میں واقع ایک چھوٹے سے دور افتادہ خطے وزیرستان کے مسلمانوں نے اپنے وقت کی سب سے بڑی سلطنت اور اس کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ فوج کے مقابلے میں حیران کُن استقامت کا مظاہرہ کیا۔

مٹھی بھر نہتے مجاہدین رائل انڈین آرمی اور ائیر فورس کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ برطانوی فوج اور اس کے جرنیلوں نے آدھی سے زیادہ دنیا فتح کر لی تھی، پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں کارہائے نمایاں سرانجام بھی دیے ہوں گے لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وزیرستان کے مجاہدین کے مقابلے میں یہ فوج اور جرنیل بلکل ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ 1860 میں برطانوی فوجوں کی وزیرستان آمد سے لے کر 1947 میں برطانیہ کی برصغیر سے روانگی تک وہ ایک دن کے لئے بھی وزیرستان میں ’’رٹ‘‘ قائم کرنے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکے۔

رائل انڈین ائیر فورس اور رائل انڈین آرمی نے تقریباً ایک صدی تک وزیرستان میں جو جنگ لڑی گئی اس کی کہانی چند تصویروں کی زبانی پیش خدمت ہے۔ اگرچہ یہ تصویریں برطانویوں کی جانب سے کھینچی گئی ہیں اس کے باوجود یہ برطانیہ کی سفاکی اور مجاہدین کی استقامت کا احوال واضع کر رہی ہیں۔

رائل انڈین آرمی کے اہلکار وزرستان پر حملے کے لئے رواں دواں ہیں

رائل انڈین آرمی  وزیرستان کی نہایت منظم انداز سے جانب مارچ کرتے ہوئے، واپسی پر اسی فوج کی صورتحال اس سے بہت مختلف ہوتی تھی

رائل انڈین آرمی کے ایک  دستے کے اہلکار وزیرستان میں آپریشن کے دوران

رائل انڈین آرمی کی فریٹیئر پیجاب کیولری کے اہلکار 1878ء میں ڈی آئی خان سے

 وزیرستان کے لئے روانہ ہو رہے ہیں

رائل انڈین آرمی کے اہلکار وزیرستان آپریشن میں مصروف عمل ہیں

رائل برطانوی فوج کے سپائی میران شاہ کے قریب ٹوچی ویلی کے مقام پر پہرہ دیتے ہوئے

اپنے وقت کی جدید ترین رائیفل Lee-Enfield_Mk_1
جو رائل برطانوی فوج کو وزیرستان پے درپے ہونے والی شکستوں کے بعد مہیا کی گئی لیکن یہ بھی کوئی فائدہ نہ دے سکی  

رائل برطانوی آرمی کی میکنائزڈ فورس کے اہلکار اپنے وقت کی جدید ترین بکتر بند گاڑیوں سے لیس وزیرستان آپریشن کے دوران  کوہاٹ ٹل روڈ کی حفاظت کرتے
 

وزیرستان آپریشن کے دوران رزمک کے مقام پر قائم کیے جانے والے رائل برطانوی فوج کے کیمپ کا منظر

اپنے ہم وطن اور ہم مذہب وزیرستانی مسلمانوں کا قتل عام کرنے والی رائل انڈین آرمی کو سپلائی مہیا کرنے کی خاطر جانیں قربان کرنے والے قلی اپنی غداری کا معاوضہ وصول کرتے ہوئے


رائل برطانوی فوج کے افسران  وزیرستان آپریشن کے دوران اپنے وقت کے جدید ترین اسلحے کے ساتھ

رائل برطانوی فوج کے لئے میرانشاہ کے مقام پر زیر تعمیر قلعہ ، جو اب پاکستانی فوج کے زیر استعمال ہے

وزیرستان آپریشن میں سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے جہاز بسٹول فائٹر کی تصویر

رائل انڈین ائیر فورس کے 39 ویں سکارڈن کے ھاکر ہاٹسز
(Hawker Harts) جہاز میران شاہ سے پرواز کے لئے تیار ہیں

رائل انڈین ائیر فورس کے اعلیٰ ترین تربیت حاصل کرنے والے عملے کی وزیرستان روانگی سے پہلے امبالہ میں  ایوڈیکس جہاز کے ساتھ یادگار تصویر

رائل انڈین ائیر فورس کے جہازوں سے برسائے گئے وہ بم جو پھٹ نہیں سکے۔  جنہیں بعد ازاں جمع کر کے تجریے کے لئے سنگاپور منتقل کرنے سے پہلے کی ایک تصویر

وزیرستان پر حملے کے لئے استعمال ہونے والے ’’ہاٹ سٹوڈ‘‘ جہاز رسالپور کے ایک ہینگر میں پارک ہیں

رائل انڈین ائیر فورس کے بمبار جہاز وزیرستان کی فضاوں میں محو پرواز ہیں

وزیرستان آپریشن میں استعمال ہونے والا ایک جہاز  Hawker Harts

رائل انڈین ائیر فورس کے 5 ویں سکاڈن کے جہاز قبائلی عوام پر بمباری کے لئے میرانشاہ سے پرواز کرتے ہوئے

وزیرستان آپریشن میں شریک رائل انڈین آرمی کے کالے اور گورے اہلکار

وزیرستان کے مسلمانوں کی آبادی  پر رائل انڈین ائیر فورس کی جانب سے گرایا جانے والا ایک بم جو پھٹ نہ سکا

وزرستان اپریشن میں حصہ لینے والا ایک سکاڈرں اپنے زیر استعمال  ویسٹ واپٹی جہاز کے ساتھ

وزیرستان آپریشن میں ’’قربانیاں‘‘ دینے والے رائل انڈین آرمی
کے اہلکاروں کو دیا جانے والا ایک میڈل

وزیرستان آپریشن میں حصہ لینے والے رائل انڈین آرمی کے

 اہلکاروں کو دیا جانے والا ایک میڈل

دریائے سندھ پر اٹک کے مقام پر تعمیر کیا جانے والا پل ۔ جس کی تعمیر کا اولین مقصد 

وزیرستان اپریشن میں مصروف رائل انڈین آرمی کو سپلائی کے زرائع کی بہتری تھا

رائل انڈین آرمی کے جنوبی وزیرستان سکاوٹ کا امتیازی بیج

وزیرستان مجاہدین کے حملے میں مارے جانے والے رائل انڈین آرمی کے اہلکاروں کی لاشیں سڑک پر پڑی ہیں


وزیرستان میں مجاہدین کی قیادت کرنے والے مرزا علی خان المعروف فقیر ایپی رحمہ اللہ

 کی 1930 میں لی گئی یادگار تصویر



سو سال سے زاہد عرصے تک رائل انڈین آرمی کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہونے والے مجاہدینِِ وزرستان کا پرچم


Friday, July 12, 2013

ایبٹ آباد آپریشن, کب کیا ہوا، لمحہ با لمحہ روداد

 ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات کے مطابق امریکی سیلز کے اسامہ بن لادن کے کمپاونڈ پر حملے کی کہانی کچھ یوں بنتی ہے۔ امریکہ نے کافی عرصہ پہلے سے اس آپریشن کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔ اس نے اگست سے اکتوبر 2010ء میں پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی مشن کی آڑ میں اپنے پائلٹوں کو علاقے میں پرواز کی سہولت مہیا کی تاکہ وہ علاقے کی جغرافیائی صوتحال اور موسم سے اچھی طرح واقف ہو جائیں۔



یکم اور 2 مئی 2011ء کی درمیانی شب ایبٹ آباد پرحملہ کرنے والے امریکی ہیلی کاپٹروں کے پائلٹ پاکستانی ریڈاروں کے مقام اور رینج سے واقف تھے۔ ہیلی کاپٹروں کو ایبٹ آباد سے مسلسل اور بلا روک زمینی رہنمائی فراہم کی جاتی رہی ہے۔   آپریشن سے چند دن قبل ایبٹ آباد میں ہیلی کاپٹروں کے راستے میں آنے والے اونچے درختوں کی کٹائی کی گئی تھی۔ تاکہ وہ ہیلی کپٹروں اور آپریشن کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کر سکیں۔

پاکستان میں متحرک امریکی امدادی ادارے یوایس ایڈ کے ملازمین نے اسامہ کے کمپاؤنڈ کے قریب مکان کرائے پر لیا تھا جسے جاسوسی، رہنمائی اور حملہ آوروں کو زمنی مدد کی فراہمی کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ اس روز جبکہ امریکہ کے اسلام آباد کے سفارتخانے سے نکلنے والی لینڈ کروزر اور پراڈو گاڑیاں ایبٹ آباد، پشاور اور اسلام آباد کے درمیان چکر لگا کر نگرانی کرتی رہی ہیں۔

یکم اور 2 مئی کی درمیانی شب اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پرحملے کیلئے آنے والے  امریکی ہیلی کاپٹرنے جلال آباد ایئربیس سے پرواز کی تھی۔  آپریشن میں 2 بلیک ہاک اور 2 چنیوک ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا، رپورٹ کےمطابق امریکی ہیلی کاپٹر 11 بج کر 10 منٹ پر جلال آباد ایئربیس سے اڑے اور 10 منٹ بعد پاکستانی حدود میں داخل ہوئے۔ 11 بج کر20 منٹ پرپاکستانی حدود میں داخل ہوئے،12 بج کر 30 منٹ پر 2 ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد پہنچے۔

  ہیلی کاپٹردریائے کابل، چک درہ اور کالا ڈھاکہ کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے ایبٹ آباد پہنچے۔  ہیلی کاپٹر کالا ڈھاکہ کے علاقے کندرحسن زئی میں اترے جہاں انہیں پہلے سے موجود افراد نے ایندھن فراہم کیا گیا۔ اس دوران افغانستان کی سرحد پر امریکی طیارے مسلسل پروازوں کے زریعے نگرانی کرتے رہے۔

رپورٹ کےمطابق امریکی ہیلی کاپٹر 12 بج کر 30 منٹ پر ایبٹ آباد پہنچے، اس سے کچھ دیر پہلے ایبٹ آباد کے اکثر علاقوں کی بجلی بند کر دی گئی تھی۔  آپریشن میں 24 اہلکاروں نے حصہ لیا جو نائٹ ویژن ڈیوائس اورسائیلنسر لگے ہتھیاروں سے لیس تھے۔ امریکی اہلکاررسیوں کی مدد سے کمپاؤنڈ میں اتارے گئے۔ ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد امریکی سیلزدو گروپوں میں تقسیم ہو کر بیک وقت انیکسی اور کمپائنڈ کے مرکزی حصے پر حملہ آور ہوئے۔

سیلز کے گروپ نے کمپاؤنڈ کےاندر داخل ہوکراسامہ بن لادن پرفائرنگ کردی، اسامہ کو اس وقت کولی ماری گئی جب وہ گن ہاتھ میں لئے ایک الماری سے ہینڈ گربنڈ اٹھا چکے تھے۔ کمرے میں موجود اسامہ کی اہلیہ گولی لگنے سے زخمی ہو گئیں۔  اس سے پہلے کمپائنڈ میں موجود اسامہ بن لادن کا بیٹا اور انیکسی میں موجود دو بھائیوں اور ان میں سے ایک کی اہلیہ سیلز کی گولیوں کا نشانہ بن چکے تھے جبکہ دوسرے کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئی تھی۔ 

آپریشن کے آخر میں اسامہ بن لادن کی لاش کو چنوک ہیلی کاپٹر میں منتقل کیا گیا۔ جب کے آپریشن کے دوران کمپائنڈ میں موجود قیمتی اشیاء کی لوٹ مار کی گئی جن میں زیورات اور جوائرات بھی شامل تھے۔ سیلز نے یہ تمام اشیا ہیلی کپٹر میں پہنچائیں اور 36 منٹ میں آپریشن مکمل کرلیا۔ رات ایک بج کر 6 منٹ پر تین ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد سے روانہ ہو گئے۔ ایک ہیلی کپٹر آپریشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

آپریشن کے دوران گولیاں چلنے کی آواز اور دیگر نوعیت کے شور کی آواز سن کر لوگ جمع ہونے لگے تو باہرموجود مسلع افراد نے پشتو میں لوگوں کو اس مقام سے دور رہنے کا حکم دیتے رہے جس سے خوفزدہ ہوگے اور کوئی مقامی فرد جائے واقعہ کے قریب نہ جا سکا۔

 امریکی ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد سے ایک بج کر 6 منٹ پر روانہ ہوئے اور مقامی  پولیس اورفورسز کی موبائل گاڑیاں اس کے فوراً بعد  ایک بج کر 15 منٹ پر کمپاؤنڈ کے پاس پہنچ  گئیں۔ جنہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا۔

امریکی ہیلی کاپٹروں نے ایبٹ آباد سے پرواز کے بعد ایک بار پھر کالا ڈھاکہ اتر کر فیول حاصل کیا اور 150 میل کا فاصلہ طے کر کے 2 بج کر26 منٹ پر پاکستانی حدود سے نکل گئے۔

پاکستانی پولیس اور دیگر فورسسز کے اہلکار  کے کمپائنڈ پر پہچنے کے 52منٹ بعد اس واقعے کی پہلی اطلاع آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے 2 بج کر 7 منٹ پرایئرفورس کے چیف کو ٹیلی فون پر دی، اس وقت تک امریکی ہیلی کاپٹر پاکستانی حدود میں موجود تھے۔

آرمی چیف اورایئرچیف کے درمیان بات چیت کے 43 منٹ بعد پاکستانی ایف 16 طیاروں نے مصعف علی میر ایئربیس سے پرواز کی جس وقت امریکی ہیلی کاپٹرمجموعی طور پر 3 گھنٹےتک پاکستانی حدود میں رہنے کے بعد جلال آباد ائیر پورٹ پر لینڈ کر چکے تھے۔

  آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے 3 بجے وزیراعظم اورسیکرٹری خارجہ کو واقعے کی اطلاع دی۔ 5 بجے امریکی چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کو فون پر گفتگو کی۔ جس کے بعد  آرمی چیف نے 6 بج کر 45 منٹ پر صدرمملکت آصف علی زرداری کو فون پر صورتحال سے مطلع کیا۔