Showing posts with label ایشیا. Show all posts
Showing posts with label ایشیا. Show all posts

Friday, August 16, 2013

شام: میں گھمسان کی جنگ, باغیوں کی پیش قدمی جاری

شام کے مختلف شہروں میں بشارالاسد کی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ دارالحکومت دمشق، حمص، ادلب اور حلب میں فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ میں باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے۔

عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام کے شمال مغربی ساحلی شہر ’اللاذقیہ‘ میں ’جبل ترکمان‘ اور ’جبل اکراد‘ پر ہاون راکٹوں کے تابڑ توڑ حملوں کے  باعث سرکاری فوج پسپائی پر مجبور ہو گئی ہے۔

دالحکومت دمشق کی ’القابون‘ کالونی میں سرکاری فوج کے ایک چھاپہ مار دستے کی کمین گاہ پر گولہ باری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں کئی فوجی گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

اطلاعات کے مطابق دمشق کے مضافات اور حلب پر سرکاری فوج نے جنگی طیاروں اور توپخانے سے حملے کیے ہیں۔ دمشق میں سیدہ زینب کالونی پر سرکاری فوج اور حزب اللہ کے ’ابو الفضل العباس بریگیڈ‘ کے جنگجوؤں نے حملے کیے ہیں۔ دیر الزور کے سرحدی علاقے "الحویقہ" پر باغیوں کے قبضے کے بعد سرکاری فوج نے ایک مرتبہ پھر بڑا حملہ کیا ہے، تاہم شہر پر باغیوں کا کنٹرول اب بھی مضبوط ہے۔

اطلاعات کے مطابق دمشق، ادلب اور جبل الزاویہ کے مضافات میں صدر بشارالاسد کی فوج نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل اور فاسفورس بم استعمال کیے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد عام شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

Wednesday, August 7, 2013

ہزاروں مسلمانوں کا قاتل، بیروت کا قصائی ایریل شیرون واصل با جہنم ہو گیا۔

لبنان میں صابرہ اور شتیلا کے مہاجر کیمپوں میں ہزاروں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی قیادت کرنے والا صہونی دہشت گرد اور سابق اسرائیلی وزیر اعظم  ایریل شیرون 8 سال تک برین ہیمرج  کی ازیت میں مبتلا رہنے کے بعد واصل باجہنم ہو گیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے شیرون کو بچانے کیلیے کئی ملین ڈالر خرچ کیے لیکن اس کے باوجود وہ اسے بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل شدید ازیت میں مبتلاء ایریل شیرون کے علاج ہر سال 440 ملین ڈالر خرچ کرتا رہا ہے۔

 1928 میں جرمن پولش باپ اور روسی ماں کے یہاں جنم لینے والا جنگی مجرم اور بیروت کا قصائی کاخطاب پانے والے ایریل شیرون نے مارچ 2001 میں اسرائیل کے گیارھویں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اسرائیل کے قیام کے وقت ایریل شیرون صہیونی الیگزینڈیا بریگیڈ میں پلاٹون کمانڈر کے طور پر کام کررہا تھا۔

بعد میں ایسے ایکٹورینک آف میجر کا رینک دے کر اسرائیلی اسپیشل فورسز کے یونٹ 101 میں تعینات کر دیا گیا۔ اس یونٹ کی اہمیت کا اندازہ یو لگایاجاسکتا ہے کہ یونٹ 101نے نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف زبردست اور بے رحمانہ کارروائیاں کیں بلکہ پڑوسی عرب ریاستوں مثلاً مصر اور اردن کے خلاف بھی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اس یونٹ کی سب سے زیادہ شرانگیز اور ظالمانہ کارروائی میں مغربی کنارے کے گائوں (Qibya) کے غیر مسلح  60 فلسطینیوں کا قتل عام بھی شامل ہے۔

 1956کی نہر سوئیز کی جنگ کے دوران ایریل شیرون نے 202 ویں بریگیڈ کی کمان کی اور صحرائے سینا میں متلاپاس میں تعنات رہا۔ اس پر کئی بار الزام عاید کیا کہ وہ احمقانہ پن کی حد تک دشمنوں کے خلاف کارروائی کیا کرتا تھا۔ 1962 میں ایریل شیرون کو میجر جنرل بنا دیا گیا۔

 1982 میں جنگ لبنان کے دوران ایریل شیرون اسرائیل کا وزیر دفاع تھا۔ اس دوران صابرہ اور شتیلا مہاجر کیمپوں میں فلسطینوں کا قتل عام کیا گیا جس کا ذمہ دار ایریل شیرون کو قرار دیا گیا۔ صابرہ میں  460 اور شتیلا میں ساڑھے تین ہزار فلسطینیوں کو اسرائیلی فوجیوں اور لبنان کی عیسائی ملیشیا نے بے دردی سے شہید کیا۔

شیرون نےہی اسرئیلی فوج کو پی ایل او کے جنگجوئوں کو علاقے سے نکالنے کے لئے صابرہ اور شتیلا کے مہاجر  کیمپوں میں بھیجا تھا ایریل شیرون براہ راست اسٹریٹیجک اسپورٹ کے لئے لبنانی سرحد پر موجود رہ کر اس آپریشن کی کمانڈ کر رہا تھا۔

Tuesday, August 6, 2013

ایرانی کردوں کے عسکری گروپ نے اپنے جنگجو شام بھیجنے کا اعلان کر دیا


کردستان لیبر پارٹی کے ایران میں شعیہ حکومت کے خلاف سرگرم عمل عسکری گروپ "بیجک" نے اپنے جنگجو شامی کردوں کے دفاع کے لیے محاذ جنگ پر روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی کرد ذرائع کے مطابق "بیجک" شام میں کرد آبادی کے دفاع کے لیے اپنے جنگجو دمشق اور دوسرے شہروں میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ادھر شام میں کردوں کے ایک دوسرے ذریعے نے ایرانی کرد جنگجوؤں کی آمد کی خبروں کی تصدیق کی ہے اور انکشاف کیا ہے کہ ایران میں کردوں کے اکثریتی علاقوں کی مساجد میں اعلانات کیے گئے ہیں کہ شامی کردوں کا دفاع ضروری ہے۔ شام میں حالت جنگ میں موجود کردوں کی جانیں بچانے کے لیے دوسرے پڑوسی ملکوں میں موجود کرد آبادی کو ان کے تحفظ کے لیے جنگ میں اترنا اور لڑنا مرنا بھی ضروری ہو گیا ہے۔

"بیجک" ذرائع کا کہنا ہے کہ شام میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کردوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ ایرانی کرد شہری شام میں اپنے ہم قوم خاندانوں پر حملوں کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ ان کےدفاع کے لیے جانیں دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی کرد جماعت کے ذریعے نے اخبار"الشرق الاوسط" کو بتایا کہ "ہم نے مغربی کردستان میں اپنے مظلوم بہن بھائیوں کی سیاسی اور معنوی مدد کی ہے، لیکن اب ہم ان کے دفاع کے لیے اپنے جنگجو روانہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہماری تنظیم کے بہادر مجاہد ایک قومی اور انقلابی فوج کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں شام میں اپنے کرد بھائیوں کی پکار پر بھیجا جا رہا ہے۔ خطے میں جہاں بھی کردوں کے ساتھ زیادتی ہو گی ہم وہاں اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے ضرور پہنچیں گے"۔

ادھر مغربی کردستان میں کردوں کی نمائندہ پیپلز کونسل کے ترجمان شیرزاد الیزیدی نے ملک میں کرد آبادی پر سرکاری فوج اور اسد نواز ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ مسٹر الیزیدی کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے تل الابیض، الرمیلان اور راس العین میں کردوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اسے کردوں کی نسلی کشی کی بدترین مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کردوں کے دفاع کے لیے سرحد پار سے مدد کے لیے کمک پہنچتی ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ ہم خود بھی آزادی سمیت اپنے تمام حقوق کے حصول لیے کسی قربانی سےدریغ نہیں کریں گے۔

درایں اثناء عراق کے نیم خود صوبہ کردستان کی حکومت نے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے النصرہ محاذ میں شامل کردوں کو واپس لانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ صوبہ کردستان کے علماء نے بھی اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کرد جنگجوؤں کو النصرہ محاذ کے پرچم تلے کسی فریق کے خلاف لڑائی میں حصہ نہیں لینا چاہیے اور جو لوگ اس وقت النصرہ بریگیڈ کے ساتھ مل کرلڑ رہے ہیں انہیں واپس آنا چاہیے۔

کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار شامی باغیوں کی نیشنل کونسل کے سابق سربراہ عبدالباسط سیدا نے بھی کیا ہے۔ ایک بیان میں مسٹر سیدا کا کہنا ہے کہ ہمیں سرحد پار سے جنگجو شام کے میدان جنگ میں اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم حالات کو معمول پر لانے کے لیے محاذ جنگ پرموجود جنگجوؤں سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ باہر سے افرادی قوت شام بھیجنے کے بجائے میدان جنگ میں موجود مجاہدین کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عربوں اور کردوں کے درمیان پائی جانے والی مخاصمت کی تصدیق کی اور تمام فریقین پر صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

خیال رہے کہ شام میں کرد آبادی کا ایک بڑا حصہ صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت میں خاموش رہا ہے تاہم کردوں کے کچھ گروپ باغیوں کی صفوں میں شامل ہو کر اسد نواز ملیشیا کے خلاف لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

کرد مذہبی اعتبار سے سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایران ، عراق اور شام کی شعیہ حکومتوں عتاب کا سامنا کرنا پڑھتا ہے

شام: باغیوں نے اہم ترین ہوائے اڈے منگ پر قبضہ کرلیا


شام میں باغیوں نے دس ماہ کی طویل لڑائی کے بعد سٹیٹجک اہمیت کے حامل حلب شہر کے مرکزی فوجی ہوائی اڈے پر"منگ" پر قبضہ کر لیا ہے۔
خود کش حملے کے فوری بعد کا منظر

عرب زرائع ابلاغ کے مطابق انصار و مہاجرین بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے ایک خود کش بمبار نے بارود سے بھرا ٹرک ہوائی اڈے کے مرکزی کنٹرول روم کی عمارت سے ٹکرا کر اسے تباہ کر دیا۔ اس خود کش حملے کےنتیجے میں ہوائی اڈے کے کئی دوسرے مرکزی دفاتر بھی تباہ ہو گئے۔ خودکش حملے میں بشارالاسد کے کئی وفادار سپاہی اور افسر ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہو گئے۔

خیال رہے کہ حلب میں"منگ" فوجی اڈے پر کنٹرول کے لیے باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان گذشتہ دس ماہ سے گھمسان کی لڑائی ہوتی رہی ہے۔ طویل لڑائی کے بعد گزشتہ روز باغی ہوائی اڈے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ باغیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تک انہوں نے "منگ" فوجی اڈے کے بیشتر حصوں کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔  تاہم کچھ مقامات پر مورچہ بند سرکاری فوجیوں اور باغیوں کے درمیان اب بھی فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے تاہم جلد ہی باغی فوجی اڈے کا مکمل کنٹرول سنھبال لیں گے۔

حلب میں منگ فوجی ہوائی اڈہ دفاعی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ حلب میں باغیوں کو پسپا کرنے میں اب تک اس فوجی اڈے سے اڑنے والے جہاز اور جنگی ہیلی کاپٹراہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ہوائی جہازوں کے علاوہ بیک وقت 35 جنگی ہیلی کاپٹر اس اڈے سے اڑان بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ منگ ملٹری ایئرپورٹ پر باغیوں کا قبضہ شہر کو فتح کرنے کی طرف اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فوجی اڈے پر قبضے کے بعد کئی محاذوں پر پسپا ہونے والے باغیوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں۔

Saturday, August 3, 2013

ایمن الظواہری نے اپنے آڈیو ہیغام میں مُرسی حکومت کی برطرفی کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا ہے

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ  مصر کے اسلام پسندوں کی منتخب حکومت جو صدر ڈاکٹر مُرسی کی قیادت میں قائم ہوئی تھی پر سیکولر فوج نے شب خون خلیجی ممالک کے سرمائے اور امریکی ہدایت پر مارا ہے۔

القاعدہ سربراہ  نے ان خیالات کا اظہار مصر میں اسلام پسندوں کی حکومت کے خاتمے کے ایک ماہ کے بعد جاری کیے گئے اپنے پہلے آڈیو بیان میں کیا ہے۔  پندرہ منٹ پر محیط ایمن الظواہری کا بیان اسلام پسندوں کے انٹرنیٹ فورم پر پوسٹ کیا گیا ہے۔


ایمن الظواہری نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''صلیبی، سیکولر اور امریکی رنگ میں رنگی جا چکی مصری فوج نے خلیجی ممالک کے سرمائے کی مدد اور امریکی ہدایت اور منصوبےپر عمل کرتے ہوئےاسلام پسندوں کی صدر مُرسی کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت کو برطرف کیا ہے۔''

القاعدہ سربراہ نے کہا ہے کہ  امریکہ اور لادین عناصر نے اس لیے مرسی حکومت کو اس لئے برطرف کیا کیوں کہ یہ الاخوان المسلمون کے ''نعروں جہاد ہماری جنگ اور شہادت ہماری آرزو ہے'' سے آگاہ ہیں۔ اگرچہ اخوان المسلمون نے اب اپنے ان نعروں کی جگہ ''اسلام ہی مسائل کا حل ہے'' کا نعرہ اختیار کر لیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود صلیبی اور سیکولر اخوان کے اصل اور اس کے ماضی کو فراموش نہیں کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا جو کچھ مصر میں ہوا ہے یہ جمہوری طریقوں کی ناکامی کا ثبوت ہے، کہ اس راستے سے اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔ القاعدہ سربراہ نے اپنے آڈیو بیان میں مسلمانوں کو دعوت دی ہے کہ ''اسلامی قانون کی حکمرانی کے لیے متحد ہو جائیں۔''

القاعدہ رہنما نے مرسی حکومت کے خاتمے میں مصر کے قبطی عیسائیوں پرملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ''قبطی عیسائی مصر کے جنوب میں قبطی ریاست بنانےکے لیے کوشاں ہیں۔'' ایمن الظواہری نے اپنے اس پہلے بیان میں عبوری حکومت کے نائب صدر محمد البرادعی کوامریکی سفیر قرار دیتے ہوئے کہا عراق کی تباہی میں اس کا نمایاں کردار ہے۔

ڈاکٹر ایمن الظواہری نے مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر مُرسی کی حکومت پر فوج کے شب خون اور اس کے بعد سیکولرعناصر اور عیسائیوں کو اقتدار میں لانے کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیا ہے۔

Sunday, July 28, 2013

عراق: خودکش کار بم دھماکے میں آٹھ سرکاری اہلکار مارے گئے


عراق میں اتوار کی صبح ہونے والے ایک خودکش کار بم دھماکے میں کم ازکم آٹھ سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہین۔

سرکاری حکام کے مطابق یہ واقعہ خورماتو کے علاقے میں اس وقت پیش آیا حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی گشت میں مصروف  سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں قریب پہنچ کر زوردار دھماکے سے اڑا دیا۔

 خورماتو کا علاقہ دارالحکومت بغداد سے 170 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور یہاں مختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔ خورماتو عراق کی مرکزی اہل تشیع حکومت اور خودمختار عراقی کردستان کی طرف سے حق ملکیت کے جھگڑے کے باعث تشدد کے واقعات کا شکار رہتا ہے۔

فوری طور پر کسی نے اس خودکش کار بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

غیر جانبدار اعدادو شمار کے مطابق رواں ماہ تشدد کے واقعات میں آٹھ سو کے لگ بھگ افراد مارے جا چکے ہیں۔

Friday, July 26, 2013

خیبرایجنسی میں گولیوں سے چھلنی 22 مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔

وفاقی حکومت کے زیرانتظام پاکستان کےقبائلی علاقے خیبرایجنسی میں گولیوں سے چھلنی 22 مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔

خیبر ایجنسی کےایک پولیٹکل اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار سے گفتگو میں تصدیق کی کہ باڑہ بازار سے چند کلومیٹر دور آکاخیل کےعلاقے میں سڑک کےکنارے سے بائیس نامعلوم افراد کی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مرنے والے یہ افراد کون ہیں اور ان کو کس نے قتل کیا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ افراد سکیورٹی فورسزکی طرف سے جاری آپریشن میں مارے گئے ہیں۔
پولیٹیکل اہلکار کا کہنا تھا کہ تشدد کی وجہ سے تمام لاشیں بری طرح مسخ ہیں اس لئے ان کی شناخت میں مشکل پیش آرہی ہے۔
انہوں نےکہا کہ لاشوں کی حالت دیکھ کر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان افراد کو دو دن پہلے ہلاک کیا گیا ہے۔ سرکاری اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ نے تمام لاشیں قبضہ لے کر ان کو شاہ کس کے علاقے میں واقع ایک مقامی قبرستان میں امانتاً دفن کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب باڑہ کےمقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے تمام افراد کو کچھ عرصہ قبل سیکورٹی فورسزنےمختلف کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ جنہیں اب دوران حراست قتل کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں یہاں پھینک دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی باڑہ کے علاقے میں متعدد مرتبہ سکیورٹی فورسسز کے ساتھ مقابلہ کرنے والوں کی ایسی مسخ شدہ کی لاشیں ملنےکے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ جن کے بارے میں مقامی لوگوں کا دعویٰ رہا ہے کہ ان افراد کو فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے گرفتار کرنے کے بعد تشدد کر کے قتل کیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اہنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب بھی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز پر کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو اس کے دوسرے دن شدت پسندوں کی لاشیں ملتی ہیں اور یہ سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے جبکہ ایسی لاشوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے۔‘‘


Wednesday, April 24, 2013

یورپی مسلمانوں کی شام کے جہاد میں شرکت پر حکومتیں پریشان

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یورپ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مسلمان  شام میں جاری جنگ میں باغیوں کے ہمراہ صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
 
  برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے ادارے کا اندازہ ہے کہ شام میں باغیوں کے ہمراہ لڑنے والے یورپی افراد کی تعداد پانچ سو سے زیادہ ہے۔

انٹیلیجنس ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ ان میں سے کئی افراد القاعدہ میں شامل ہو سکتے ہیں اور یورپ واپس لوٹ کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

شام میں جن یورپی ممالک کے زیادہ باشندے ہیں ان میں یو کے، آئرلینڈ اور فرانس شامل ہیں۔ یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ گیلس ڈی کارچوو (Gilles de KERCHOVE) نےبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’شام جانے سے قبل ان افراد میں سے کسی کا بھی انتہا پسندی کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ لیکن جب وہ واپس آئیں گے تو ممکنہ طور پر وہ انتہا پسندی کی جانب راغب ہو چکے ہوں گے اور تربیت یافتہ بھی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ لگتا ہے کہ وہ ایک بڑا خطرہ ہوں گے۔‘ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یورپ بھر میں انٹیلیجنس ایجنسیوں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ برطانیہ اور بیلجیئم میں ایجنسیاں یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہ افراد بھرتی کیسے کیے جاتے ہیں۔ نیدرلینڈز میں حکام نے دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بلند کردیا ہے کیونکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کا جلد خاتمہ ہونے جا رہا جس کے بعد یہ لوگ واپس اپنے ملکوں میں پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔

پاکستان افغانستان جا کر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس راسموسن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ان افراد کے خلاف کاروائی کرے جو اس کی سرزمین سے افغانستان میں نیٹو اور امریکی افراج پر حملے کر رہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق راسموسن نے یہ بات  امریکہ کی سربراہی میں ہونے والی بات چیت کے موقع پر افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ گفتگو کے دوران کی ہے۔
نیٹو کے برسلز ہیڈکوارٹر میں میٹنگ کے دوران راسموسن نے مزید کہا ہے کہ ’ ہم نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں دیر پا قیام امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں پاکستان کے مثبت کردار کی ضرورت ہے۔‘

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس فو راسموسن انہوں نے کہا ’پاکستان اور افغانستان کا باہمی مفاد شدت پسندی، انتہا پسندی اور سرحد پر غیر قانونی نقل وحرکت کے خلاف لڑنا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں اتحادی افواج سکیورٹی کے معاملات افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کر رہی ہے اور ایساف کا کردار اب جنگجو قوت سے امدادی قوت میں بدل رہا ہے۔

اس موقع پرکٹ پتلی افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ وہ نیٹو کی مسلسل حمایت کے منتظر ہیں۔ خیال رہے کہ آج حامد کرزئی، امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری اور پاکستانی فوج کےسپہ سالار جنرل اسفاق پرویز کیانی ملاقات کر رہے ہیں جس میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل جیلانی اور افغانستان کے وزیرِ دفاع بسم اللہ خان محمدی کی شرکت بھی متوقع ہے۔

Friday, April 12, 2013

جنرل پرویز مشرف کا امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دینے کا اعتراف

سابق صدر اور فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے ڈرون حملوں کے لئے امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے ذریعے ایسے ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی جن میں اجتماعی نقصان نہ ہو۔
 

امریکی ٹیلی ویڑن چینل سی این این کو انٹرویو میں سابق آرمی چیف پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ کچھ مواقعوں پر ڈرون حملوں کی اجازت دے دی گئی تھی. اس سے پہلے جنرل مشرف اور دیگر پاکستانی رہنما امریکا کے ساتھ ڈرون حملوں کے کسی معاہدے سے انکار کرتے رہے ہیں اور ان کا موقف رہا ہے کہ یہ حملے انکی اجازت کے بغیر ہورہے ہیں۔

اپنے انٹرویو میں جرنل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ شدت پسند پہاڑوں میں رہتے ہیں جہاں پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے فوج اور انٹیلی جنس یونٹس سے مشاورت  کے بعد  ڈرون حملوں کی منظوری دی  تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کی اجازت صرف ایسی صورت میں تھی جب خود پاکستانی فوج کے پاس اس کارروائی کیلئے وقت نہ ہو۔


پرویز مشرف نے یہ اعتراف بھی کیا کہ 2004 میں کمانڈر نیک محمد کو ڈرون حملے میں ہی مارا کیا گیا تھا۔ جبکہ اس سے پہلے پاکستانی فوج کا موقف رہا ہے کہ جنوبی وزیررستان کے علاقے وانا سے تعلق رکھنے والے کمانڈر نیک محمد کو انہوں نے ایک فضائی حملے میں مارا تھا۔
اسی طرح باجوڑ ایجنسی کے علاقے ڈمہ ڈولہ میں ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے 60 سے زائد معصوم بچوں کو فضائی حملے میں مارنے کی ذمہ داری بھی پاکستانی فوج نے قبول کی تھی، جبکہ غیر جانبدار مبصرین اسے بھی امریکی ڈوران کی کاروائی قرار دیتے رہے ہیں۔ 

Thursday, February 28, 2013

کابل میں افغان فورسسز پر حملے میں متعدد ہلاک اور زخمی ہو گئے

افغانستان کے دارالحکومت میں افغان فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی بس پر ہونے والے خُودکش حملے میں متعد افغان فوجی مارے گئے ہیں جبکہ بہت سے زخمی ہوگئے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق  یہ حملہ افغان دارالحکومت کی بھاری سکیورٹی والی ایک مرکزی سڑک پر ہوا ہے۔  افغان پولیس کے ترجمان حشمت اللہ نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 10 منٹ پر کابل کے تیسرے ڈسٹرکٹ میں ایک پیدل خود کُش بم حملہ آور نے ایک ملٹری بس کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

 ایک عینی شاہد نے ٹولو ٹیلی وژن چینل کو بتایا کہ اس خود کُش بم حملہ آور نے برف باری سے بچاؤ کے لیے ہاتھ میں چھتری اٹھا رکھی تھی۔ عینی شاہد کا کہنا تھا کہ میں سڑک کے پار کھڑا تھا جب میں نے ایک شخص کو چھتری اُٹھائے ملٹری بس کی طرف بڑھتے دیکھا۔ وہ پھسلتا ہوا بس کے نیچے چلا گیا، میں نے سمجھا کہ وہ بس ڈرائیور ہے۔ تاہم چند ہی لمحوں میں ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا۔ 

 طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اے ایف پی کوبتایا کہ اس حملے کے نتیجے میں افغان فوج کے 17 اہلکار مارے گئے جبکہ  اور 17 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

Thursday, February 21, 2013

امریکی پاکستان کی سرزمین پر 3200 لوگوں کو قتل کر چکے ہیں

امریکہ پاکستان کی سرزمین پر  ڈراون حملوں کے زریعے عورتوں اور معصوم بچوں سمیت 3200 سے زائد انسانوں کو قتل کرچکا ہے۔

پاکستانی  سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امو رخارجہ و کشمیر کو بتایا ہے کہ ڈراون حملوں میں اب تک 3 ہزار 2 سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے بات چیت کے ذریعے ڈرون حملے رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے پر امریکہ  پاکستان کو بائی پاس نہیں کر رہا بلکہ امریکہ کے ساتھ کوآرڈی نیشن بہتر ہوئی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امو رخارجہ و کشمیر کو انہوں نے بتایا کہ ڈراون حملوں بارے پاکستان کی سرکاری  پالیسی وہی ہے جس کی سفارش ملک کی  پارلیمنٹ نے کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ  امریکی کانگریس نے القاعدہ کے خلاف پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی۔ قبائیلی علاقوں میں ہونے والے ڈراون حملے ایسی امریکی کانگریس کی اجازت کے تحت کئے جاتے ہیں جن میں معصوم شہری بھی بھی مارے جارہے  ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ ڈرون حملے تمام عالمی قوانین اور یو این چارٹر کے خلاف ہیں اور ہم ان کی مذمت کرتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ہم ڈرون حملوں کو پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری اور آزادی کے منافی سمجھتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں ۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ دفتر خارجہ نے ڈرون حملوں کا ایشو امریکہ کے ساتھ اٹھایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں پر بات چیت کے علاوہ دیگر آپشنز کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں

 ‘یہ بالکل واضح ہے کہ ڈرون حملے ہمارے لئے قابل برداشت نہیں ہیں۔ لیکن امریکیوں کا موقف ہے کہ ڈرون حملوں سے القاعدہ کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ دفترخارجہ کی کوششوں سے یہ مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا اور عالمی سطح پر ان کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آواز بلند کرنا شروع کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کا پاکستان میں زور ٹوٹ گیا ہے اور افغان مسئلہ حل ہونے کے ساتھ ڈرون حملے بھی بند ہوجائیں گے۔

Wednesday, February 13, 2013

ایبٹ آباد آپریشن : اسامہ بن لادن پر گولی چلانے والا امریکی کمانڈوعبرت کا نمونہ بن گیا

ایبٹ آباد آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پر گولی چلانے والا امریکی کمانڈو  پنشن اور طبی سہولیات سے محروم خوف اور ازیت سے بھرپور زندگی گزار رہا ہے۔

امریکی جریدے پولیٹیکونے ایک رپورٹ میں اس فوجی کا نام بتائے بغیر انکشاف کیا ہے کہ امریکی نیوی سیلز ٹیم میں شامل وہ شوٹر جس نے اسامہ بن لادن پر فائرنگ کی تھی آج ایک ازیت ناک اور ٖخوف سے بھرپور زندگی گزارنے پر مجبور، عبرت کا نمونہ بن چکا ہے۔

اسامہ بن لادن پر گولی چلانے والا یہ سابق کمانڈو القاعدہ کی جانب سے بدلہ لینے کے ڈر سے اپنے سائے سے بھی خوف زدہ ہے، اس کی بیوی اور دیگر رشتہ دار اور دوست احباب بھی اسی خوف کے باعث اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔  رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کمانڈو نے لازمی 20 سالہ فوجی سروس سے 3 سال پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لی تھی جس کے بعد اس کی پنشن اور طبی سہولیات ختم کردی گئیں۔اس فوجی کے بقول اسے ریٹائرمنٹ کے بعد سے پنشن، طبی سہولیات یا خاندانی تحفظ کچھ بھی نہیں ملا۔ 

۔اس کمانڈو کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں حملہ 15 سے 20 منٹ تک جاری رہا اور جب ہمارا سامنا اسامہ سے ہوا تو وہ ہماری توقع سے زیادہ قد آور شخصیت تھا۔ اس کے بقول میری نظر میں وہ ایک ہدف تھا یہی وجہ ہے کہ میں نے اس پر فائرنگ کی۔

امریکہ کی افغان مشن میں ناکامی کے بعد قبل از وقت انخلاء کا آغاز

پاکستان اور امریکا نے افغان مشن میں امریکہ کی برے طریقے سے ناکامی کے بعد افغانستان سے قبل از وقت  پاکستان کے راستے فوجی انخلا کے عمل کے آغاز کی تصدیق کردی  ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس سے بات کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان مارکوس اسپیڈ نے کہا ہے کہ ہم نے فوجی سازوسامان سے بھرے 50 کنٹینر گزشتہ ہفتے کے اختتام پر پاکستان روانہ کئے تھے۔ جو افغانستان سے انخلا کے سلسلے کا پہلا کاروان تھا۔

پاکستان کے زرائع ابلاغ نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی اسلحے اور سازوسامان کے 25 کنٹینر جنوبی افغانستان کے ضلع قندھار سے پاکستان میں چمن کے راستے داخل ہوئےہیں۔ جبکہ دیگر 25 ہی کنٹینر خیبرایجنسی کے علاقے طورخم کے راستے پاکستان میں آئے ہیں۔ جو کراچی کی بندرگاہ سے بحری جہازوں کے زریعے دوسرے ممالک کو منتقل ہوں گے۔

پاکستانی زرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ پاکستان میں چمن اور طورخم سے کراچی تک کے راستوں میں امریکی اور دیگر اتحادی افواج کے اسلحہ اور دیگر سامان لے کر جانے والے ٹرکوں کو کسی ممکنا نقصان سے بچانے کے لئے فول پروف سکیورٹی دینے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔  

خیال رہے کہ 2014 میں ناٹو و امریکی افواج کے انخلا کے سلسلے میں پاکستان کو اہم ترین روٹ کی حیثیت حاصل ہے جہاں سے ہزاروں کنٹینرز افغانستان سے امریکہ یا دیگر ممالک بھیجے جائیں گے۔

Thursday, February 7, 2013

امریکہ اور اسکے 54 اتحادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں

 دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ کے دوران دنیا کے 54 ممالک نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی مختلف طریقوں سے گرفتار شدگان پر دورانِ حراست تشدد اور غیر قانونی حوالگی میں مدد کی ہے۔

 نیو یارک میں قائم امریکی تنظیم اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن نے یہ دعویٰ اپنی گلوبلائزنگ ٹارچر: سی آئی اے سیکرٹ دیٹنشن اینڈ ایکسٹرا اورڈنری رینڈیشن‘ کے نام سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کیا ہے۔  رپوٹ میں سی آئی اے کی جانب سے خفیہ طور پر حراستیں اور غیر قانونی حوالگی کے بارے میں تحقیق کے نتائج پیش کیے گئے ہیں۔

 اس رپورٹ کے مطابق ’حراست کے دوران تشدد اور دوسری خلاف ورزیاں کر کے امریکی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے ملکی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی علاوہ اخلاقی اقدار اور اصولوں کے منافی کام کیا ہے جس کے نیتجے میں بین الاقوامی سطح پر موجود دہشت گردی کے خلاف حمایت ختم ہوچکی ہے

 دی اوپن سوسائٹی کی رپورٹ اوپن سوسائٹی کی یہ رپورٹ اب تک بنائی گئی سب سے موثر اور مکمل رپورٹ ہے جس میں اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور ان ممالک کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے جو سی آئی کے ساتھ ان غیر قانونی حراستوں میس شامل رہے اور جنہوں نے مختلف افراد کو مختلف طریقوں سے سی آئی اے کے حوالے کیا۔ 

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے غیر معمولی حالات میں حوالگی کی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مختلف ممالک بغیر قانونی تقاضوں کو پورا کیے مختلف مطلوب افراد کو امریکہ یا مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے کر سکتے تھے جو ان افراد سے بعد میں تفشیش کر سکتی تھیں۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ ان افراد اور ایجنسوں پر امریکی سرزمین پر موجود قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔

 اوپن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ دنیا کے 54 ممالک نے مختلف طریقوں سے ان اقدامات کی حمایت کی ہے، جن میں سی آئی اے نے جیلیں بنائیں جن میں مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جاتی تھی، یا ایسی خفیہ پروازوں کی اجازت دی جاتی تھی جن میں خفیہ طور پر مشتبہ افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا تھا یا سی آئی اے کو خفیہ معلومات دی جاتی تھیں۔

 رپورٹ میں امریکہ کے قریبی حلیف ممالک کے نام بھی شامل ہیں جیسا کہ پاکستان، افغانستان، آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، پولینڈ، سپین، ترکی اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ جنوبی افریقہ کی حکومت کی جانب سے امریکی خفیہ ادارے کو پاکستانی شہری سعود میمن کو اغوا کرنے کی اجازت دی ہیں۔ جنہیں 2003 میں وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینئیل پرل کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ 

رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ بظاہر امریکہ کے ساتھ خراب تعلقات کا تاثر دینے والے ایران نے کم از کم 10 مشتبہ افراد کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ہے جن میں سے اکثریت عرب تھے۔

 رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے مختلف افراد کو گوانتانامو بے میں حراست میں رکھا جبکہ اس کے علاوہ افغانستان، پاکستان،  لتھوینیا، مراکش، پولینڈ، رومانیہ اور تھائی لینڈ میں بھی ایسی حراست گاہیں تھیں جہاں مختلف افراد کو رکھا جاتا رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دورانِ حراست  قیدیوں کو دیواروں سے ٹکرایا جاتا، ان کو تکلیف دینے کے لئے انہیں ان کی رضامندی کے بغیر برہنہ کیا جاتا اور انہیں تھپڑ مارے جاتےکے علاوہ واٹر بورڈنگ کے عمل سے گزارا جاتا ہے جس میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ڈوب رہا ہے۔

  امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی نے گزشتہ دسمبر میں سی آئی کے طریقۂ کار پر چھ ہزار صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کے مندرجات ابھی تک خفیہ رکھے گئے ہیں۔ اسی کمیٹی کی سربراہ سینیٹر ڈائین فیسٹن نے کہا کہ خفیہ حراست خانے اور تشدد آمیز تفتیش ’بہت خطرناک غلطیاں‘ تھیں۔

Tuesday, February 5, 2013

اسرائیل نے حماس کے 3 ممبران پالیمنٹ سمیت 20 افرد کو قید کر لیا

 اسرائیلی فوج نے دریائے اردن کے مغربی کنارے سےفلسطینی پارلیمان کے 3 ممبران سمیت حماس کے 20 ارکان کو حراست میں لے لیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے ان افراد کو گرفتار کر لیا ہے تاہم ان گرفتاریوں کی وجوہات کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

 حماس کے کئی اہلکاروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ یہ اسرائیل کی جانب سے کی گئی ایک بدترین انتقامی کارروائی ہے۔ حماس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں الفتح اور حماس کے درمیان مصالحت کے لیے ہونے والے مذاکرات کی ذمہ داری اٹھانے والے ایک اہم فرد شامل ہیں۔ جن کی گرفتاری سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لئے یہ کاروائی کی ہے۔

یاد رہے کہ 2007 کے بعد سے فلسطینی منقسم ہیں۔ 2007  میں محمود عباس نے غربِ اردن اور حماس نے غزہ پر اقتدار مضبوط کر لیا تھا۔ اب تک ان دونوں گروہوں کے درمیان ہونے والی تمام مصالحت کی کوششیں بے نتیجہ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں کے درمیان علاقے کو تقسیم کرنے کی کوششیں بھی ناکام رہی ہیں۔

 مگر گزشتہ سال  نومبر میں اسرائیل کی غزہ پر جارحیت اور الفتح کی جانب سے اقوام متحدہ میں غیر رکن مبصر کا درجہ ملنے کے بعد دونوں کی جانب سے ایک متحدہ محاذ ظاہر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

Monday, February 4, 2013

عرا ق خود کش کار بم دھماکہ اورفائرنگ 35 افراد جابحق، 70 زخمی


 عرا ق میں پولیس ہیڈ کوارٹر پرخود کش کار بم دھماکے اور مسلح افراد کی فائرنگ سے 35 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عرب زرائع ابلاغ نے عراقی پولیس جنرل کے حوالے سے بتایا ہے کہ  شمالی شہر کرکوک میں پولیس ہیڈ کوارٹر پرخود کش کار بم دھماکا کیا گیا جس کے بعد مسلح افراد نے فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 35 افراد مارے گئے جبکہ 70 زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی پولیس کے سربراہ نے زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ حملہ آور پولیس کے کمپاونڈ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن پولیس نے بر وقت کاروئی کرکے ان کے منصوبے  کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹر نے بتایا ہے کہ حملہ اور پولیس کے وردی میں ملبوس تھے۔ تاہم کسی گروپ نے ابھی تک حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

القاعدہ کے سابق ترجمان سلیمان جاسم ترکی سے گرفتار

اسامہ بن لادن کے  قریبی ساتھی اور القاعدہ کے سابق ترجمان سلیمان جاسم کو  ترکی میں گرفتار کیا گیا ہے.

ترکی کے معروف اخبار روزنامہ 'ملت' کے مطابق القاعدہ کے سابق ترجمان کو ترک  سیکیورٹی حکام نے دارلحکومت انقرہ کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری ترک خفیہ محکمے اور امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے مشترکہ اپریشن کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

سلیمان جاسم بوغیث سن 1956 کو کویت میں پیدا ہوئے۔ القاعدہ میں شمولیت سے پہلے وہ کویت میں فقہ اور شریعہ کے استاد اور خطیب کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ سن 1990 میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد انہیں اپنی صدام مخالف تقریروں نے شہرت دوام بخشی۔ کویت میں قیام کے دوران، جاسم کے القاعدہ رہنما خالد شیخ محمد سے قریبی رابطے تھے۔

جاسم سلیمان 1994 میں پہلی بار سربوں کے خلاف جہاد میں شرکت کے لئے بوسنیا گئے، جس کے بعد انکا بوسنیا اور افغانستان آنا جانا معمول بن گیا تھا۔ بکثرت سفر کی وجہ سے کویتی محکمہ اوقاف نے انہیں خطیب کی ملازمت سے فارغ کر دیا جس کے بعد سلیمان جاسم اپنی اہلیہ اور چھے بچوں سمیت افغانستان منتقل ہو گئے۔

نیویارک میں نائن الیون حملوں کے بعد ایک ویڈیو میں جاسم سلیمان القاعدہ کے ترجمان کے طور پر سامنے آئے تھے۔ وہ ایک شعلہ بیان مقرر ہیں انیوں نے متعدد ویڈیوز میں امریکا پر مزید ہلاکت خیز حملوں کی دھمکی دی تھی۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے پر کویتی حکومت نے ان کی شہریت ختم کر دی تھی۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان سے ایران چلے گئے تھے۔

Saturday, February 2, 2013

عراق میں وزیر اعظم نوری مالکی کے خلاف اہل سنت کے مظاہرے

عراق میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور ملک کو اردن سے ملانے والی مرکزی شاہراہ کو ایک مرتبہ پھر بند کر دیا ہے ۔

عرب زرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت بغداد اور وسطی شہر سامراء میں اہل سنت نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مغربی صوبہ الانبار کے دارالحکومت رمادی اور دوسرے بڑے شہر فلوجہ میں نکالی گئی ریلیوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور انھوں نے نماز جمعہ عراق اور اردن کو ملانے والی شاہراہ کے اوپر ہی ادا کی۔

  
 فلوجہ میں مظاہرین نے گذشتہ ہفتے احتجاجی تحریک کے دوران فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے افراد تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے تھے۔  اہل سنت کے ایک عالم دین نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ انھوں نے مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث فوجیوں کے خلاف مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا اور یہ بھی کہا کہ فوج ان کے شہری اور دیہی علاقوں سے نکل جائے۔

دوسری جانب القاعدہ سے وابستہ گروپ ''ریاست اسلامی عراق'' نے اہل سنت کے حکومت کے خلاف مظاہروں کی حمایت کی ہے اور ساتھ ہی ان پر زوردیا ہے کہ وہ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا لین۔ تنظیم کے ترجمان محمد العدنانی ایک بیان میں اہل سنت سے کہا کہ وہ یا تو اہل تشیع کے سامنے جھک جائیں یا پھر وہ عظمت اور آزادی کی بحالی کے لیے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھالیں۔

واضح رہے کہ عراق میں دسمبر کے آخر سے وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف اہل سنت کے اکثریتی شہروں اور صوبوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ مظاہرین عراقی جیلوں میں قید سنیوں کو رہا اور متنازعہ انسداد دہشت گردی قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ قانون ان کے بہ قول حکومت مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔اس جمعہ کو مذکورہ شہروں میں نکالی گئی ریلیوں کے شرکاء کی تعداد حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے مظاہروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔

پاکستان پر ڈراون حملے جاری رکھنا وقت کی ضرورت ہے لیون پنٹا

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ امریکی سرزمین پر دہشتگردی کی ایک اور بڑی کارروائی روکنے کے لیے پاکستان اور دیگر ممالک میں القاعدہ کے شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے جاری رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔

 امریکی وزیرِ دفاع کا عہدہ چھوڑنے سے ایک دن قبل پینٹاگون میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ڈرون طیاروں کی کارروائیاں جاری رکھنے کا تعلق اس خطرے سے ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔ ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ ہم دہشتگردی سے جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ جنگ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک سے جاری ہے۔

‘ انہوں نے کہا کہ ڈرون آپریشنز کا مقصد ان افراد کو نشانہ بنانا ہے جنہوں نے امریکہ پر حملہ کیا اور ہزاروں افراد کو ہلاک کیا۔’میرے خیال میں یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم ہر دستیاب ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ان کا تعاقب کریں جنہوں نے نہ صرف وہ حملے کیے بلکہ اس ملک پر مزید حملے کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ امریکی حکام خود تسلیم کر چکے ہیں کہ ڈراون حملوں میں مرنے والوں کی اکثریت بے گناہ اور معصوم افراد کی ہوتی ہے۔ اسی لئے دنیا بھر میں ان امریکی ڈراون حملوں کو شدیگ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔