Showing posts with label امریکہ و یورپ. Show all posts
Showing posts with label امریکہ و یورپ. Show all posts

Sunday, July 2, 2017

اسلامو فوبیا: لندن کے بعد پیرس میں دہشت گردی۔ نمازیوں پر گاڑی چڑھا دی



فرانس کے دارالحکومت پیرس میں  ایک  شخص نے  مسجد نکلنے والے نمازیوں کو گاڑی سے کُچھلنے کی کوشش کی۔


 واقعہ مقامی وقت کےمطابق ساڑھے چھ بجے شام  کے قریب پیش آیا، عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور اعلان کر رہا تھا کہ وہ مسلمانوں کو مارنا چاہتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی شخص شدید زخمی نہیں ہوا۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر دہشت گردی کی کوشش کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ وہ آرمینیا سے تعلق رکھنے والا عیسائی ہے۔  تاہم فرانسیسی پولیس نے واقعے کو دہشت گردی  اور حملہ آور کو دہشت گرد قرار نہیں دیا ہے۔

Wednesday, August 7, 2013

امریکہ جہادیوں کے مقابلے میں ناکام ہوگیا ہے۔ مغربی میڈیا پھٹ پڑا

دنیا بھر میں القاعدہ اور اس کی ذیلی اور مدد گار تنظیموں کی جانب سے جنگجویانہ کاروائیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات اور  القاعدہ کے کی روز افزوں پیش قدمی پر مغربی میڈ یا امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور امریکی پالیسی کو ناکام قرار دیا ہے،
  امریکی جریدے فارن پالیسی نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے امریکی حکمت عملی کو ناکارہ قرار دے دیا ہے۔ جریدے نے لکھا ہے کہ پاکستان، عراق اور لبیا میں جیلوں کو توڑے جانے کے واقعات، القاعدہ کے حملے کے خوف سے ایک درجن سے زیادہ ممالک میں امریکی سفارتخانوں کے بند کرنے، اور القاعدہ کی اقدامی پوزیشن سے ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف کوئی موثر کردار اداد نہیں کیا ہے۔

فارن پالیسی کے مطابق ہر گزرتے دن یہ احساس بڑھتا جارہاہے کہ امریکا کو پہلے سے زیادہ بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑنے والا ہے۔ اور اس کی وجہ اس کی غلظ حکمت عملی اور جہادیوں کی قوت کے بارے غلط اندازے ہیں۔ اس کے ساتھ فارن پالیسی نے خطے میں امریکا کی کمزورہوتی ہوئی  گرفت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جریدے کا کہنا ہے کہ امریکی پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے جہادی کی قوت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ناکامی کا ایک بڑا اظہار شام میں ایک نئی ’’انتہا پسند تنظیم النصرہ محاذ‘‘ وجود میں آگئی ہے جس سے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

فارن پالیسی نے جیلوں کے توڑے جانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن سے القاعدہ کے ماسٹر مائنڈ کا فرار، ابو غریب جیل سے قیدیوں کا فرار، پاکستان کی ڈیرہ اسماعیل خان جیل سے قیدیوں کافرار، اور بن غازی جیل سے قیدیوں کا فرار، مجموعی طورپر تین جیلوں سے دو ہزار سے زیادہ جہادی فرار ہوئے ہیں۔


 برطانوی اخبار گارجین نے
پاکستان میں ’’دہشت گردی‘‘ کے حالیہ واقعات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر نے حکومت کو دفاعی پوز یشن پر دھکیل دیا ہے، گارجین نے ڈیرہ میں جیل توڑے جانے، چلاس میں آرمی آفیشلز کے قتل،  بلوچستان میں گیارہ افراد کو چن کر مارے جانے اور کراچی میں گذشتہ رات فٹبال گراوٴنڈ میں بم حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات کے ساتھ ساتھ دارلحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شدت پسند جہاں چاہتے ہیں وہ کاروائی کر ڈالتے ہیں۔ اخبار نے سیکیورٹی تجزیہ کار حوالے سے کہا ہے کہ نواز شریف کی سربراہی میں قائم ہونے والی نئی حکومت کو ایک ساتھ کئی کرائسز کاسامنا ہے۔

یاد رہے کہ یہ تجزیات امریکہ صدر بارک  اوبامہ کی جانب سے القاعدہ کو تقریباً مکمل شکست دیے جانے کے بیان کے ایک سال بعد سامنے آئے ہیں۔


Saturday, August 3, 2013

اخوان المسلمون نے سی این این کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا


مصر کی سیاسی صورتحال کی متعصبانہ کوریج پر اسلام پسندوں نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کے خلاف بڑی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی حکومت کی ایما پر مصر کی سیکولر فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد فوج کے اس غیر قانونی اقدام پر آواز اٹھانے کے بجائے مغربی ممالک کا میڈیا بڑی ہوشیاری سے اس کو جواز عطا کررہا ہے۔

مصر کے اسلام پسندوں نے نام نہاد لبرل اور غیرجانبدار میڈیا کی کُھلی جانبداری کو آڑے ہاتھوں لینے کا فیصلہ کیا اور پہلے مرحلے میں امریکی چینل سی این این کے خلاف آن لائن احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ انٹر نیٹ پر موجود ایپلیکیشن مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے حوالے سے سی این این کی کوریج کی مذمت کرتی ہے۔

اس پٹیشن کے مطابق سی این این اور امریکی حکومت اخوان المسلمون سے تعصب کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس پٹیشن پر جس کا ایڈریس http://www.causes.com/actions/1756045-cnn-shame-on-you?ctm=home  ہے پر اب تک 50 ہزار افراد دستخط کرچکے ہیں دستخط کرنے والوں میں 60 فی صد سے زیادہ کا تعلق مصر سے ہے۔

سی این این کے تعصب اور جانب داری کو اجاگر کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم کا پیج اس نشریاتی ادارے کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے،’’تمھیں خود پر شرم آنی چاہیے۔ انقلاب (مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کا قیام) کے حوالے سے تمھاری کوریج مکمل طور پر تعصب پر مبنی ہے۔‘‘

مصر میں اخوان المسلمون اور دیگر اسلام پسند اپنا موقف بیان کرنے اور اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی چینل کے خلاف جاری یہ مہم مین سٹریم میڈیا کو راہ راست پر لانے کا ایک زبردست اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Tuesday, May 28, 2013

برطانیہ میں مسلمانوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جا رہے ہیں

برطانیہ میں مسلمان عورتوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں میں عورتوں کے حجاب پھاڑے اور زبردستی برقع اتارنے کی اطلاع مل رہی ہیں۔ ادھر سفید اور سیاہ فام عیسائی نوجوان کے گروہوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملے بھی جاری ہیں، لندن میں ہونے والے ایک تازہ حملے کر کے تین ایشیائی نوجوانوں کو بھی زخمی کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق برطانیہ میڈیا نے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی خبروں کو بلیک آوٹ کیا ہوا ہے۔ جبکہ مسلمانوں اس قدر خوف کا شکار ہیں کہ وہ اسے واقعات کو پولیس میں رپوٹ بھی نہیں کر رہے۔

 سوشل میڈیا پر مسلمان خواتین نے ایک دوسرے کو یہ پیغامات بھیجنے شروع کردئیے ہیں کہ وہ خود کو، اپنے بچوں کو محفوظ رکھیں اور انہیں اکیلے باہر نہ جانے دیں۔ مسلمان عورتوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ اگر ان کا گھر سے باہر جانا ضروری ہو تو بھی وہ انتہائی احتیاط کریں اور ویران سٹریٹس میں نہ جائیں۔

سوشل میڈیا پر مسلمان خواتین کی جانب سے بھیجی جانے والی ایک اطلاع کے مطابق ایجوئر کی چرچ سٹریٹ پر انگلش ڈیفنس لیگ کے غنڈوں نے تین مسلمان عورتوں کے نہ صرف حجاب اتار دئیے بلکہ ان کے برقعے بھی پھاڑ دئیے۔ جس کے بعد علاقے میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ ایجوئر روڈ کا یہ علاقہ سنٹرل لندن کا حصہ ہے اور آکسفورڈ سٹریٹ کے بہت قریب ہے۔ اس علاقے میں لبنانی، ایرانی، عراقی سعودی اور دوسرے عرب علاقوں کے مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے۔ اس روڈ پر لبنان اور ایرانی ریسٹورنٹ عام ہیں اور خواتین کی اکثریت برقع اور حجاب پہن کر گھروں سے باہر نکلتی ہے ایجوئر روڈ پر ہونے والے اس واقعہ کے بعد خواتین کو محتاط رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

جبکہ سوشل میڈیا کی ہی  ایک اور اطلاع کے مطابق لندن کے ایک علاقے میں 30 کے قریب سفید فام سیاہ فام نوجوانوں نے تین ایشیائی مسلمانوں پر حملہ کرکے زخمی کردیا۔ دریں اثناء برطانوی مسلمانوں کی تنظیموں کے لیڈروں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو پولیس کے پاس رپورٹ کریں یا اپنی مساجد اور کمیونٹیز سنٹرز میں اس بارے میں بتائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رپورٹس درج ہونے کی صورت میں یہ اندازہ لگایا جاسکے گا کہ اسلامو فوبیا کس حد تک بڑھ گیا ہے اور پھر پولیس موثر انداز میں کارروائی کرسکے گی۔ دو روز قبل مسلمانوں کی ایک چیریٹی نے اطلاع دی تھی کہ اس کے پاس 162 فون کالز آئی ہیں جن میں خواتین کے نقاب اتارے جانے اور ان کی املاک پر حملوں کی اطلاعات دی گئی ہیں۔

Wednesday, May 15, 2013

امریکہ 2014 کے بعد افغانستان میں فوجیوں کو رکھنے کے لئے کوشاں ہے

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر اوباما جلد ہی 2014ء کے بعد وہاں امریکی فوجی دستوں کی مجوزہ تعیناتی کے بارے میں اپنے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
 
صحافیوں سے گفتگو میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ صدر اوباما جلد ہی 2014ء میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں امریکی فوجی دستوں کی مجوزہ تعیناتی کے بارے میں اپنے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
 
امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ جان کیری کا کہنا ہے کہ صدر اوباما 2014ء کےبعد افغان فوج کی مدد جاری رکھنے پر یکسو ہیں۔ تاہم یہ یہ طے نہیں ہو سکا ہے کہ وہاں کتنے فوجیوں نے 2014 کے بعد رہنا ہے۔

یاد رہے کہ 2014ء میں افغانستان سے تمام غیر ملکی قابض افواج کے دستے بد ترین ناکامی  کے بعد واپس اپنے ملکوں کو لوٹ جائیں گے۔ تاہم امریکہ  افغانستان کی کٹ ُپتلی فورسز کی تربیت اور مزاحمت کاروں کے خلاف کاروائیوں میں ان کی اعانت کے نام پر امریکی فوجیوں کی کچھ تعداد افغانستان میں رکھنا چاہتا ہے۔

  امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جیمز میٹس نے اس سال مارچ میں کہا تھا کہ انہوں نے صدر اوباما کو 2013ء کے بعد افغانستان میں 13 ہزار 600 فوجی رکھنے کی سفارش کی ہے۔

Wednesday, April 24, 2013

یورپی مسلمانوں کی شام کے جہاد میں شرکت پر حکومتیں پریشان

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یورپ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مسلمان  شام میں جاری جنگ میں باغیوں کے ہمراہ صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
 
  برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے ادارے کا اندازہ ہے کہ شام میں باغیوں کے ہمراہ لڑنے والے یورپی افراد کی تعداد پانچ سو سے زیادہ ہے۔

انٹیلیجنس ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ ان میں سے کئی افراد القاعدہ میں شامل ہو سکتے ہیں اور یورپ واپس لوٹ کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

شام میں جن یورپی ممالک کے زیادہ باشندے ہیں ان میں یو کے، آئرلینڈ اور فرانس شامل ہیں۔ یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ گیلس ڈی کارچوو (Gilles de KERCHOVE) نےبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’شام جانے سے قبل ان افراد میں سے کسی کا بھی انتہا پسندی کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ لیکن جب وہ واپس آئیں گے تو ممکنہ طور پر وہ انتہا پسندی کی جانب راغب ہو چکے ہوں گے اور تربیت یافتہ بھی ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ لگتا ہے کہ وہ ایک بڑا خطرہ ہوں گے۔‘ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یورپ بھر میں انٹیلیجنس ایجنسیوں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ برطانیہ اور بیلجیئم میں ایجنسیاں یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہ افراد بھرتی کیسے کیے جاتے ہیں۔ نیدرلینڈز میں حکام نے دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بلند کردیا ہے کیونکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کا جلد خاتمہ ہونے جا رہا جس کے بعد یہ لوگ واپس اپنے ملکوں میں پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔

پاکستان افغانستان جا کر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس راسموسن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ان افراد کے خلاف کاروائی کرے جو اس کی سرزمین سے افغانستان میں نیٹو اور امریکی افراج پر حملے کر رہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق راسموسن نے یہ بات  امریکہ کی سربراہی میں ہونے والی بات چیت کے موقع پر افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ گفتگو کے دوران کی ہے۔
نیٹو کے برسلز ہیڈکوارٹر میں میٹنگ کے دوران راسموسن نے مزید کہا ہے کہ ’ ہم نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں دیر پا قیام امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں پاکستان کے مثبت کردار کی ضرورت ہے۔‘

نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس فو راسموسن انہوں نے کہا ’پاکستان اور افغانستان کا باہمی مفاد شدت پسندی، انتہا پسندی اور سرحد پر غیر قانونی نقل وحرکت کے خلاف لڑنا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں اتحادی افواج سکیورٹی کے معاملات افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کر رہی ہے اور ایساف کا کردار اب جنگجو قوت سے امدادی قوت میں بدل رہا ہے۔

اس موقع پرکٹ پتلی افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ وہ نیٹو کی مسلسل حمایت کے منتظر ہیں۔ خیال رہے کہ آج حامد کرزئی، امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری اور پاکستانی فوج کےسپہ سالار جنرل اسفاق پرویز کیانی ملاقات کر رہے ہیں جس میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل جیلانی اور افغانستان کے وزیرِ دفاع بسم اللہ خان محمدی کی شرکت بھی متوقع ہے۔

Tuesday, April 16, 2013

بیلجیم پولیس نے چھاپے مار کر شام جانے کے منتظر سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کر لیا

یورپی ملک بیلجیم میں پولیس نے اسلام پسندوں کے متعدد ٹھکانوں پر چھاپے مار کر شام جانے کے لئے جمع ہونے والے سیکنڑوں مسلمانوں کو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ 

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دعوایٰ کیا ہے کہ ان ٹھکانوں پر مختلف ٹولیوں میں ایسے مسلمان نوجوان اگٹھے تھے جو صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے کے لیے شام جانا چاہتے تھے۔

بیلجیم کے استغاثہ کے مطابق دارالحکومت برسلز کے نواح میں واقعے علاقے انٹویرپ اور ولورد کے علاقوں میں 46 مشتبہ ٹھکانوں پر چھاپے مارےگئے ہیں۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدےدارنے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ان اگرفتار افراد پر دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزامات کے تحت کاروائی کی جائے گی۔

 یاد رہے کہ بیلجیم سے بڑی تعداد میں اسلام پسند نظریات رکھنے والے افراد شام کا رخ کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے مقامی زرائع ابلاغ کے مطابق ایسی اطلاعات تھیں کہ بیلجیم کے800 سے زاہد شہری شام جاکر حکومتی فوج کے مقابلے پر باغیوں کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ 

بیلجیم حکام کے مطابق بندرگاہی شہر انٹورپ سے گرفتار کیے گئے افراد میں بیلجیم کے اسلام پسندوں کا اہم رہنما فواد بھی شام ہے۔ یاد رہے کہ فواد شرعیہ فار بیلجیم نامی تنظیم کے ترجمان ہیں جو بیلجیم میں اسلامی شرعی قوانین کے اطلاق کا مطالبہ کرتی ہے۔ 

Sunday, April 14, 2013

گوانتانامو بے میں قیدیوں پر امریکی حکام کا شدید تشدد

امریکی فوج کے اہلکاروں نے کیوبا میں قائم غیر قانونی جیل گوانتانامو بے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کے لئے بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس سے کئی قیدی شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق قیدیوں کو مشترکہ کمروں سے نکال کر قید تنہائی میں منتقل کرنے کے خلاف قیدیوں کی جانب سے مزاحمت پر محافظوں نے کاروائی کی ہے۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان نے الزام عاید کیا  کہ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا تھا جب قیدیوں نے نگرانی کے کیمرے اور کھڑکیوں کو ڈھانپ دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بعض قیدیوں نے جیل میں ملنے والی چیزوں سے "ہتھیار" بنا رکھے تھے۔

تاہم اس نے اعتراف کیا کہ  محافظوں نے ان غیر مسلح قیدیوں پر گولیاں چلائی ہیں جن سے کئی قیدی ذخمی ہو گئے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع  پینٹاگان کا کہنا ہے کہ 43 قیدی بھوک ہڑتال پر ہیں، تاہم امریکی وکیلوں کا کہنا ہے کہ ہڑتالی قیدیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

دوسری جانب امریکی فوجی حکام نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ کم ازکم  ایک درجن قیدی ایسے ہیں جن کو زبردستی پرتشدد طریقوں سے کھانا کھلایا جا رہا ہے۔

امریکہ کے بعض وکیلوں نے جیل کے حکام کے اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کے طرزعمل کو وحشیانہ قرار دیا ہے۔ ان میں سے ایک وکیل کارلوس وارنر نے امریکی خبر رساں ادارے "اے پی" کو بتایا، ’فوج جھگڑے کو ہوا دے رہی ہے۔

اس جیل میں کئی قیدی فروری سے سے بھوک ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ قیدیوں کے کمروں میں تلاشی کے دوران امریکی فوجی محافظوں کی جانب سے قرآن کی مسلسل بے حرمتی کے واقعات ہیں۔

Friday, April 12, 2013

جنرل پرویز مشرف کا امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دینے کا اعتراف

سابق صدر اور فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے ڈرون حملوں کے لئے امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے ذریعے ایسے ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی جن میں اجتماعی نقصان نہ ہو۔
 

امریکی ٹیلی ویڑن چینل سی این این کو انٹرویو میں سابق آرمی چیف پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ کچھ مواقعوں پر ڈرون حملوں کی اجازت دے دی گئی تھی. اس سے پہلے جنرل مشرف اور دیگر پاکستانی رہنما امریکا کے ساتھ ڈرون حملوں کے کسی معاہدے سے انکار کرتے رہے ہیں اور ان کا موقف رہا ہے کہ یہ حملے انکی اجازت کے بغیر ہورہے ہیں۔

اپنے انٹرویو میں جرنل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ شدت پسند پہاڑوں میں رہتے ہیں جہاں پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے فوج اور انٹیلی جنس یونٹس سے مشاورت  کے بعد  ڈرون حملوں کی منظوری دی  تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کی اجازت صرف ایسی صورت میں تھی جب خود پاکستانی فوج کے پاس اس کارروائی کیلئے وقت نہ ہو۔


پرویز مشرف نے یہ اعتراف بھی کیا کہ 2004 میں کمانڈر نیک محمد کو ڈرون حملے میں ہی مارا کیا گیا تھا۔ جبکہ اس سے پہلے پاکستانی فوج کا موقف رہا ہے کہ جنوبی وزیررستان کے علاقے وانا سے تعلق رکھنے والے کمانڈر نیک محمد کو انہوں نے ایک فضائی حملے میں مارا تھا۔
اسی طرح باجوڑ ایجنسی کے علاقے ڈمہ ڈولہ میں ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے 60 سے زائد معصوم بچوں کو فضائی حملے میں مارنے کی ذمہ داری بھی پاکستانی فوج نے قبول کی تھی، جبکہ غیر جانبدار مبصرین اسے بھی امریکی ڈوران کی کاروائی قرار دیتے رہے ہیں۔ 

Tuesday, March 5, 2013

مالی کے شمالی علاقے میں فرانسیسی فوجی سمیت متعدد حملہ آور مارے گئے ہیں

 مالی کے شمالی علاقے میں قائم ہونے والی  اسلامی ریاست پر حملہ آور غیر ملکی فوجیوں کے خلاف جاری عسکری کاروائی کے دوران ایک فرانسیسی فوجی سمیت متعدد حملہ آور مارے گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی  اطلاعات کے مطابق گاؤ شہر کے قریب فرانسیسی فوجیوں اور مسلمان حریت پسندوں  کے درمیان جھڑپوں میں شدت آگئی ہے اور گزشتہ تین روز میں فرانسیسی فوجیوں سمیت بہت سے حملہ آور مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔

اے ایف پی نے دعوایٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں یہ شدت القاعدہ کے دو اہم لیڈروں مختار البل مختار اور عبدالحمید ابوزید کے حملہ آوروں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں مارے جانے کے بعد آئی ہے۔ 

دوسری جانب  امریکہ کیلئے مانیٹرنگ سروس فراہم کرنے والے ادارہ نے القاعدہ کمانڈر مختار بل بختار کے مارے جانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور لڑائی کی قیادت کررہے ہیں۔ یہ دعویٰ چاڈین افواج کی طرف سے القاعدہ رہنماء مختار کو ہلاک کئے جانے کی خبروں کے بعد کیا گیا ہے۔

مختار بل بختار کو جنوری میں الجیریا کے گیس پلانٹ میں حراست میں لینے کے واقعہ کا ماسٹر مائنڈ  سمجھا جاتا ہے۔

Thursday, February 21, 2013

امریکی پاکستان کی سرزمین پر 3200 لوگوں کو قتل کر چکے ہیں

امریکہ پاکستان کی سرزمین پر  ڈراون حملوں کے زریعے عورتوں اور معصوم بچوں سمیت 3200 سے زائد انسانوں کو قتل کرچکا ہے۔

پاکستانی  سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امو رخارجہ و کشمیر کو بتایا ہے کہ ڈراون حملوں میں اب تک 3 ہزار 2 سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے بات چیت کے ذریعے ڈرون حملے رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے پر امریکہ  پاکستان کو بائی پاس نہیں کر رہا بلکہ امریکہ کے ساتھ کوآرڈی نیشن بہتر ہوئی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امو رخارجہ و کشمیر کو انہوں نے بتایا کہ ڈراون حملوں بارے پاکستان کی سرکاری  پالیسی وہی ہے جس کی سفارش ملک کی  پارلیمنٹ نے کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ  امریکی کانگریس نے القاعدہ کے خلاف پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی۔ قبائیلی علاقوں میں ہونے والے ڈراون حملے ایسی امریکی کانگریس کی اجازت کے تحت کئے جاتے ہیں جن میں معصوم شہری بھی بھی مارے جارہے  ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ ڈرون حملے تمام عالمی قوانین اور یو این چارٹر کے خلاف ہیں اور ہم ان کی مذمت کرتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ہم ڈرون حملوں کو پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری اور آزادی کے منافی سمجھتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں ۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ دفتر خارجہ نے ڈرون حملوں کا ایشو امریکہ کے ساتھ اٹھایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں پر بات چیت کے علاوہ دیگر آپشنز کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں

 ‘یہ بالکل واضح ہے کہ ڈرون حملے ہمارے لئے قابل برداشت نہیں ہیں۔ لیکن امریکیوں کا موقف ہے کہ ڈرون حملوں سے القاعدہ کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ دفترخارجہ کی کوششوں سے یہ مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا اور عالمی سطح پر ان کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آواز بلند کرنا شروع کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کا پاکستان میں زور ٹوٹ گیا ہے اور افغان مسئلہ حل ہونے کے ساتھ ڈرون حملے بھی بند ہوجائیں گے۔

Wednesday, February 13, 2013

ایبٹ آباد آپریشن : اسامہ بن لادن پر گولی چلانے والا امریکی کمانڈوعبرت کا نمونہ بن گیا

ایبٹ آباد آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پر گولی چلانے والا امریکی کمانڈو  پنشن اور طبی سہولیات سے محروم خوف اور ازیت سے بھرپور زندگی گزار رہا ہے۔

امریکی جریدے پولیٹیکونے ایک رپورٹ میں اس فوجی کا نام بتائے بغیر انکشاف کیا ہے کہ امریکی نیوی سیلز ٹیم میں شامل وہ شوٹر جس نے اسامہ بن لادن پر فائرنگ کی تھی آج ایک ازیت ناک اور ٖخوف سے بھرپور زندگی گزارنے پر مجبور، عبرت کا نمونہ بن چکا ہے۔

اسامہ بن لادن پر گولی چلانے والا یہ سابق کمانڈو القاعدہ کی جانب سے بدلہ لینے کے ڈر سے اپنے سائے سے بھی خوف زدہ ہے، اس کی بیوی اور دیگر رشتہ دار اور دوست احباب بھی اسی خوف کے باعث اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔  رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کمانڈو نے لازمی 20 سالہ فوجی سروس سے 3 سال پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لی تھی جس کے بعد اس کی پنشن اور طبی سہولیات ختم کردی گئیں۔اس فوجی کے بقول اسے ریٹائرمنٹ کے بعد سے پنشن، طبی سہولیات یا خاندانی تحفظ کچھ بھی نہیں ملا۔ 

۔اس کمانڈو کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں حملہ 15 سے 20 منٹ تک جاری رہا اور جب ہمارا سامنا اسامہ سے ہوا تو وہ ہماری توقع سے زیادہ قد آور شخصیت تھا۔ اس کے بقول میری نظر میں وہ ایک ہدف تھا یہی وجہ ہے کہ میں نے اس پر فائرنگ کی۔

امریکہ کی افغان مشن میں ناکامی کے بعد قبل از وقت انخلاء کا آغاز

پاکستان اور امریکا نے افغان مشن میں امریکہ کی برے طریقے سے ناکامی کے بعد افغانستان سے قبل از وقت  پاکستان کے راستے فوجی انخلا کے عمل کے آغاز کی تصدیق کردی  ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس سے بات کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان مارکوس اسپیڈ نے کہا ہے کہ ہم نے فوجی سازوسامان سے بھرے 50 کنٹینر گزشتہ ہفتے کے اختتام پر پاکستان روانہ کئے تھے۔ جو افغانستان سے انخلا کے سلسلے کا پہلا کاروان تھا۔

پاکستان کے زرائع ابلاغ نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی اسلحے اور سازوسامان کے 25 کنٹینر جنوبی افغانستان کے ضلع قندھار سے پاکستان میں چمن کے راستے داخل ہوئےہیں۔ جبکہ دیگر 25 ہی کنٹینر خیبرایجنسی کے علاقے طورخم کے راستے پاکستان میں آئے ہیں۔ جو کراچی کی بندرگاہ سے بحری جہازوں کے زریعے دوسرے ممالک کو منتقل ہوں گے۔

پاکستانی زرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ پاکستان میں چمن اور طورخم سے کراچی تک کے راستوں میں امریکی اور دیگر اتحادی افواج کے اسلحہ اور دیگر سامان لے کر جانے والے ٹرکوں کو کسی ممکنا نقصان سے بچانے کے لئے فول پروف سکیورٹی دینے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔  

خیال رہے کہ 2014 میں ناٹو و امریکی افواج کے انخلا کے سلسلے میں پاکستان کو اہم ترین روٹ کی حیثیت حاصل ہے جہاں سے ہزاروں کنٹینرز افغانستان سے امریکہ یا دیگر ممالک بھیجے جائیں گے۔

Monday, February 11, 2013

مالی میں جارح افواج اسلام پسندوں کے اچانک حملے سے بوکھلا گئیں

مالی کے شمالی شہر گاؤ میں فرانس کی قیادت میں پر حملہ آور افواج پر اسلام پسندوں نے اچانک حملہ کر کے انہیں شدید حیرت میں مبتلاء کر ڈالا۔
 برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اسلام پسندوں گاؤ کے مرکزی پولیس کے دفتر پر حملہ کردیا جس کے بعد پورے شہر میں جھڑپیںشروع ہو گئیں۔  بی بی سی کے نامہ نگار نے عینی شاہدیں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان جھڑپوں کے دوران اسلام پسندوں کو کھلے عام شہر کی سڑکوں پر گھومتے دیکھا گیا ہے۔

مالی کی سرکاری افواج کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام پسند کالے لباس میں ملبوس تھے اور وہ مسلح ہو کر موٹر سائیکلوں پر شہر کی گلیوں اور سڑکوں میں پھر رہے ہیں۔

افریقی زرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ پہلے ایک خودکش بمبار نے شہر میں داخل ہونے والے راستے پر واقع  فوج کی چوکی پر حملہ کیا۔ جس کے بعد مسلع اسلام پسندوں کے گروہ شہر میں داخل ہو گئے جنہوں نے کئی گھنٹوں تک افریقی اور یورپی افواج سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

اسلام پسندوں کے اس اچانک حملے سے جارح افواج میں کھلبلی مچھ گئی، انہوں نے خوف زدہ ہو کر بھاری توپ خانے سے فائر کرنے شروع کردے اور فرانس کے گن شپ  ہیلی کاپٹر اور جیٹ لڑاکا جہازوں نے پروازیں شروع کر دیں۔

فرانس کے ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار نے میڈیا کے نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مالی کے دیگر شہروں کے قریب واقع صحرا میں بھی اسلام پسند موجود ہیں جو کسی بھی وقت حملہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اب وہ ایک گوریلا جنگ لڑنے کی تیاری کر چکے ہیں۔

جارح افواج پر کیے گئے حملے کی ذمہ داری ’مغربی افریقہ میں تحریک وحدت اور جہاد‘ نے قبول کرتے ہوئے اس تنظیم کے ترجمان ولید صحراوی نے کہا کہ ’ہم فرانس اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مزید حملے کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

Sunday, February 10, 2013

مالی میں القاعدہ فرانس سے حاصل کے گئے وسائل سے لڑ رہی ہے

ایک سابق امریکی سفیر نے انکشاف کیا ہے کہ مالی میں فرانس جن اسلام پسندوں کے خلاف لڑ رہا ہے انہوں نے لڑائی کے لئے وسائل فرانس سے ہی ہتھیائے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق امریکی سفیر وکی ہڈلسٹن نے بتایا ہے کہ فرانس نے 2010 میں نائجر میں یورینیئم کی ایک کان سے پکڑے گئے یرغمالوں کو رہا کروانے کے لیے ایک کروڑ 17 لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی سمیت دوسرے یورپی ممالک نے بھی تاوان کی رقوم ادا کی ہیں، جن کی مالیت نو کروڑ ڈالر تک پہنچتی ہے۔

مالی کے اسلام پسندوں نے ہتھیاروں کے حصول کے لئے اس رقم کو استعمال کیا اور اس قدر قوت حاصل کر لی کہ مالی کے ایک حصے پر قبضہ کر کے وہاں اسلامی شرعیت نافذ کر دی تھی۔ جن کے خلاف اب اقوام متحدہ کی اجازت سے فرانس کی زیر قیادت کثیر الملکی افواج کاوائی میں مصروف ہیں۔


 سابق امریکی سفیر ہڈلسٹن نے کہا کہ 2010 میں نائجر کی کان میں یرغمالوں کی رہائی صرف تاوان کی ادائیگی کی وجہ سےممکن ہو سکی تھی۔ انھوں نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام میں بتایا، کہ یہ رقوم بالواسطہ طور پر مالی حکومت کے ذریعے دی گئی تھیں۔‘ انھوں نے مزید بتایا کہ  مالی کے صوبے گاؤ کے سابق گورنر نے القاعدہ فی بلاد المغرب الاسلامی کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔

یاد رہے کہ فرانس سمیت تمام یورپی ممالک جنھوں نے تاوان کی رقوم ادا کیں انھوں نے ہمیشہ یرغمالوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا کرنے سے انکار کیا ہے۔

امریکی افواج افغانستان میں بچوں کو بڑے پیمانے پر قتل کر رہی ہیں

جنیوا میں قائم بچوں کے حقوق کے بارے میں قائم  اقوام متحدہ کی کمیٹی نے افغانستان میں امریکی فوج کےزمینی و فضائی حملوں میں بچوں کی بے تحاشا اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 اقوام متحدہ کی کمیٹی ’کنونشن آن دی رائیٹس آف چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ بچوں کی اموات امریکی فوجیوں کی لاپروہی  اور طاقت کے بے دریغ استعمال‘ کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔

کمیٹی نے اقوام  متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی فوج کو آبادیو پر فضائی حملوں اور طاقت کے بے دریغ استعمال سے روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ اس نوعیت کے حملوں میں کوئی بے گناہ  بچہ یا شہری نہ مارا جائے۔

 امریکی محکمہ ِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ رپورٹ ابھی تک نہیں دیکھی، لیکن وہ جلد اس کا جائزہ لیں گی۔

Thursday, February 7, 2013

فرانس نے مالی میں اسلام پسندوں کا قتل عام کرنے تصدیق کر دی

فرانس نے مالی میں جارحیت کے دوران اسلامی شرعیت نافذ کرنے والے سینکڑوں اسلام پسندوں کا قتل عام کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی  سے گفتگو کرتے ہوئے فرانس کے وزیر دفاع ژاں ایوز لا ڈرائین کا کہنا ہے کہ ان اسلام پسندوں کو فضائی حملوں اور فرانسیسی افواج کی براہ راست کاروائیوں میں قتل کیا گیا ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مالی میں موجود فرانسیسی افواج کا انخلا مارچ سے شروع کیا جا سکتا ہے۔ فرانسیسی اخبار کو ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر تمام معملات منصوبے کے مطابق جاری رہے تو مالی میں موجود فرانسیسی افواج کی تعداد کم کر دینی چاہیے۔

 اس سے پہلے فرانس کے وزیر دفاع ژاں ایوز لا ڈرائین نے کہا تھا کہ مالی کے شمال میں کدال کا علاقہ اب فرانسیسی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ چاڈ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افریقی فوجیوں کی مدد سے ایسا ممکن ہوا۔ 

 واضح رہے کہ اس وقت مالی میں 3500 کے قریب فرانسیسی فوجی تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ چاڈ اور نائجر کے 2000 فوجی بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔

امریکہ اور اسکے 54 اتحادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں

 دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ کے دوران دنیا کے 54 ممالک نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی مختلف طریقوں سے گرفتار شدگان پر دورانِ حراست تشدد اور غیر قانونی حوالگی میں مدد کی ہے۔

 نیو یارک میں قائم امریکی تنظیم اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن نے یہ دعویٰ اپنی گلوبلائزنگ ٹارچر: سی آئی اے سیکرٹ دیٹنشن اینڈ ایکسٹرا اورڈنری رینڈیشن‘ کے نام سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کیا ہے۔  رپوٹ میں سی آئی اے کی جانب سے خفیہ طور پر حراستیں اور غیر قانونی حوالگی کے بارے میں تحقیق کے نتائج پیش کیے گئے ہیں۔

 اس رپورٹ کے مطابق ’حراست کے دوران تشدد اور دوسری خلاف ورزیاں کر کے امریکی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے ملکی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی علاوہ اخلاقی اقدار اور اصولوں کے منافی کام کیا ہے جس کے نیتجے میں بین الاقوامی سطح پر موجود دہشت گردی کے خلاف حمایت ختم ہوچکی ہے

 دی اوپن سوسائٹی کی رپورٹ اوپن سوسائٹی کی یہ رپورٹ اب تک بنائی گئی سب سے موثر اور مکمل رپورٹ ہے جس میں اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور ان ممالک کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے جو سی آئی کے ساتھ ان غیر قانونی حراستوں میس شامل رہے اور جنہوں نے مختلف افراد کو مختلف طریقوں سے سی آئی اے کے حوالے کیا۔ 

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے غیر معمولی حالات میں حوالگی کی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مختلف ممالک بغیر قانونی تقاضوں کو پورا کیے مختلف مطلوب افراد کو امریکہ یا مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے کر سکتے تھے جو ان افراد سے بعد میں تفشیش کر سکتی تھیں۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ ان افراد اور ایجنسوں پر امریکی سرزمین پر موجود قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔

 اوپن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ دنیا کے 54 ممالک نے مختلف طریقوں سے ان اقدامات کی حمایت کی ہے، جن میں سی آئی اے نے جیلیں بنائیں جن میں مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جاتی تھی، یا ایسی خفیہ پروازوں کی اجازت دی جاتی تھی جن میں خفیہ طور پر مشتبہ افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا تھا یا سی آئی اے کو خفیہ معلومات دی جاتی تھیں۔

 رپورٹ میں امریکہ کے قریبی حلیف ممالک کے نام بھی شامل ہیں جیسا کہ پاکستان، افغانستان، آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، پولینڈ، سپین، ترکی اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ جنوبی افریقہ کی حکومت کی جانب سے امریکی خفیہ ادارے کو پاکستانی شہری سعود میمن کو اغوا کرنے کی اجازت دی ہیں۔ جنہیں 2003 میں وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینئیل پرل کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ 

رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ بظاہر امریکہ کے ساتھ خراب تعلقات کا تاثر دینے والے ایران نے کم از کم 10 مشتبہ افراد کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ہے جن میں سے اکثریت عرب تھے۔

 رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے مختلف افراد کو گوانتانامو بے میں حراست میں رکھا جبکہ اس کے علاوہ افغانستان، پاکستان،  لتھوینیا، مراکش، پولینڈ، رومانیہ اور تھائی لینڈ میں بھی ایسی حراست گاہیں تھیں جہاں مختلف افراد کو رکھا جاتا رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دورانِ حراست  قیدیوں کو دیواروں سے ٹکرایا جاتا، ان کو تکلیف دینے کے لئے انہیں ان کی رضامندی کے بغیر برہنہ کیا جاتا اور انہیں تھپڑ مارے جاتےکے علاوہ واٹر بورڈنگ کے عمل سے گزارا جاتا ہے جس میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ڈوب رہا ہے۔

  امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی نے گزشتہ دسمبر میں سی آئی کے طریقۂ کار پر چھ ہزار صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کے مندرجات ابھی تک خفیہ رکھے گئے ہیں۔ اسی کمیٹی کی سربراہ سینیٹر ڈائین فیسٹن نے کہا کہ خفیہ حراست خانے اور تشدد آمیز تفتیش ’بہت خطرناک غلطیاں‘ تھیں۔

Tuesday, February 5, 2013

برطانیہ میں ہر پانچ میں سے ایک خاتوں جبری زیادتی کا نشانہ بنتی ہے

 خوتین کے حقوق کے چمپئین کہلانے والے برطانیہ میں گزشتہ سال95 ہزار خواتیں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق  گزشتہ 12 ماہ کے دوران زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کی شرح 2.5 فیصد رہی ہے۔ جو برطانوی آبادی کے مطابق 95 ہزار بنتی ہے، لیکن ان میں سے صرف 0.5 فیصد خواتین نے اس جرم کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔

برطانوی  ادارہ برائے قومی اعدادوشمار نے پہلی دفعہ جنسی زیادتی کے جرائم، پولیس کی کارکردگی، متعلقہ عدالتی نظام اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے رویے کے بارے میں ایک سرکاری رپورٹ جاری کی ہے۔

اس سرکاری رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران 15620 افراد کے خلاف جنسی زیادتی کی شکایات درج کرائی گئیں ہیں۔ جن میں سے 3850 کیسوں کو پولیس یا کورٹ نے نامکمل شواہد کی وجہ سے ابتداء میں ہی خارج کر دیا تھا۔  صرف 2910 کیسوں پر کورٹ میں کاروائی کی گئی جن میں سے صرف 1070 افراد پر جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر انھیں سزا سنائی گئی ہے۔

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی ہر 5 میں سے ایک خاتون اس ظلم کا شکار ہوتی ہے جبکہ خواتین اپنے ساتھ ہونے والے اس واقعہ کو پوری زندگی نہیں بھلا پاتی ہیں۔ اسی طرح مخلوط  نظام تعلیم کی وجہ سے ہر7 میں سے ایک طالبہ دوران تعلیم اس ظلم کا نشانہ بنائی جاتی ہے۔ اگرچہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 90 فیصد خواتین اپنے حملہ آور کی شناخت کر سکتی ہیں مگر ان میں سے صرف 15 فیصد ایسے مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لیے پولیس میں شکایت درج کراتی ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ایسے کیسوں میں جرم ثابت کرنے میں 700 سے زائد دن یعنی تقریبا 2 سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ کئی مجرموں کو 16 سال سے کم عمر ہونے کی وجہ سے بھی چھوڑ دیا جاتا ہے۔