وفاقی حکومت کے زیرانتظام پاکستان کےقبائلی علاقے خیبرایجنسی میں گولیوں سے چھلنی 22 مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔
خیبر ایجنسی کےایک پولیٹکل اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار سے گفتگو میں تصدیق کی کہ باڑہ بازار سے چند کلومیٹر دور آکاخیل کےعلاقے میں سڑک کےکنارے سے بائیس نامعلوم افراد کی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مرنے والے یہ افراد کون ہیں اور ان کو کس نے قتل کیا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ افراد سکیورٹی فورسزکی طرف سے جاری آپریشن میں مارے گئے ہیں۔
خیبر ایجنسی کےایک پولیٹکل اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار سے گفتگو میں تصدیق کی کہ باڑہ بازار سے چند کلومیٹر دور آکاخیل کےعلاقے میں سڑک کےکنارے سے بائیس نامعلوم افراد کی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مرنے والے یہ افراد کون ہیں اور ان کو کس نے قتل کیا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ افراد سکیورٹی فورسزکی طرف سے جاری آپریشن میں مارے گئے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ لاشوں کی حالت دیکھ کر بظاہر ایسا
لگتا ہے کہ ان افراد کو دو دن پہلے ہلاک کیا گیا ہے۔ سرکاری اہلکار کا مزید
کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ نے تمام لاشیں قبضہ لے کر ان کو شاہ کس کے
علاقے میں واقع ایک مقامی قبرستان میں امانتاً دفن کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب باڑہ کےمقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے تمام افراد کو کچھ
عرصہ قبل سیکورٹی فورسزنےمختلف کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ جنہیں اب دوران حراست قتل کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں یہاں پھینک دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی باڑہ کے علاقے میں متعدد مرتبہ سکیورٹی فورسسز کے ساتھ مقابلہ کرنے والوں کی ایسی مسخ شدہ کی لاشیں ملنےکے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ جن کے بارے میں مقامی لوگوں کا دعویٰ رہا ہے کہ ان افراد کو فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے گرفتار کرنے کے بعد تشدد کر کے قتل کیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اہنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب بھی آپریشن کے دوران
سکیورٹی فورسز پر کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو اس کے دوسرے دن شدت پسندوں کی
لاشیں ملتی ہیں اور یہ سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے جبکہ ایسی لاشوں کی تعداد
سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے۔‘‘