Friday, July 12, 2013

ایبٹ آباد آپریشن, کب کیا ہوا، لمحہ با لمحہ روداد

 ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات کے مطابق امریکی سیلز کے اسامہ بن لادن کے کمپاونڈ پر حملے کی کہانی کچھ یوں بنتی ہے۔ امریکہ نے کافی عرصہ پہلے سے اس آپریشن کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔ اس نے اگست سے اکتوبر 2010ء میں پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی مشن کی آڑ میں اپنے پائلٹوں کو علاقے میں پرواز کی سہولت مہیا کی تاکہ وہ علاقے کی جغرافیائی صوتحال اور موسم سے اچھی طرح واقف ہو جائیں۔



یکم اور 2 مئی 2011ء کی درمیانی شب ایبٹ آباد پرحملہ کرنے والے امریکی ہیلی کاپٹروں کے پائلٹ پاکستانی ریڈاروں کے مقام اور رینج سے واقف تھے۔ ہیلی کاپٹروں کو ایبٹ آباد سے مسلسل اور بلا روک زمینی رہنمائی فراہم کی جاتی رہی ہے۔   آپریشن سے چند دن قبل ایبٹ آباد میں ہیلی کاپٹروں کے راستے میں آنے والے اونچے درختوں کی کٹائی کی گئی تھی۔ تاکہ وہ ہیلی کپٹروں اور آپریشن کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کر سکیں۔

پاکستان میں متحرک امریکی امدادی ادارے یوایس ایڈ کے ملازمین نے اسامہ کے کمپاؤنڈ کے قریب مکان کرائے پر لیا تھا جسے جاسوسی، رہنمائی اور حملہ آوروں کو زمنی مدد کی فراہمی کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ اس روز جبکہ امریکہ کے اسلام آباد کے سفارتخانے سے نکلنے والی لینڈ کروزر اور پراڈو گاڑیاں ایبٹ آباد، پشاور اور اسلام آباد کے درمیان چکر لگا کر نگرانی کرتی رہی ہیں۔

یکم اور 2 مئی کی درمیانی شب اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پرحملے کیلئے آنے والے  امریکی ہیلی کاپٹرنے جلال آباد ایئربیس سے پرواز کی تھی۔  آپریشن میں 2 بلیک ہاک اور 2 چنیوک ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا، رپورٹ کےمطابق امریکی ہیلی کاپٹر 11 بج کر 10 منٹ پر جلال آباد ایئربیس سے اڑے اور 10 منٹ بعد پاکستانی حدود میں داخل ہوئے۔ 11 بج کر20 منٹ پرپاکستانی حدود میں داخل ہوئے،12 بج کر 30 منٹ پر 2 ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد پہنچے۔

  ہیلی کاپٹردریائے کابل، چک درہ اور کالا ڈھاکہ کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے ایبٹ آباد پہنچے۔  ہیلی کاپٹر کالا ڈھاکہ کے علاقے کندرحسن زئی میں اترے جہاں انہیں پہلے سے موجود افراد نے ایندھن فراہم کیا گیا۔ اس دوران افغانستان کی سرحد پر امریکی طیارے مسلسل پروازوں کے زریعے نگرانی کرتے رہے۔

رپورٹ کےمطابق امریکی ہیلی کاپٹر 12 بج کر 30 منٹ پر ایبٹ آباد پہنچے، اس سے کچھ دیر پہلے ایبٹ آباد کے اکثر علاقوں کی بجلی بند کر دی گئی تھی۔  آپریشن میں 24 اہلکاروں نے حصہ لیا جو نائٹ ویژن ڈیوائس اورسائیلنسر لگے ہتھیاروں سے لیس تھے۔ امریکی اہلکاررسیوں کی مدد سے کمپاؤنڈ میں اتارے گئے۔ ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد امریکی سیلزدو گروپوں میں تقسیم ہو کر بیک وقت انیکسی اور کمپائنڈ کے مرکزی حصے پر حملہ آور ہوئے۔

سیلز کے گروپ نے کمپاؤنڈ کےاندر داخل ہوکراسامہ بن لادن پرفائرنگ کردی، اسامہ کو اس وقت کولی ماری گئی جب وہ گن ہاتھ میں لئے ایک الماری سے ہینڈ گربنڈ اٹھا چکے تھے۔ کمرے میں موجود اسامہ کی اہلیہ گولی لگنے سے زخمی ہو گئیں۔  اس سے پہلے کمپائنڈ میں موجود اسامہ بن لادن کا بیٹا اور انیکسی میں موجود دو بھائیوں اور ان میں سے ایک کی اہلیہ سیلز کی گولیوں کا نشانہ بن چکے تھے جبکہ دوسرے کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئی تھی۔ 

آپریشن کے آخر میں اسامہ بن لادن کی لاش کو چنوک ہیلی کاپٹر میں منتقل کیا گیا۔ جب کے آپریشن کے دوران کمپائنڈ میں موجود قیمتی اشیاء کی لوٹ مار کی گئی جن میں زیورات اور جوائرات بھی شامل تھے۔ سیلز نے یہ تمام اشیا ہیلی کپٹر میں پہنچائیں اور 36 منٹ میں آپریشن مکمل کرلیا۔ رات ایک بج کر 6 منٹ پر تین ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد سے روانہ ہو گئے۔ ایک ہیلی کپٹر آپریشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

آپریشن کے دوران گولیاں چلنے کی آواز اور دیگر نوعیت کے شور کی آواز سن کر لوگ جمع ہونے لگے تو باہرموجود مسلع افراد نے پشتو میں لوگوں کو اس مقام سے دور رہنے کا حکم دیتے رہے جس سے خوفزدہ ہوگے اور کوئی مقامی فرد جائے واقعہ کے قریب نہ جا سکا۔

 امریکی ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد سے ایک بج کر 6 منٹ پر روانہ ہوئے اور مقامی  پولیس اورفورسز کی موبائل گاڑیاں اس کے فوراً بعد  ایک بج کر 15 منٹ پر کمپاؤنڈ کے پاس پہنچ  گئیں۔ جنہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا۔

امریکی ہیلی کاپٹروں نے ایبٹ آباد سے پرواز کے بعد ایک بار پھر کالا ڈھاکہ اتر کر فیول حاصل کیا اور 150 میل کا فاصلہ طے کر کے 2 بج کر26 منٹ پر پاکستانی حدود سے نکل گئے۔

پاکستانی پولیس اور دیگر فورسسز کے اہلکار  کے کمپائنڈ پر پہچنے کے 52منٹ بعد اس واقعے کی پہلی اطلاع آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے 2 بج کر 7 منٹ پرایئرفورس کے چیف کو ٹیلی فون پر دی، اس وقت تک امریکی ہیلی کاپٹر پاکستانی حدود میں موجود تھے۔

آرمی چیف اورایئرچیف کے درمیان بات چیت کے 43 منٹ بعد پاکستانی ایف 16 طیاروں نے مصعف علی میر ایئربیس سے پرواز کی جس وقت امریکی ہیلی کاپٹرمجموعی طور پر 3 گھنٹےتک پاکستانی حدود میں رہنے کے بعد جلال آباد ائیر پورٹ پر لینڈ کر چکے تھے۔

  آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے 3 بجے وزیراعظم اورسیکرٹری خارجہ کو واقعے کی اطلاع دی۔ 5 بجے امریکی چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کو فون پر گفتگو کی۔ جس کے بعد  آرمی چیف نے 6 بج کر 45 منٹ پر صدرمملکت آصف علی زرداری کو فون پر صورتحال سے مطلع کیا۔