اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ثقافت یونیسکو نے مقبوضہ غرب اردن کے شہر الخلیل کو ایک مکمل اسلامی شہر قرار دیا ہے اور اس کے قدیمی حصے کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیل اور امریکا نے یونیسکو کے اس فیصلے پر سخت برہمی کا اطہار کیا ہے۔

یونیسکو کی ترجمان لوسیا اگلیسیاس نے بتایا کہ الخلیل کے قدیمی علاقے کو خطرے سے دوچارعلاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ ایک محفوظ علاقہ قرار پایا ہے۔ یونیسکو نے یہ فیصلہ فلسطینیوں کی جانب سے دی گئی ایک درخواست پر دیا ہے۔ الخلیل میں تقریباً دو لاکھ فلسطینی اور چند سو یہودی آباد کار رہتے ہیں۔ یونیسکو کے اس فیصلے میں اسے ایک مکمل اسلامی شہر قرار دیا گیا ہے۔
فلسطینوں نے اس اعلان پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور وہ اسے ایک سفارتی فتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسے اس ادارے کا ایک اور غلط اور حاسدانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔

یونیسکو کی ترجمان لوسیا اگلیسیاس نے بتایا کہ الخلیل کے قدیمی علاقے کو خطرے سے دوچارعلاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ ایک محفوظ علاقہ قرار پایا ہے۔ یونیسکو نے یہ فیصلہ فلسطینیوں کی جانب سے دی گئی ایک درخواست پر دیا ہے۔ الخلیل میں تقریباً دو لاکھ فلسطینی اور چند سو یہودی آباد کار رہتے ہیں۔ یونیسکو کے اس فیصلے میں اسے ایک مکمل اسلامی شہر قرار دیا گیا ہے۔
فلسطینوں نے اس اعلان پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور وہ اسے ایک سفارتی فتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسے اس ادارے کا ایک اور غلط اور حاسدانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔
ہیبرون
یاد رہے کہ یونیسکو کے پولینڈ کے دفتر میں اس سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ میں اسرائیل سفیر نے احتجاجاً حصہ نہیں لیا تھا۔
یاد رہے کہ یونیسکو کے پولینڈ کے دفتر میں اس سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ میں اسرائیل سفیر نے احتجاجاً حصہ نہیں لیا تھا۔